LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کو تباہی کے دہانے پر قرار دیدیا کیف میں دو یوکرینی سکیورٹی اداروں کے درمیان فائرنگ، 3 انٹیلی جنس اہلکار زخمی امریکا چاہتا ہے مڈٹرم الیکشن تک جنگ جاری رہے: برطانوی میڈیا چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری پیرس سے لندن پہنچ گئے بھارتی عدالتوں سے انصاف کی توقع نہیں، کشمیر کیلئے سزائے موت بھی قبول ہے: یاسین ملک امریکا نے کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا، امریکی نائب صدر نائب وزیراعظم سے افغانستان میں پاکستان کے سفیر کی ملاقات، علاقائی صورتحال پر گفتگو سانحہ پمز: وفاقی پولیس کی انکوائری رپورٹ مکمل، آئی جی اسلام آباد کو جمع آبنائے ہرمز ایران کی مرضی کے بغیر نہیں کھلے گی، ابراہیم عزیزی امریکی معیشت کیلئے تاریک مہینے آنے والے ہیں، ایرانی نائب صدر ایرانی قیادت اس وقت کمزور ترین حالت میں ہے، نیتن یاہو کا دعویٰ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، نوٹیفکیشن جاری ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر میڈیا رپورٹنگ کو غلط قرار دے دیا ازبکستان کی سینٹرم ایئر کا پاکستان کیلئے فضائی آپریشن شروع، پہلی پرواز کراچی پہنچ گئی اسحاق ڈار کا نومنتخب او آئی سی سیکریٹری جنرل سے رابطہ، عہدے سنبھالنے پر مبارکباد

ایران پر امریکی حملہ قانونی تھا یا نہیں؟ امریکا میں شدید بحث شروع

Web Desk

4 March 2026

ایران پر امریکی حملے کے بعد امریکا کے اندر اس اقدام کی قانونی حیثیت پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ کانگریس کو پیشگی اطلاع نہ دینے اور امریکی مفادات کے تحفظ سے متعلق مختلف حلقوں میں شدید اختلافِ رائے سامنے آ رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران پر حملے سے متعلق بااثر ارکان کو مطلع کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق خفیہ پارلیمانی گروپ ’’گینگ آف ایٹ‘‘ اور کانگریسی قیادت کو کارروائی سے آگاہ کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ’’گینگ آف ایٹ‘‘ کے رکن اور ڈیموکریٹ رہنما سینیٹر مارک وارنر نے موقف اختیار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکا کو کوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلوں میں شفافیت اور کانگریس کی مکمل شمولیت ضروری ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس معاملے پر آئندہ دنوں میں کانگریس میں مزید بحث اور ممکنہ قانونی کارروائی بھی زیر غور آ سکتی ہے۔