LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیفا نے قطر کے فٹبالر عاصم مدیبو پر 5 میچز کی پابندی عائد کر دی گوگل سرچ ٹریفک کم ہونے کی وجہ سامنے آگئی ایران مذاکرات میں غیر معمولی رعایتیں دینے پر مجبور ہوگیا ہے، ٹرمپ کا دعویٰ میٹا نے کم قیمت ’اے آئی اسمارٹ چشمے‘ متعارف کرا دیے ایک ہزار عمرہ زائرین شاہ سلمان کے شاہی مہمان بنیں گے عالمی مالیاتی ادارے بارکلے نے پاکستان کے خودمختار ڈالر بانڈز کی درجہ بندی اپ گریڈ کر دی۔ اسرائیل نے خطے میں نیا محاذ کھولنے کی تیاری شروع کردی عالمی و مقامی گولڈ مارکیٹس میں ایک دن کے وقفے کے بعد سونے کی قیمتوں میں پھر بڑی کمی سوئٹزرلینڈ مذاکرات, 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کے اجرا کے لیے دستخط کو حتمی شکل دے دی گئی سلامتی کونسل نے “امن دستوں کیخلاف جرائم کا محاسبہ” قرارداد منظور کرلی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی، چیف جسٹس امین الدین خان کی روس میں عالمی قانونی فورم میں شرکت اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ کا رابطہ، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تبادلہ خیال ایرانی اور سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ، مذاکراتی عمل اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق ایران معاہدے کی پاسداری نہیں کرے گا تو مختلف آپشنز موجود ہیں: مارکو روبیو فیفا ورلڈ کپ کے ابتدائی دو راؤنڈز میں 5 ٹیمیں ٹورنامنٹ سے باہر

ویتنام تباہ کن سیلاب کی لپیٹ میں، 55 ہلاکتیں اور لاکھوں متاثر

Web Desk

22 November 2025

وسطی ویتنام شدید بارشوں اور تباہ کن سیلاب کی زد میں آگیا ہے، جہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 55 تک پہنچ گئی جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق طوفانی بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 13 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ وسطی ویتنام کے متعدد علاقوں میں گزشتہ ہفتے کے دوران بارش 1,900 ملی میٹر سے بھی تجاوز کر گئی، جو معمول سے کئی گنا زیادہ ہے۔

سب سے زیادہ تباہی ڈاک لک صوبے میں ریکارڈ کی گئی جہاں 27 افراد جان سے گئے، جب کہ کھان ہوا صوبے میں 14 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ سرکاری تخمینوں کے مطابق سیلاب نے ملک کی معیشت کو تقریباً 8.98 ٹریلین ڈونگ (445 ملین ڈالر) کا نقصان پہنچایا ہے۔

رپورٹس کے مطابق 2 لاکھ 35 ہزار سے زائد مکانات سیلابی پانی میں ڈوب گئے جبکہ 80 ہزار ایکڑ سے زیادہ رقبے پر کاشت کی گئی فصلیں مکمل طور پر متاثر ہوئیں۔ کافی کی فصلوں کا بڑا بیلٹ اور سیاحتی ساحلی مقامات بھی اس قدرتی آفت کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں، تاہم سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر ہلاکتوں اور نقصانات میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے۔