LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر الیکشن: کوٹلی میں 2 پریزائیڈنگ افسران معطل، گرفتار کر لیا گیا رانا ثنا اللہ نے ایل اے 10 کوٹلی میں انتخاب روکنے کا مطالبہ کر دیا دشمن اب دباؤ کے ذریعے ایرانی قوم کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے، مشیر سپریم لیڈر ایران نے لبنانی جنگجوؤں کا دفاع اپنی سٹریٹجک پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے، ایرانی سپریم لیڈر کراچی: جمالی پل کے قریب منی ٹرک نے شہریوں کو کچل ڈالا، 3 افراد جاں بحق آبنائے ہرمز سے گزرنے والا آئل ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا کر تباہ بھارتی وزیرِ دفاع کے کشمیر سے متعلق اشتعال انگیز بیانات، پاکستان کی شدید مذمت لیگی قیادت حقیقی معنوں میں عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے، مریم اورنگزیب کیپٹن محمد سرور شہید کا 78واں یوم شہادت، مسلح افواج کے سربراہان کا خراج عقیدت جنوبی افریقہ میں فائرنگ، دو سگے بھائیوں سمیت چار پاکستانی جاں بحق یوکرین نے اسرائیل کے کہنے پر ایرانی جہاز کو نشانہ بنایا: عباس عراقچی بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملے ایرانی ایجنڈے کی تکمیل ہیں: یمنی وزیراعظم ٹرمپ نے ایران کو سفارتکاری کا موقع دینے کیلئے حملے روکے: مائیک والٹز اسحاق ڈار سے ڈائریکٹر جنرل آئی اے ای اے کا ٹیلی فونک رابطہ، مختلف امور پر تبادلہ خیال حیدرآباد میں بی آئی ایس پی مستحقین سے غیر قانونی کٹوتیوں میں ملوث 5 ملزمان گرفتار

استنبول اجلاس: غزہ کا انتظام فلسطینیوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ، مشترکہ اعلامیہ جاری

Web Desk

3 November 2025

استنبول میں غزہ کی صورتحال پر اہم اجلاس کے بعد ترکیے، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، پاکستان اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا۔ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ غزہ کا نظم و نسق فوری طور پر فلسطینی عوام کے منتخب نمائندوں کے سپرد کیا جائے۔

مشترکہ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ:

  • اسرائیل جنگ بندی کی مکمل پابندی کرے اور انسانی امداد کی فراہمی میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں۔
  • کم از کم 600 امدادی ٹرک اور 50 ایندھن بردار گاڑیوں کو بلاتعطل غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔
  • خطے میں پائیدار امن کا قیام فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت اور اُن کی قومی نمائندگی کو تسلیم کیے بغیر ممکن نہیں۔
  • غزہ کا سیاسی و انتظامی کنٹرول کسی بیرونی طاقت نہیں بلکہ مقامی فلسطینی اتھارٹی کے پاس ہونا چاہیے۔
  • غزہ میں ایک غیرجانبدار امن فورس تشکیل دی جائے جو فیلڈ میں امن کی نگرانی اور انسانی امداد کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

اعلامیے میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی فوج کے حملے جاری ہیں، اور حالیہ حملوں کے نتیجے میں اب تک تقریباً 250 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

اجلاس کا مقصد غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبے پر مشاورت تھا۔ اجلاس کے بعد ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ پر کام جاری ہے، اور مکمل فریم ورک تیار ہونے کے بعد ہی اس حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ اجلاس نہ صرف غزہ کے بحران کے حل کی طرف ایک اہم سفارتی قدم سمجھا جا رہا ہے بلکہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ عالمی مؤقف کی مضبوطی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔