دیہی نوجوان کی آواز بننے والے سلطان راہی کو بچھڑے 30 برس بیت گئے
Web Desk
9 January 2026
مظلوم دیہی نوجوان کی آواز بننے والے، پنجابی فلم انڈسٹری کے بے مثال اداکار سلطان راہی کو مداحوں سے بچھڑے تیس برس گزر چکے ہیں، مگر ان کا فن، کردار اور اثر آج بھی زندہ ہے۔
سلطان راہی 80 اور 90 کی دہائی میں پنجابی فلموں کے مقبول ترین ہیرو رہے۔ انہوں نے فلمی دنیا پر برسوں راج کیا اور 700 سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھا کر ایک عالمی ریکارڈ قائم کیا، جن میں سے تقریباً 500 فلموں میں وہ بطور ہیرو جلوہ گر ہوئے۔
فن کے سلطان نے اپنے کیریئر کا آغاز فلم باغی میں ایکسٹرا کے کردار سے کیا، تاہم پنجابی فلم بشیرا کی شاندار کامیابی نے انہیں سپر اسٹار بنا دیا۔ سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی کی جوڑی فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی، جبکہ بلاک بسٹر فلم مولا جٹ نے کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔
ان کی دیگر کامیاب فلموں میں بابل، سدھا رستہ، شریف بدمعاش، سالا صاحب، چن وریام، اتھرا پتر، پتر جگے دا، ملے گا ظلم دا بدلہ، وحشی جٹ، شیر خان، شعلے، آخری جنگ، جرنیل سنگھ، دو بیگھے زمین، شیراں دے پتر سمیت کئی یادگار فلمیں شامل ہیں۔
سلطان راہی کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہے اور انہیں ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں 150 سے زائد فلمی ایوارڈز سے نوازا گیا۔ انہوں نے آسیہ، انجمن، صائمہ، گوری، نیلی اور بابرہ شریف جیسی نامور اداکاراؤں کے ساتھ کام کیا۔
انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ 12 اگست 1981 کو ان کی پانچ فلمیں شیراں خاں، ظلم دا بدلہ، اتھرا پتر، چن وریام اور سالا صاحب ایک ہی دن ریلیز ہوئیں۔ سلطان راہی کے پانچ بچے ہیں، جن میں سے ایک حیدر سلطان نے اداکاری کے شعبے میں قدم رکھا۔ ان کی شہادت کے وقت بھی تقریباً 50 فلمیں زیرِ تکمیل تھیں۔
سلطان راہی نے بطور فائٹر فلم انڈسٹری میں قدم رکھا تھا اور عروج کے باوجود فائٹرز سے ان کی وابستگی برقرار رہی۔ انہوں نے فلم انڈسٹری کے فائٹرز کے لیے باقاعدہ وظیفہ مقرر کر رکھا تھا، جس کا علم چند قریبی افراد کے سوا کسی کو نہیں تھا۔
ذاتی زندگی میں سلطان راہی مذہب سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ وہ پانچ وقت کے نمازی، رمضان المبارک میں پابندی سے روزے رکھنے والے اور اللہ سے مضبوط تعلق رکھنے والے انسان تھے۔ انہوں نے اپنے ذاتی سرمائے سے کئی مساجد تعمیر کروائیں اور متعدد یتیم بچیوں کی شادیاں کروائیں۔ ایک موقع پر بالاکوٹ میں فلم شوٹنگ کے دوران بند مسجد دیکھ کر گاڑی رکوائی، تالے کھلوائے، فرش صاف کیا، اذان دی اور خود امامت کروائی۔
ان کی تلاوتِ کلام پاک اور نعتوں کی سی ڈیز بھی ریلیز ہوئیں، جنہیں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔
سلطان راہی کو 9 جنوری 1996 کو گوجرانوالہ بائی پاس پر ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر قتل کر دیا گیا تھا، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ 30 برس گزرنے کے باوجود ان کے قاتل قانون کی گرفت میں نہ آ سکے، جو انصاف کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
متعلقہ عنوانات
جھانوی کپور کی نامناسب تصاویر بنانے پر پاپا رازیوں سے ملاقات
22 October 2026
جرمن گیمنگ انفلوئنسر مینوئل اوٹو 30 سال کی عمر میں انتقال کر گئے
22 October 2026
سجاد علی کے بھائی وقار علی پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا
22 October 2026
لاہور: جعلی نمبر پلیٹ کا استعمال، یوٹیوبر رجب بٹ کی لینڈ کروزر تھانے بند، مقدمہ درج
21 October 2026
’دی راک‘ کے نئے لک کے پیچھے کیا راز ہے؟ اداکار کی حالت دیکھ کر مداح حیران
21 October 2026
ٹائیگر شروف حملہ آوروں کا اصل ہدف نہیں تھے، تفتیش میں اہم انکشاف
21 October 2026
نکاح نامہ پڑھے بغیر شادی نہ کریں، ونیزہ احمد کا خواتین کو اہم مشورہ
21 October 2026
مہوش حیات کا فنکاروں کو نجی زندگی کو سوشل میڈیا سے دور رکھنے کا مشورہ
20 October 2026