LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
مشہور گیم سٹک رن کے بانی مینوئل اوٹو نے لائیو سٹریم کے دوران خودکشی کر لی پنجاب میں 20 کلو آٹے کا تھیلا بند، سمگلنگ روکنے کیلئے کڑی نگرانی کا حکم سعودی عرب پر حوثیوں کا بیلسٹک میزائل حملہ ناکام، دفاعی نظام نے فضا میں تباہ کر دیا پاکستان اور کینیڈا کے طبی اداروں میں تعاون کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط طبی معائنے کے بعد نواز شریف وطن واپس، جاتی امراء روانگی چین میں زلزلے سے سینکڑوں مکان منہدم، 16 افراد ہلاک، پاکستان کی مدد کی پیشکش شوہر نے فٹبال میچ دیکھنے کی خاطر بیوی کو کرسی سے باندھ دیا بلوچستان کے شہر دالبندین اور ملحقہ علاقوں میں 5.1 شدت کا زلزلہ امریکی صدر ٹرمپ نے جلد ہی ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کا اشارہ دے دیا نیویارک انتخابات: ووٹر رجسٹریشن کی آخری تاریخ 24 اکتوبر، All About USA کی جانب سے رہنما ووٹر گائیڈ جاری نیویارک میں سینٹرل پارک کی تاریخی بگھیوں پر پابندی کا بل منظور، 2028 میں صنعت کا خاتمہ ہوگا کینیڈا اور ترکیہ میں دوطرفہ تعلقات کو سٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کا معاہدہ طے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ سے مزید 4 فلسطینی شہید سعودی معیشت پر حوثیوں کے حملوں کے اثرات فی الحال محدود ہیں، آئی ایم ایف جماعت اسلامی کا آج ملک کے 150 شہروں میں بیک وقت احتجاج اور دھرنوں کا اعلان

اپوزیشن کمیٹی میں متفق تھی، ایوان میں ڈرامے بازی کی: سندھ اسمبلی میں بلدیاتی ترامیم پر صوبائی وزیر ضیاء الحسن لنجار کی گفتگو

Web Desk

14 September 2026

سندھ کے وزیر قانون و داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے سندھ اسمبلی میں بلدیاتی ترمیمی ایکٹ پر اپوزیشن کے احتجاج کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بل باقاعدہ ایجنڈے کا حصہ تھا اور اس پر غور کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی گئی تھی، جس میں ایم کیو ایم، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے اراکین کو شامل کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بل کی ہر ایک شق پر کمیٹی کے اندر تفصیلی اور سیر حاصل بحث ہوئی، جہاں اپوزیشن نے اپنی ترامیم اور تجاویز پیش کیں جنہیں حکومت نے تسلیم بھی کیا۔ اگر انہیں بل پر کوئی واقعی اعتراض تھا تو وہ ایوان میں ہنگامہ آرائی کے بجائے بائیکاٹ کر سکتے تھے یا کمیٹی ہی میں اسے رد کرتے۔

صوبائی وزیر نے بل کی اہم ترامیم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے سے 120 دن قبل سندھ حکومت الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر آگاہ کرے گی تاکہ بروقت انتخابات کی تیاریاں شروع کی جا سکیں۔ الیکشن کا شیڈول جاری ہوتے ہی منتخب نمائندوں کے اختیارات سیز ہو کر الیکشن کمیشن اور آر اوز کو منتقل ہو جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایم کیو ایم کی تجویز 90 دن کی تھی جس پر اتفاق رائے سے 120 دن کی مدت طے کی گئی۔ اس کے علاوہ بل کے تحت ڈپٹی میئر اور وائس چیئرمین کو کنوینر کا درجہ دیا گیا ہے، جبکہ صوبائی فنانس کمیشن کے قیام اور ڈرافٹ کی تمام ترامیم پر بھی اتفاق ہوا تھا۔

ضیاء الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ دیگر صوبوں میں تو بلدیاتی الیکشن ہی نہیں ہو رہے جبکہ سندھ حکومت جمہوری تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے بروقت الیکشن کی خواہش مند ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈی ایچ اے سمیت تمام علاقوں میں ہمارے ہی شہری آباد ہیں جن کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ انہوں نے کمیشن کے سربراہ کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ جو بھی فیصلہ کریں گے، حکومت اس پر من و عن عملدرآمد یقینی بنائے گی۔