LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سندھ بھر میں دفعہ 144 کی مدت میں توسیع، جلسے جلوس اور احتجاج پر پابندی برقرار امریکی مرکزی بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا،شرحِ سود برقرار ‘ایران جلد ہوش کے ناخن لے’، ٹرمپ نے بندوق تھامے ’اے آئی جنریٹڈ‘ فوٹو شیئر کردی پاکستان میں کرپشن بارے آئی ایم ایف رپورٹ معتصب، نامناسب ہے: چیئرمین نیب بلاول بھٹو زرداری سے ازبکستان کے نووئی ریجن کے گورنر کی ملاقات پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی، توسیع بھی کی گئی جو تاحال برقرار ہے: وزیراعظم پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت، پاک فوج کا بھرپور جواب وزیراعظم سے کابینہ ارکان کی ملاقاتیں،وزارتوں سے متعلقہ اُمور پر تبادلہ خیال وفاقی کابینہ کا اجلاس، مشرقِ وسطیٰ تنازع میں پاکستان کی کوششوں کا جائزہ بانی پی ٹی آئی بلاوجہ جیل میں ہیں، نظریہ قید نہیں کیا جا سکتا: سہیل آفریدی قدرتی آفات کے تباہ کن اثرات کم کرنے کیلئے مضبوط انفراسٹرکچر ناگزیر ہے: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 2 روز کی مندی کے بعد آج مثبت رجحان امریکا نے ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر پابندیاں عائد کر دیں پاکستان کرپٹو کونسل کا ایکسچینج کمپنیوں کو کرپٹو لائسنس جاری کرنے کا عندیہ پینٹاگون شاید صدر ٹرمپ کو ایران جنگ کی مکمل تصویر نہیں دکھا رہا، امریکی میڈیا کا انکشاف

امریکا معاہدے کی شرائط کے ابتدائی مرحلے میں ہی پیچھے ہٹ رہا ہے: ایران

Web Desk

9 April 2026

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدے کی شرائط سے ابتدائی مرحلے میں ہی پیچھے ہٹ رہا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ایرانی ترجمان نے امریکی صدارتی دفتر کی اس وضاحت پر سخت ردعمل دیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ لبنان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ اسماعیل بقائی نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ امریکہ کی جانب سے معاہدے سے پھرنے کی مثال نہیں ہے تو پھر اسے کیا نام دیا جائے۔

اسماعیل بقائی نے اپنے موقف کی تائید میں پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کا گزشتہ روز کا وہ بیان بھی شیئر کیا جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والا فوری جنگ بندی کا اتفاق لبنان سمیت تمام متاثرہ علاقوں پر یکساں لاگو ہوگا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق، امریکہ کا یہ دہرا معیار اور معاہدے کی من پسند تشریح خطے میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کر سکتی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ جامع امن تب ہی ممکن ہے جب معاہدے کی تمام شقوں پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل کیا جائے۔