امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ ، الیکشن کے بعد پہنچنے والے بیلٹ پیپرز بھی گنتی میں شامل کرنے کی اجازت، ریپبلکن پارٹی کی اپیل مسترد
Web Desk
30 June 2026
امریکی سپریم کورٹ نے ریپبلکن نیشنل کمیٹی (RNC) کی چیلنج پٹیشن کو مسترد کرتے ہوئے ایک بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ اگر ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے بیلٹ پیپرز (Mail-in Ballots) پر الیکشن کے دن یا اس سے پہلے کی تاریخ کی مہر (Postmark) لگی ہو، تو الیکشن کا دن گزر جانے کے بعد موصول ہونے پر بھی انتخابی حکام انہیں گنتی میں شامل کر سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے 5-4 کے اکثریتی فیصلے میں مسیسیپی ریاست کے اس قانون کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت الیکشن کے دن کے بعد بھی بیلٹ پیپرز قبول کیے جا سکتے ہیں۔ جسٹس ایمی کونی بیریٹ نے اکثریتی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے واضح کیا کہ مسیسیپی کا یہ قانون نومبر کے اوائل میں الیکشن کا دن مقرر کرنے والے وفاقی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے صدارتی سال میں انتخابی قوانین کے بڑے بحران کا خطرہ ٹل گیا ہے، اور مسیسیپی سمیت دیگر 13 امریکی ریاستوں (جن میں کیلیفورنیا، نیویارک اور ٹیکساس بھی شامل ہیں) میں یہ قانون نومبر میں ہونے والے مڈٹرم (ملی جلی) انتخابات میں نافذ رہے گا۔ اس فیصلے کو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جو طویل عرصے سے بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوتی ہے۔ دوسری جانب، اختلافی نوٹ لکھتے ہوئے قدامت پسند جسٹس سیموئل ایلیٹو نے دلیل دی کہ یہ فیصلہ انتخابات کی شفافیت کو متاثر کر سکتا ہے اور اس سے دھاندلی کے خطرات بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کا دن ایک مخصوص تاریخ کا نام ہے، نہ کہ کئی دنوں پر محیط کوئی دورانیہ۔
سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ ‘ٹروتھ سوشل’ پر اسے ایک “بہت بڑا نقصان” قرار دیا۔ انہوں نے کانگریس پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر ‘سیو امریکا ایکٹ’ (SAVE AMERICA Act) منظور کرے، جس کے تحت ووٹرز کے لیے تصویری شناختی کارڈ (Photo ID) اور شہریت کا ثبوت دکھانا لازمی ہوگا اور چند مخصوص حالات کے علاوہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز (ایوانِ نمائندگان) اس بل کو تین بار منظور کر چکا ہے لیکن سینیٹ ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ واضح رہے کہ امریکی میڈیا کے مطابق گزشتہ 2024 کے انتخابات میں لاکھوں لوگوں نے الیکشن کے دن کے بعد پہنچنے والے ان بیلٹس کے ذریعے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا تھا۔ اگر سپریم کورٹ ریپبلکن پارٹی کے حق میں فیصلہ دیتی تو سمندر پار رہنے والے امریکی شہریوں اور بالخصوص امریکی فوج کے ارکان کے ووٹوں کی قانونی حیثیت پر بھی سنگین سوالات کھڑے ہو جاتے۔
متعلقہ عنوانات
ڈیزل سستا ہونے کے بعد گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 10 فیصد کمی
20 August 2026
پٹرولیم لیوی واپس نہ لی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے: حافظ نعیم الرحمن
20 August 2026
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف حکومتی درخواست اعتراض لگا کر واپس
20 August 2026
حوثی حملے میں زخمی 6 پاکستانی ملاح وطن واپس، 2 میتیں بھی منتقل
20 August 2026
محنت اور خون پسینے کی کمائی کو رشوت کی نذر نہیں ہونے دیا جائے گا: مریم نواز
20 August 2026
وزیراعظم نے اپوزیشن کو معاملات طے کرنے کی دعوت دے دی
20 August 2026
ملائیشیا کے وزیر داخلہ 2 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے
20 August 2026
ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش، سیلاب کا خدشہ
20 August 2026