LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ترکش پیٹرولیم پاکستان کے سمندروں میں آف شور ڈرلنگ کرنے جا رہی ہے: علی پرویز گڈز اور منی مزدا ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کا دوسرا روز، گاڑیوں کی روانگی معطل افغان حکومت اپنی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہونے دے، حافظ نعیم پاکستان، سعودیہ اور ترکیہ کا مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے بعد خصوصی نغمہ جاری مریم نواز سے ایم پی ایز کی ملاقات، سیاسی امور، عوامی فلاحی منصوبوں پر تبادلہ خیال کوسوو میں اپوزیشن رکن اسمبلی نے قائم مقام وزیراعظم پر انڈے پھینک دیے سعودی عرب اور یمن کی متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حملے کی مذمت آزاد جموں و کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل ہوگا آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام، ڈاکٹر معید یوسف کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست نائجیریا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ سے جنگل میں قید 308 افراد بازیاب صدر کا قدیم مقامی باشندگان کے حقوق، ثقافت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار کیریبین جزیرے میں واقع تاریخی آتش فشاں ماؤنٹ پیلے ایک بار پھر فعال اسماء جتک کو دھمکیوں اور اہل خانہ کے قتل کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم

خلا میں جدید نظام کے لیے بڑا قدم ,ٹیکنالوجی کمپنیوں کی دوڑ

Web Desk

8 November 2025

دنیا بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اب زمین سے آگے بڑھ کر خلا میں ڈیٹا مراکز قائم کرنے کی دوڑ میں شامل ہو گئی ہیں، ان کمپنیوں کا مقصد ایسے ڈیٹا سینٹرز بنانا ہے جو مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلیں اور زمین کے قدرتی وسائل پر بوجھ کم کریں۔

امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں سٹار کلاؤڈ نے حال ہی میں ایک چھوٹی سی مصنوعی سیارچہ (سیٹلائٹ) خلا میں بھیجی ہے، جس میں جدید کمپیوٹر چپ نصب ہے۔ یہ قدم مستقبل میں خلا میں مکمل ڈیٹا مراکز قائم کرنے کی سمت پہلا عملی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

کاروباری اداروں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے اے آئی ٹولز

ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہ فلپ جانسٹن کے مطابق آنے والے برسوں میں خلا میں ڈیٹا سینٹر قائم کرنا زمین پر تعمیر کرنے سے زیادہ مؤثر اور ماحول دوست ثابت ہو سکتا ہے، خلا میں سورج کی توانائی مسلسل دستیاب ہوتی ہے، جبکہ وہاں درجہ حرارت بھی کمپیوٹنگ کے لیے بہتر ماحول فراہم کرتا ہے۔

اس دوڑ میں بڑی عالمی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ایک معروف بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنی سن 2027 تک اپنی تجرباتی سیٹلائٹس خلا میں بھیجے گی تاکہ شمسی توانائی سے چلنے والے ڈیٹا نیٹ ورک کا تجربہ کیا جا سکے۔ اسی طرح ایک بڑی خلائی کمپنی اگلے سال اپنے نیٹ ورک کے ذریعے خلا میں ڈیٹا مراکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ماہرین کے مطابق خلا میں موجود سیٹلائٹ ڈیٹا مراکز لیزر ٹیکنالوجی کے ذریعے زمین سے جڑ سکتے ہیں، جس سے ڈیٹا کی رفتار میں زبردست اضافہ ممکن ہو گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ممکن ہے، لیکن فی الحال اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ تاہم جیسے جیسے راکٹ ٹیکنالوجی میں بہتری آ رہی ہے، توقع ہے کہ 2030 کی دہائی کے وسط تک خلا میں قائم ڈیٹا مراکز زمین پر موجود مراکز کے مقابلے میں لاگت کے لحاظ سے بھی بہتر ہو جائیں گے۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل میں ڈیٹا انفراسٹرکچر زمین سے باہر، خلا کی سمت منتقل ہو رہا ہے — اور یہی آنے والے دور کی ٹیکنالوجی اور معیشت کا نیا سنگِ میل ثابت ہوگا۔