LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سابق امریکی میجر کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت براہِ راست نشر ہوگی: پینٹاگون پی ٹی آئی سے مذاکرات میں بڑے بریک تھرو کی زیادہ امید نہیں: رانا ثناء اللہ دشمن سے طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے: ایران آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں زوردار دھماکوں کی اطلاعات برطانیہ کا اپنے شہریوں کو سعودی ایئرپورٹس کی طرف سفر نہ کرنے کا مشورہ امریکی صدر کا وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان موٹروے پولیس کی ایمانداری، شاہراہ پر ملنے والے لاکھوں روپے اصل مالک کے حوالے کر دیے روس کے شہر ارکتسک میں محقق کی ہلاکت: طاعون کے پھیلاؤ اور لیبارٹری حادثے کے تمام دعوے مسترد روسی صدر کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، علاقائی بحران کے حل میں مدد کی پیشکش برطانیہ میں امریکی اہلکاروں کے زیر استعمال ایئر بیس میں داخلے پر 2 افراد گرفتار امریکی خصوصی نمائندے سٹیو وٹکاف اور جیرڈ کشنر کی آج یوکرینی حکام سے ملاقات طے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی ہلاک، 3 اہلکار زخمی حوثیوں کے حملے، متعدد بین الاقوامی کمپنیوں کی سعودیہ کیلئے پروازیں معطل یورپی یونین کا بحیرہ احمر میں جہازوں کی حفاظت کیلئے بحری مشن مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ امریکا کا وینزویلا کے معزول صدر نکولس اور انکی اہلیہ پر امریکی شہریوں پر تشدد کی سازش کا الزام

افغانستان میں تبدیلی ناگزیر اور بہت قریب ہے،گلبدین حکمت یار

Web Desk

7 October 2026

افغانستان کے سابق وزیراعظم اور حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے افغان طالبان کی موجودہ حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے ملک میں فوری طور پر اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کو منتقل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے। حامیوں سے آن لائن خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں سیاسی تبدیلی ناگزیر اور انتہائی قریب ہے، کیونکہ جس طرح ماضی میں سوویت یونین اور امریکہ کی زیرِ سرپرستی قائم ہونے والی حکومتیں زیادہ دیر قائم نہ رہ سکیں، اسی طرح طالبان کا موجودہ نظام بھی زیادہ عرصے نہیں چل سکے گا۔

گلبدین حکمت یار نے کہا کہ قومی و خارجہ پالیسی، بجٹ، اور جنگ و امن سے متعلق تمام اہم فیصلے منتخب اداروں اور عوامی کونسل کے ذریعے ہی کیے جانے چاہئیں۔ طالبان کو متنبہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب آپ اپنے مخالفین کو برداشت نہیں کر سکتے اور ان کے لیے ملک میں کوئی جگہ نہیں چھوڑتے، تو پھر یہی اصول آپ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ سابق وزیراعظم نے نشاندہی کی کہ طالبان حکومت شدید سیاسی تنہائی کا شکار ہے اور اس کے سابقہ حامی ممالک بھی اب ان کے ساتھ مکمل ہم آہنگ نہیں ہیں، جبکہ افغان عوام اس وقت شدید بے روزگاری، بدامنی اور غربت جیسے سنگین مسائل کی چکی میں پس رہے ہیں۔