LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت کا پی ٹی ائی سے مذاکرات کا اعلان ،پیپلز پارٹی اور ن لیگ مشرکہ مذاکرات کرے گے بلاول بھٹو زرداری سے سندھ کے مختلف حکام اور سیاسی رہنماؤں کی ملاقاتیں پاکستان میں نیشنل مینٹل ہیلتھ پالیسی 2026-2035 کا اجرا بھارت نے ایک اور فالز فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھانڈا پھوڑ دیا ایران کا آبنائے ہرمز میں ایک اور امریکی زیرآب ڈرون قبضے میں لینے کا دعویٰ شام اور حزب اللہ کے درمیان بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی خفیہ ملاقات اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے کسی رہنما کی ملاقات نہ ہوسکی حقوق کی بازیابی کا سفر شروع، ناانصافیوں کے خاتمے کا آغاز ہو رہا ہے: فاروق ستار وقت آگیا کہ دنیا جان لے’پنک سالٹ‘ کس کا خزانہ ہے: مریم نواز گورنر راج یا ایمرجنسی کی افواہوں پر گہری تشویش ہے، تمام تر تحفظات کے باوجود مذاکرات کے لیے تیار ہیں: بیرسٹر گوہر جمہوری حکومت کبھی فاشسٹ نہیں ہوتی، ملک کو بحران سے نکالنے کی صلاحیت صرف بانی چیئرمین میں ہے: علامہ راجہ ناصر عباس افغانستان میں 36 سے زائد دہشت گرد گروہ موجود ہیں، ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی روکی جائے: ترجمان دفتر خارجہ غلطیاں ٹھیک کیے بغیر ترقی ممکن نہیں، معاشی چیلنجز کو اقدامات کی ضرورت ہے: وزیراعظم میر رضا کیس: انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع منظور وفاقی آئینی عدالت کے رولز جاری، اہم قانونی معاملات کی وضاحت

ناسا کا پرواز کے ڈیٹا کے تحفظ کیلئے فضا میں بلاک چین ٹیکنالوجی کا تجربہ

Web Desk

19 January 2026

واشنگٹن: امریکی خلائی ادارہ ناسا ہوابازی کے شعبے میں سائبر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے اور فضائی نظام کے حساس ڈیٹا کو چھیڑ چھاڑ اور خلل سے محفوظ رکھنے کے لیے بلاک چین ٹیکنالوجی کی آزمائش کر رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ناسا کے ایمز ریسرچ سینٹر میں حال ہی میں ایک تجربہ کیا گیا، جس میں ڈرونز کے ذریعے ڈی سینٹرلائزڈ ڈیٹا انفرا اسٹرکچر کی توثیق کی گئی۔ اس تجربے کا مقصد طیاروں اور گراؤنڈ کنٹرول کے درمیان مواصلاتی نظام کو زیادہ محفوظ اور قابل اعتماد بنانا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ اقدام ناسا کے ایئر ٹریفک مینجمنٹ اور سیفٹی پروگرام کا حصہ ہے، جو مستقبل میں فضائی نظام کو یکسر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تجربے کے دوران ترمیم شدہ Alta-X ڈرون کو کیلیفورنیا کے سلیکون ویلی میں واقع ایمز ریسرچ سینٹر میں معمول کے حالات میں اڑایا گیا۔ ڈرون میں ایک خصوصی نظام نصب تھا جس میں جی پی ایس ماڈیول، ریڈیو ٹرانسمیٹر اور بلاک چین سے منسلک کمپیوٹر سسٹم شامل تھا۔

ناسا کے مطابق اس تجربے کے ذریعے محققین کو یہ جانچنے کا موقع ملا کہ بلاک چین پر مبنی فریم ورک حقیقی آپریشنل ماحول میں کس حد تک مؤثر کارکردگی دکھاتا ہے۔

بلاک چین ٹیکنالوجی روایتی ڈیٹا بیس کے برعکس ایک ڈی سینٹرلائزڈ لیجر کے طور پر کام کرتی ہے، جس میں معلومات متعدد نظاموں میں محفوظ ہوتی ہیں اور ہر تبدیلی کو ریکارڈ اور تصدیق کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ پرواز سے متعلق ڈیٹا سائبر دباؤ یا حملوں کے باوجود مستند، ناقابلِ تبدیلی اور شفاف رہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ نظام ٹیلی میٹری، آپریٹر رجسٹریشن اور فلائٹ پلانز جیسے ہوابازی کے حساس ڈیٹا کی محفوظ اور حقیقی وقت میں ترسیل کو ممکن بناتا ہے، جبکہ صرف تصدیق شدہ اور قابل اعتماد صارفین کو ہی معلومات تک رسائی دی جاتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا ڈی سینٹرلائزڈ انفرا اسٹرکچر مستقبل میں خودکار گاڑیوں، شہری فضائی نقل و حرکت اور بلند فضائی آپریشنز کی معاونت کے لیے بھی بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔

ناسا کی رپورٹ کے مطابق تجربے کے دوران حقیقی سائبر حملوں کی نقل کرتے ہوئے متعدد ٹیسٹ کیے گئے، جن میں بلاک چین فریم ورک نے مضبوط اور مستحکم کارکردگی دکھائی اور پورے عمل کے دوران ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ رہا۔