LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

روس میں طاعون کے دوسرے مشتبہ کیس کی اطلاعات، عالمی برادری شدید تشویش میں مبتلا

Web Desk

7 October 2026

روس کے خطے سائبیریا کے شہر ارکوتسک (Irkutsk) میں واقع طاعون کے تحقیقی ادارے سے وابستہ 28 سالہ خاتون لیبارٹری ٹیکنیشن کی ہلاکت اور دیگر ملازمین کی علالت سے متعلق رپورٹس کے بعد عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO)، امریکہ اور یورپی یونین نے صورتحال کی حساسیت کے پیشِ نظر روس سے شفاف معلومات اور حقائق شیئر کرنے کا باضابطہ مطالبہ کیا ہے، جبکہ پڑوسی ملک منگولیا نے روسی سرحد پر ہیلتھ مانیٹرنگ اور طبی نگرانی کے اقدامات سخت کر دیے ہیں।

روسی صحتِ عامہ کے ادارے ‘روس پوٹریب ناڈزور’ (Rospotrebnadzor) اور صحت حکام نے ان خبروں کو غلط معلومات قرار دیتے ہوئے طاعون کا بائیولوجیکل خطرہ رد کر دیا ہے۔ روسی حکام کے مطابق متوفیہ خاتون کی موت کسی خطرناک جراثیم کی برآمدگی کے بجائے ‘غیر معین نوعیت کے نمونیا’ (Pneumonia of unknown etiology) سے ہوئی ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ لیبارٹری ٹیسٹوں میں خطرناک وائرس یا طاعون کے جراثیم کی موجودگی ثابت نہیں ہوئی اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی دستیاب ڈاٹا کی روشنی میں ارکوتسک کے لیے خطرے کی سطح درمیانے سے کم جبکہ یورپ اور عالمی سطح کے لیے انتہائی کم قرار دی ہے۔