LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی عرب کی سلامتی کیلئے پُرعزم، حوثی ملیشیا حملے فوری بند کر دے: وزیراعظم سابق امریکی میجر کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت براہِ راست نشر ہوگی: پینٹاگون پی ٹی آئی سے مذاکرات میں بڑے بریک تھرو کی زیادہ امید نہیں: رانا ثناء اللہ دشمن سے طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے: ایران آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں زوردار دھماکوں کی اطلاعات برطانیہ کا اپنے شہریوں کو سعودی ایئرپورٹس کی طرف سفر نہ کرنے کا مشورہ امریکی صدر کا وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان موٹروے پولیس کی ایمانداری، شاہراہ پر ملنے والے لاکھوں روپے اصل مالک کے حوالے کر دیے روس کے شہر ارکتسک میں محقق کی ہلاکت: طاعون کے پھیلاؤ اور لیبارٹری حادثے کے تمام دعوے مسترد روسی صدر کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، علاقائی بحران کے حل میں مدد کی پیشکش برطانیہ میں امریکی اہلکاروں کے زیر استعمال ایئر بیس میں داخلے پر 2 افراد گرفتار امریکی خصوصی نمائندے سٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر کی آج یوکرینی حکام سے ملاقات طے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 اہلکار زخمی حوثیوں کے حملے، متعدد بین الاقوامی کمپنیوں کی سعودیہ کیلئے پروازیں معطل یورپی یونین کا بحیرہ احمر میں جہازوں کی حفاظت کیلئے بحری مشن مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ

شام حوثیوں کیخلاف لڑنے کیلئے یمن میں اپنی فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے، امریکی نیوز ویب سائٹ

Web Desk

7 October 2026

امریکی خبر رساں ویب سائٹ ‘ایگزیوس’ (Axios) نے 3 امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ شام نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جاری زمینی کارروائیوں میں حصہ لینے کے لیے اپنے 10 ہزار سے 20 ہزار فوجی بھیجنے پر غور شروع کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاض میں منعقدہ حالیہ اجلاس کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور شامی صدر احمد الشرع کے درمیان اس تجاویز پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

حکام کے مطابق سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی فورسز کی مدد اور دارالحکومت صنعا و باب المندب کو حوثیوں سے واگزار کرانے کے لیے شامی فوجی دستوں کو تعینات کرنے کی درخواست کی گئی ہے، جن میں دمشق کے قریب تعینات 90ویں ڈویژن اور 84ویں ڈویژن کے شامل ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اور امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے بھی ان مذاکرات پر مشاورت کی ہے اور امریکہ کو اصولی طور پر دو اہم اتحادیوں کے اس مجوزہ سیکیورٹی تعاون پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔