LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کی اسلام آباد ٹیکنالوجی پارک کی تعمیر جلد مکمل کرنے کی ہدایت بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے: سہیل آفریدی ٹرمپ نے عمان کو آبنائے ہرمز میں مداخلت پر حملے کی دھمکی دیدی چیف جسٹس سے انگلینڈ اینڈ ویلز ہائی کورٹ کے جج جسٹس کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملے گی: رانا ثناء اللہ وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت پولیس حملہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کر دیا پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل پشاور ہائیکورٹ کے 4 مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات

امریکا اور ایران کے درمیان تکنیکی مذاکرات بدستور جاری ہیں: امریکی نائب صدر کا دعویٰ

Web Desk

1 July 2026

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے مابین تکنیکی نوعیت کے اہم مذاکرات پسِ پردہ بدستور جاری ہیں اور یہ بات چیت پہلے سے طے شدہ سفارتی عمل کی بنیاد پر ہی آگے بڑھ رہی ہے۔

ایک بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورک کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے سفارت کار تکنیکی سطح پر مسلسل رابطے میں ہیں، جس کا بنیادی مقصد ماضی میں طے پانے والے امور پر پیش رفت کو یقینی بنانا اور خلیج سمیت دیگر عالمی معاملات کو آگے بڑھانا ہے۔

انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری ممکنہ مذاکرات سے متعلق ایران کی جانب سے عوامی سطح پر کی جانے والی تردید پر بھی کھل کر تبصرہ کیا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میرے نزدیک ایران کی جانب سے مذاکرات کی تردید کے ایسے بیانات دراصل ان کی مخصوص مذاکراتی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جسے ہم سفارتی زبان میں ‘فارسی طرزِ مذاکرات’ (Persian Style of Negotiation) کہہ سکتے ہیں۔ امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ یہ تکنیکی مذاکرات کسی نئے مرحلے کا آغاز ہرگز نہیں ہیں بلکہ یہ پہلے سے جاری سفارتی عمل کا ایک تسلسل ہیں، اور دونوں فریقین مختلف باریک تکنیکی معاملات پر ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

جے ڈی وینس کا یہ اہم بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے باضابطہ اور بڑے مذاکرات کا مرحلہ ابھی شروع نہیں ہوا۔ تاہم، ایران نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے رواں ہفتے دوحہ میں مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق تکنیکی بات چیت کے لیے اپنے ماہرین کا ایک وفد قطر روانہ کیا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ پسِ پردہ سفارتی چینلز مکمل طور پر فعال ہیں۔