LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو فنڈز جاری کئے جانے کی خبروں کی تردید پاکستان اور ایران کا مشترکہ ٹرانسپورٹ کمیٹی فعال کرنے پر اتفاق اسرائیل نے امریکا سے تل ابیب ایئرپورٹ خالی کرنے کی درخواست کر دی پاکستان عالمی سطح پر امن اور استحکام کی علامت بن رہا ہے، اسحاق ڈار صدر مملکت اور وزیراعظم کا وینزویلا میں زلزلے سے تباہی و نقصان پر اظہار افسوس ڈونلڈ ٹرمپ اور لاطینی امریکا کے ممالک کا وینزویلا کی مدد کا اعلان وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ، درجنوں عمارتیں منہدم، 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی آبنائے ہرمز سے گزرنے کیلئے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ساتھ کوآرڈینیشن لازمی ہے: ایران 9 محرم کے جلوس برآمد ہونا شروع، سکیورٹی ہائی الرٹ، موبائل فون سروس جزوی معطل آبنائے ہرمز کی ٹریفک معمول کی طرف واپس آ گئی ہے، میری ٹائم ٹریکر قطر و سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ، علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال برازیل نے سکاٹ لینڈ کو 0-3 سے شکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے میں جگہ بنا لی امریکہ سمیت مختلف ممالک میں 7.5 شدت کا زلزلہ، وینزویلا میں 10 ہزار سے زائد اموات کا خدشہ، سونامی وارننگ جاری اٹلی نے ایران جنگ میں امریکہ کو مدد فراہم کرنے کا نیٹو چیف کا بیان مسترد کر دیا مارک روٹے کا بیان جنگ میں نیٹو کی فعال شمولیت کا واضح اور سنگین اعتراف ہے، ایران

ورلڈ بائیسکل ڈے

Web Desk

3 June 2026

اسلام آباد: دنیا بھر میں آج 3 جون کو “ورلڈ بائیسکل ڈے” (عالمی یومِ سائیکل) منایا جا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد انسانی صحت، ماحولیاتی تحفظ اور معاشی بچت کے لیے سائیکل کی اہمیت اور پائیدار نقل و حمل کے طور پر اس کے کلیدی کردار کو اجاگر کرنا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے سال 2018ء میں اس دن کو عالمی سطح پر تسلیم کیا تھا تاکہ دنیا کو یہ یاد دلایا جا سکے کہ بائیسکل صرف ایک عام سواری نہیں بلکہ صحت مند طرزِ زندگی کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں، جہاں معاشی چیلنجز اور ایندھن کی قیمتیں عروج پر ہیں، سائیکل کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ صحت بخش ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی کم خرچ اور پائیدار سواری ہے۔

سائیکل کو انسانی تاریخ کی سب سے کامیاب اور ماحول دوست ایجادات میں شمار کیا جاتا ہے۔

 دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک، خصوصاً نیدرلینڈز، ڈنمارک اور جرمنی میں لاکھوں افراد آج بھی روزانہ اپنے دفاتر، تعلیمی اداروں اور دیگر مقامات تک پہنچنے کے لیے سائیکل کا باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی چند دہائیاں قبل تک سائیکل کو سب سے عام سواری سمجھا جاتا تھا، جسے طلبہ، مزدور، کسان اور سرکاری ملازمین بڑی تعداد میں سفر کے لیے استعمال کرتے تھے۔ تاہم، بعد میں ملک میں آنے والے ‘موٹر سائیکل انقلاب’ نے سائیکل کو ایک طرح سے قصہ پارینہ بنا دیا، اور آج کا دن ہمیں اسی مفید اور ماحول دوست روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

جدید دور میں جسمانی سرگرمیوں کی شدید کمی کے باعث موٹاپا، دل کے امراض، ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر جیسے ہیلتھ ایشوز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ماہرینِ صحت کے مطابق، سائیکل چلانا ایک ایسی مکمل جسمانی ورزش ہے جو جسم کے تمام حصوں کو متحرک کرتی ہےروزانہ 30 سے 45 منٹ سائیکل چلانے سے انسانی دل مضبوط ہوتا ہے، جسم میں خون کی گردش بہتر ہوتی ہے اور وزن متوازن رہتا ہے۔ سائیکلنگ کے دوران جسم سے ایسے ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ (اسٹریس)، بے چینی اور روزمرہ کی تھکن کو کم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں نوجوان نسل اور بچوں کا زیادہ تر وقت موبائل فونز، کمپیوٹر اور ڈیجیٹل آلات کے استعمال میں گزرتا ہے۔ اگر یہ بچے روزانہ کچھ وقت سائیکلنگ کے لیے مختص کریں، تو ان کی جسمانی اور ذہنی نشوونما میں واضح بہتری آ سکتی ہے

موجودہ دور میں دنیا کو ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستان کے بڑے شہر، بالخصوص لاہور، کراچی اور فیصل آباد فضائی آلودگی اور اسموگ کے مسائل سے شدید متاثر ہیں۔

گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سے خارج ہونے والا دھواں فضائی آلودگی، شور اور ٹریفک جام کا باعث بنتا ہے، جبکہ سائیکل ایک ایسی زیرو کاربن سواری ہے جو ماحول پر کسی قسم کا منفی اثر نہیں ڈالتی۔ اگر شہری علاقوں میں مختصر فاصلوں کے لیے سائیکل کے استعمال کو دوبارہ فروغ دیا جائے، تو نہ صرف فضائی آلودگی میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا اور ایندھن (پٹرول) کی مد میں بھاری مالی بچت بھی ممکن ہو سکے گی۔

سائیکل کے بے شمار فوائد کے باوجود ہمارے ملک میں اس کے استعمال میں کئی بڑی رکاوٹیں موجود ہیں، جن میں شہروں کی سڑکوں پر سائیکل سواروں کے لیے مخصوص لینز (Tracks) کی عدم موجودگی، سڑکوں کی خستہ حالی اور بے ہنگم ٹریفک شامل ہیں، جو لوگوں کو سائیکل چلانے سے روکتی ہیں۔

ورلڈ بائیسکل ڈے کے موقع پر ماہرینِ تعمیرات اور سماجی حلقوں نے زور دیا ہے کہ

  1. حکومتیں اور مقامی انتظامیہ اب اپنی شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) میں باقاعدہ “سائیکل ٹریکس” شامل کریں تاکہ لوگ محفوظ انداز میں سفر کر سکیں۔

  2. تعلیمی اداروں، پارکوں اور پبلک مقامات پر سائیکلنگ کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اسکولوں میں سائیکلنگ کے مقابلے اور آگاہی مہمات چلائی جائیں۔

  3. والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو شروع ہی سے ویڈیو گیمز کے بجائے سائیکلنگ کی طرف راغب کریں۔