LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امیر جماعت اسلامی کا مہنگائی کے خلاف تحریک اور ہڑتال کا اعلان: 15 مئی کو اسلام آباد میں بڑا احتجاج ہوگا لکی مروت کے سرائے نورنگ بازار میں دھماکہ، خاتون سمیت 8 افراد شہید، کئی زخمی نئے بجٹ کی تیاری: آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ گیا، معاشی اہداف اور ٹیکس تجاویز پر مذاکرات کل سے شروع ہوں گے اوپیک کی تیل کی پیداوار 26 سال کی کم ترین سطح پر آگئی وزیراعظم کا خوشحال گڑھ پل پر دہشت گردی ناکام بنانے والے شہید لیاقت کو خراجِ تحسین امریکی ٹی وی کی ایرانی طیاروں کی موجودگی کی خبر گمراہ کن ہے: دفتر خارجہ ملک بھر کے 79 اضلاع میں خصوصی انسدادِ پولیو مہم کا فیصلہ، پاکستان اور افغانستان میں بیک وقت آغاز ہوگا ٹرمپ کے دورہ چین سے قبل امریکی فضائیہ کے کارگو طیارے بیجنگ پہنچ گئے دوصوبے بدامنی کا گڑھ بن گئے، کیاہم صرف معرکہ حق کا جشن مناتے رہیں گے؟ مولانا فضل الرحمان راولپنڈی میں15روز کیلیے دفعہ 144نافذ، اڈیالہ اور اطراف کا علاقہ ریڈزون قرار ایک ہفتے میں عمران خان کا علاج اورملاقات نہ ہوئی توپارلیمنٹ نہیں چلنے دینگے، محموداچکزئی آبنائے ہرمزکھولنےکیلیےپروجیکٹ فریڈم وسیع پیمانے پر بحال کرسکتے ہیں، ٹرمپ  صدر زرداری سے وزیرِاعظم شہبازشریف کی ملاقات، صدر کی عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت برطانیہ نے ایران سےتعلق رکھنے والے 12افراد اوراداروں پرپابندیاں عائد کردیں آئی پی پیزکو آئندہ کےلیے دفن کردیا، بجلی سستی کرنے جارہےہیں، اویس لغاری

خلا میں جدید نظام کے لیے بڑا قدم ,ٹیکنالوجی کمپنیوں کی دوڑ

Web Desk

8 November 2025

دنیا بھر کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اب زمین سے آگے بڑھ کر خلا میں ڈیٹا مراکز قائم کرنے کی دوڑ میں شامل ہو گئی ہیں، ان کمپنیوں کا مقصد ایسے ڈیٹا سینٹرز بنانا ہے جو مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلیں اور زمین کے قدرتی وسائل پر بوجھ کم کریں۔

امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں سٹار کلاؤڈ نے حال ہی میں ایک چھوٹی سی مصنوعی سیارچہ (سیٹلائٹ) خلا میں بھیجی ہے، جس میں جدید کمپیوٹر چپ نصب ہے۔ یہ قدم مستقبل میں خلا میں مکمل ڈیٹا مراکز قائم کرنے کی سمت پہلا عملی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

کاروباری اداروں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے اے آئی ٹولز

ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سربراہ فلپ جانسٹن کے مطابق آنے والے برسوں میں خلا میں ڈیٹا سینٹر قائم کرنا زمین پر تعمیر کرنے سے زیادہ مؤثر اور ماحول دوست ثابت ہو سکتا ہے، خلا میں سورج کی توانائی مسلسل دستیاب ہوتی ہے، جبکہ وہاں درجہ حرارت بھی کمپیوٹنگ کے لیے بہتر ماحول فراہم کرتا ہے۔

اس دوڑ میں بڑی عالمی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ایک معروف بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنی سن 2027 تک اپنی تجرباتی سیٹلائٹس خلا میں بھیجے گی تاکہ شمسی توانائی سے چلنے والے ڈیٹا نیٹ ورک کا تجربہ کیا جا سکے۔ اسی طرح ایک بڑی خلائی کمپنی اگلے سال اپنے نیٹ ورک کے ذریعے خلا میں ڈیٹا مراکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ماہرین کے مطابق خلا میں موجود سیٹلائٹ ڈیٹا مراکز لیزر ٹیکنالوجی کے ذریعے زمین سے جڑ سکتے ہیں، جس سے ڈیٹا کی رفتار میں زبردست اضافہ ممکن ہو گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ممکن ہے، لیکن فی الحال اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ تاہم جیسے جیسے راکٹ ٹیکنالوجی میں بہتری آ رہی ہے، توقع ہے کہ 2030 کی دہائی کے وسط تک خلا میں قائم ڈیٹا مراکز زمین پر موجود مراکز کے مقابلے میں لاگت کے لحاظ سے بھی بہتر ہو جائیں گے۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل میں ڈیٹا انفراسٹرکچر زمین سے باہر، خلا کی سمت منتقل ہو رہا ہے — اور یہی آنے والے دور کی ٹیکنالوجی اور معیشت کا نیا سنگِ میل ثابت ہوگا۔