LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
دوسرے ملازم میں نمونیا کی غیر مصدقہ اطلاع، روس نے طاعون کی وبا کا امکان مسترد کردیا پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک ارب 21 کروڑ ڈالر کا سٹاف لیول معاہدہ طے خیبرپختونخوا میں گورنر راج نہیں نالائق حکومت مسلط ہے: فیصل کریم کنڈی سائبیریا میں طاعون کے مشتبہ کیس کی مانیٹرنگ شروع، ہر خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں: امریکی CDC جنگ میں بے گھر لبنانیوں کی مدد کیلئے حزب اللہ کو ایران سے 20 کروڑ ڈالر موصول حوثیوں کے سعودی ایئرپورٹس پر حملوں کی دھمکیاں، امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت روس کے یوکرین پر میزائل اور ڈرون حملے، بچوں سمیت 28 افراد ہلاک لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری امن فوج کی چوکی پر فائرنگ عالمی مالیاتی فنڈز کا جنگ سے متاثرہ یمن کیلئے 18 ماہ کا پروگرام منظور شام حوثیوں کیخلاف لڑنے کیلئے یمن میں اپنی فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے، امریکی نیوز ویب سائٹ روس میں طاعون کے دوسرے مشتبہ کیس کی اطلاعات، عالمی برادری شدید تشویش میں مبتلا روسی صدر پیوٹن نے امریکا سے کشیدگی کم کرنے کیلئے ایران کو معاونت کی پیشکش کر دی افغانستان میں تبدیلی ناگزیر اور بہت قریب ہے،گلبدین حکمت یار کیمسٹری کا نوبیل انعام فرانس اور جاپان کے سائنسدانوں نے جیت لیا کے پی دہشتگردی کی لپیٹ میں، سہیل آفریدی کو بانی کا مقدمہ لڑنے کی فکر ہے: شرجیل میمن

روس میں طاعون کے دوسرے مشتبہ کیس کی اطلاعات، عالمی برادری شدید تشویش میں مبتلا

Web Desk

7 October 2026

روس کے خطے سائبیریا کے شہر ارکوتسک (Irkutsk) میں واقع طاعون کے تحقیقی ادارے سے وابستہ 28 سالہ خاتون لیبارٹری ٹیکنیشن کی ہلاکت اور دیگر ملازمین کی علالت سے متعلق رپورٹس کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO)، امریکہ اور یورپی یونین نے صورتحال کی حساسیت کے پیشِ نظر روس سے شفاف معلومات اور حقائق شیئر کرنے کا باضابطہ مطالبہ کیا ہے، جبکہ پڑوسی ملک منگولیا نے روسی سرحد پر ہیلتھ مانیٹرنگ اور طبی نگرانی کے اقدامات سخت کر دیے ہیں।

روسی صحتِ عامہ کے ادارے ‘روس پوٹریب ناڈزور’ (Rospotrebnadzor) اور صحت حکام نے ان خبروں کو غلط معلومات قرار دیتے ہوئے طاعون کا بائیولوجیکل خطرہ رد کر دیا ہے۔ روسی حکام کے مطابق متوفیہ خاتون کی موت کسی خطرناک جراثیم کی برآمدگی کے بجائے ‘غیر معین نوعیت کے نمونیا’ (Pneumonia of unknown etiology) سے ہوئی ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ لیبارٹری ٹیسٹوں میں خطرناک وائرس یا طاعون کے جراثیم کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی دستیاب ڈاٹا کی روشنی میں ارکوتسک کے لیے خطرے کی سطح درمیانے سے کم جبکہ یورپ اور عالمی سطح کے لیے انتہائی کم قرار دی ہے۔