LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
بھارت نے ایک اور فالز فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھانڈا پھوڑ دیا ایران کا آبنائے ہرمز میں ایک اور امریکی زیرآب ڈرون قبضے میں لینے کا دعویٰ شام اور حزب اللہ کے درمیان بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی خفیہ ملاقات اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے کسی رہنما کی ملاقات نہ ہوسکی حقوق کی بازیابی کا سفر شروع، ناانصافیوں کے خاتمے کا آغاز ہو رہا ہے: فاروق ستار وقت آگیا کہ دنیا جان لے’پنک سالٹ‘ کس کا خزانہ ہے: مریم نواز گورنر راج یا ایمرجنسی کی افواہوں پر گہری تشویش ہے، تمام تر تحفظات کے باوجود مذاکرات کے لیے تیار ہیں: بیرسٹر گوہر جمہوری حکومت کبھی فاشسٹ نہیں ہوتی، ملک کو بحران سے نکالنے کی صلاحیت صرف بانی چیئرمین میں ہے: علامہ راجہ ناصر عباس افغانستان میں 36 سے زائد دہشت گرد گروہ موجود ہیں، ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی روکی جائے: ترجمان دفتر خارجہ غلطیاں ٹھیک کیے بغیر ترقی ممکن نہیں، معاشی چیلنجز کو اقدامات کی ضرورت ہے: وزیراعظم میر رضا کیس: انکوائری کمیشن کی مدت میں توسیع منظور وفاقی آئینی عدالت کے رولز جاری، اہم قانونی معاملات کی وضاحت روس جوہری حملے کی دھمکیاں دینا بند کرے، نیٹو لانگ مارچ سے کبھی کوئی فائدہ ہوا اور نہ آئندہ ہوگا، مصطفی کمال معاشی ترقی میں سرمایہ کاروں کی شراکت ڈھائی سال میں دوگنا سے زائد بڑھ چکی ہے: وزیر خزانہ

اب روبوٹ بھی انسانوں کی طرح ’’درد‘‘ محسوس کر سکیں‌ گے!

Web Desk

6 January 2026

اب تک روبوٹس مختلف شعبوں میں انسانوں کی جگہ تو لے رہے تھے، مگر وہ انسانی حِسّیات خصوصاً درد کے احساس سے محروم تھے۔ تاہم اب چین میں تیار کی گئی ایک نئی مصنوعی جلد روبوٹس کو انسانوں کی طرح لمس اور درد محسوس کرنے کے قابل بنا دے گی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق ہانگ کانگ کی سٹی یونیورسٹی کے انجینئر یو یوگاؤ کی قیادت میں سائنسدانوں نے ایسی نیورومورفک مصنوعی جلد تیار کی ہے جو انسانی اعصابی نظام کی نقل کرتی ہے۔ یہ جلد چار فعال تہوں پر مشتمل ہے جو لمس کو برقی سگنلز میں تبدیل کرتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے انسانی اعصاب دماغ کو پیغام بھیجتے ہیں۔

سائنسدانوں کے مطابق ہلکے دباؤ کی صورت میں روبوٹ اسے عام لمس سمجھے گا، جبکہ دباؤ ایک خاص حد سے بڑھنے پر وہ اسے درد کے طور پر محسوس کرے گا اور انسانوں جیسا ردِعمل دے گا۔ مثال کے طور پر اگر روبوٹ کسی نوکیلی یا گرم چیز کو چھوئے تو وہ فوراً اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا لے گا۔

اس ٹیکنالوجی کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا ریفلیکس سسٹم ہے، جس کے تحت شدید درد یا چوٹ کی صورت میں سگنل براہِ راست روبوٹ کے موٹرز کو بھیجا جاتا ہے، اور دماغی ہدایات کے بغیر ہی فوری حرکت ممکن ہو جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ ایجاد مستقبل میں ہیلتھ کیئر، روبوٹک سرجری، صنعتی کاموں اور انسانی تعامل کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا سکتی ہے، جہاں محفوظ اور حساس روبوٹس کی ضرورت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔