LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ دوبارہ فعال، یونیورسٹی روڈ پر کام کا آغاز ایران امریکا مذاکرات کے تناظر میں امریکی ٹیموں کی واپسی جاری، جڑواں شہروں میں سکیورٹی ہائی الرٹ وزیراعظم کا 120 ارب روپے سولر اسکینڈل پر ایکشن، 2 اعلیٰ سطح کی کمیٹیاں قائم سولر صارفین سے فیس وصولی پر نظرثانی کا فیصلہ، 25 کلوواٹ تک رعایت کی سفارش صومالیہ کے قریب بحری قزاقوں کا جہاز پر قبضہ، یرغمالیوں میں 11 پاکستانی شامل لندن میں ہراسانی کے واقعے پر علامہ طاہر اشرفی کا ردعمل سامنے آگیا سلطان عمان اور عباس عراقچی کی مسقط میں اہم ملاقات، خطے کی صورتحال پر مشاورت وائٹ ہاؤس ڈنر حملہ آور کی شناخت سامنے آگئی، گرفتار شخص ٹیچر اور گیم ڈویلپر ہے مشتبہ شخص نے 15گز دور سے حملے کی کوشش کی، واقعے کا ایران جنگ سے تعلق نہیں، ٹرمپ واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کی موجودگی میں عشائیے کے دوران فائرنگ، امریکی صدر محفوظ رہے ایرانی قیادت میں شدید اختلافات ہیں، مذاکرات کرناچاہتے ہیں تو ہمیں فون کریں، صدرٹرمپ وٹکوف اورکشنر کا دورہ پاکستان منسوخ، فیصلہ جنگ شروع کرنے کا اشارہ نہیں، امریکی صدر ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ مکمل کرکے اسلام آباد سے مسقط روانہ ایرانی وفدسے ملاقات کرکے خوشی ہوئی، سفارتی کردارجاری رکھیں گے، وزیراعظم وزیراعظم اورفیلڈمارشل سے ملاقاتوں میں جنگ کےمکمل خاتمے کےلیے موقف پیش کردیا، ایرانی وزیرخارجہ

وزیراعظم کا 120 ارب روپے سولر اسکینڈل پر ایکشن، 2 اعلیٰ سطح کی کمیٹیاں قائم

Web Desk

26 April 2026

وزیراعظم نے سولر پینلز کی درآمد میں مبینہ 120 ارب روپے کی زائد مالیت ظاہر کرنے کے اسکینڈل پر فوری ایکشن لیتے ہوئے دو اعلیٰ سطح کمیٹیاں قائم کردی ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق ایک کمیٹی نگرانی کے امور سرانجام دے گی جبکہ دوسری کمیٹی تحقیقات اور قانونی کارروائی کی ذمہ دار ہوگی۔

نگرانی کمیٹی کی سربراہی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان کریں گے جبکہ تحقیقات و قانونی پیروی کمیٹی کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل کسٹمز انٹیلیجنس رباب سکندر کے سپرد کی گئی ہے۔

کمیٹیوں میں اسٹیٹ بینک، وفاقی تحقیقاتی ادارے اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اندرونی آڈٹ رپورٹ میں سولر پینلز کی کلیئرنس کے دوران سنگین بے ضابطگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق صرف دس فیصد درآمدی کھیپ کے آڈٹ میں 120 ارب روپے کی مبینہ زائد مالیت ظاہر کرنے کا معاملہ سامنے آیا۔