LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا کنگ چارلس سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ملاقات، محسن نقوی سے کرکٹ اور امن پر گفتگو ایران کی نئی حکمت عملی امریکی مفادات کی بنیادیں ہلا دے گی: محسن رضائی محسن نقوی اور برطانوی وزیر مملکت اسٹیفن ڈوٹی کے درمیان اہم ملاقات ایران کے راستے غیر قانونی عراق جانیوالے 17 مسافروں کیخلاف مقدمہ درج عالمی شہرت یافتہ مصری قرّاء کرام پاکستان پہنچ گئے، وفاقی وزیر مذہبی امور کا خیر مقدم چینی صدر کی مصری ہم منصب سے ملاقات، مشرق وسطیٰ کے جامع حل پر زور آزاد کشمیر حکومت کا 100 روزہ اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کا اعلان ڈی آئی جی سی ٹی ڈی سجاد حسین حکومتی احکامات کی عدم تعمیل پر معطل لمپی سکن ڈیزیز، بروسیلا ویکسینز کا عطیہ، چینی حکومت کا تعاون قابل تحسین ہے: رانا تنویر حسین وفاقی کابینہ نے اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے نظام کی منظوری دے دی سندھ ہائیکورٹ کا کراچی کاٹن ایکسچینج کی عمارت فوری ڈی سیل کر کے قبضہ درخواست گزاروں کے حوالے کرنے کا حکم میر رضا کیس: جے آئی ٹی تشکیل دینے کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری بانی پی ٹی آئی سے رفقاء کی ملاقات کا دن، فہرست جیل حکام کے حوالے پاکستان امن عمل سے مایوس نہیں، فریقین مذاکرات کی طرف واپس آئیں گے: دفتر خارجہ

وزیراعظم کا 120 ارب روپے سولر اسکینڈل پر ایکشن، 2 اعلیٰ سطح کی کمیٹیاں قائم

Web Desk

26 April 2026

وزیراعظم نے سولر پینلز کی درآمد میں مبینہ 120 ارب روپے کی زائد مالیت ظاہر کرنے کے اسکینڈل پر فوری ایکشن لیتے ہوئے دو اعلیٰ سطح کمیٹیاں قائم کردی ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق ایک کمیٹی نگرانی کے امور سرانجام دے گی جبکہ دوسری کمیٹی تحقیقات اور قانونی کارروائی کی ذمہ دار ہوگی۔

نگرانی کمیٹی کی سربراہی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نبیل اعوان کریں گے جبکہ تحقیقات و قانونی پیروی کمیٹی کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل کسٹمز انٹیلیجنس رباب سکندر کے سپرد کی گئی ہے۔

کمیٹیوں میں اسٹیٹ بینک، وفاقی تحقیقاتی ادارے اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اندرونی آڈٹ رپورٹ میں سولر پینلز کی کلیئرنس کے دوران سنگین بے ضابطگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق صرف دس فیصد درآمدی کھیپ کے آڈٹ میں 120 ارب روپے کی مبینہ زائد مالیت ظاہر کرنے کا معاملہ سامنے آیا۔