LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
خاران کے مغوی ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو بازیاب امریکہ اور جنوبی کوریا کے معاہدے میں مزید بہتری آگئی: ٹرمپ برطانیہ میں فضائی ٹریفک کنٹرول کے نظام میں خرابی، 2 ہزار سے زائد پروازیں متاثر رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ میں تجارتی خسارہ 10.79 ارب ڈالر تک پہنچ گیا حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے پہلے روز کے بعد اپوزیشن قیادت کی اہم بیٹھک سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، ہنڈرڈ انڈیکس منفی زون میں بند ہوا روپے کی قدر میں بہتری، انٹربینک میں ڈالر مزید سستا ہوگیا پُرتشدد انتشار، 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کیساتھ بلاامتیاز نمٹا جائیگا: کور کمانڈرز کانفرنس اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے فلسطین سمیت اہم امور پر مؤقف مدلل انداز میں پیش کیا: اسحاق ڈار وزیر خزانہ سے ورلڈ بینک کے وفد کی ملاقات، معاشی اصلاحات کا جائزہ لیا صومالی قزاقوں سے چار پاکستانی چھڑوا لیے، کل وطن پہنچیں گے: اسحاق ڈار الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 14 دسمبر کو کرانے کی تجویز دیدی وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور عالمی بینک کے وفد کی ملاقات، حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان ملاقات، تمام بات چیت راز میں رکھنے پر زور جماعت اسلامی نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا اعلان کردیا

انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے کیا ہے؟ سائنس دانوں نے پتہ لگا لیا

Web Desk

19 January 2026

سائنس دانوں نے انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے چھپی زمین کے بارے میں ایسی حیران کن تفصیلات دریافت کر لی ہیں جن کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ جدید نقشہ سازی اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے پہلی بار اس برف پوش براعظم کی اصل جغرافیائی ساخت واضح ہو گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق انٹارکٹیکا کی موٹی اور جمی ہوئی برف طویل عرصے سے اس کے نیچے موجود زمینی حقائق کو جاننے میں سب سے بڑی رکاوٹ رہی ہے۔ تاہم اب جدید ترین سائنسی طریقوں کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پا لیا گیا ہے۔

تحقیق میں سیٹلائٹ ڈیٹا، گلیشیئرز کی حرکت (Glacier Dynamics) اور برف کے دباؤ سے متعلق طبیعیاتی اصولوں کو استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے موجود زمین کا تفصیلی نقشہ تیار کیا گیا۔

تحقیقی نتائج کے مطابق برف کی موٹی تہوں کے نیچے ہزاروں پہاڑی چوٹیاں، گہری گھاٹیاں اور وسیع وادیاں دفن ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں بڑے پہاڑی سلسلے موجود ہیں جن کی ساخت دنیا کے دیگر بڑے پہاڑی نظاموں سے مماثلت رکھتی ہے۔

نقشہ سازی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض مقامات پر انتہائی تنگ اور گہری گھاٹیاں پائی جاتی ہیں، جبکہ کچھ علاقوں میں وسیع و عریض وادیاں موجود ہیں جو ممکنہ طور پر ماضی میں دریاؤں یا برفانی نظاموں کا حصہ رہی ہوں گی۔

سائنس دانوں کے مطابق یہ دریافت نہ صرف زمین کی جغرافیائی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ موسمیاتی تبدیلی، برف کے پگھلاؤ اور سمندری سطح میں اضافے سے متعلق تحقیق میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔