LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی ڈی ایف سی وفد سے ملاقات: زراعت، توانائی اور معدنیات میں تعاون کا اعادہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی ہم منصب سے ملاقات: اقتصادی تعاون اور امریکی سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق بھارتی نوجوانوں کی تحریک زور پکڑ گئی، ملک کے اندر اور باہر شدید احتجاج ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ کیلئے کانگریس سے مزید 87 ارب ڈالر مانگ لئے جوہری تنصیبات پر حملہ ہوا تو خطے میں امریکی اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بنائیں گے، ایران فرانسیسی ایئرلائن نے مشرق وسطیٰ کی پروازیں منسوخ کر دیں سعودیہ کا ملٹی پل عمرہ ویز متعارف، قیام کی انتہائی حد 90 روز مقرر آئی ایم ایف کا یوکرین کو 690 ملین ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان چین نے جاپانی کے نام نہاد تحفظات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا فلائی دبئی کی شام کے شہر حلب کیلئے روزانہ براہ راست پروازیں شروع اسرائیلی فوج کا غزہ میں مکان پر فضائی حملہ، فلسطینی میاں بیوی 4 بچوں سمیت شہید ایران جنگ میں امریکا کو جھونکنے والا اسرائیل پیچھے ہوگیا یوکرینی صدر نے فوج کے کمانڈر اِن چیف کو عہدے سے برطرف کر دیا ٹرمپ نے لبنان کیلئے براہ راست امریکی پروازیں بحال کرنے کی منظوری دے دی اربیل ایئرپورٹ میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر تمام پروازیں عارضی طور پر معطل

امریکا نے غزہ میں عالمی سیکیورٹی فورس کے قیام کی منظوری طلب کرلی

Web Desk

4 November 2025

امریکا نے اقوام متحدہ سے غزہ میں بین الاقوامی سیکیورٹی فورس (آئی ایس ایف) کے قیام کی منظوری طلب کرلی ہے، جس کا مینڈیٹ کم از کم 2 سال کے لیے ہوگا۔
امریکی ویب سائٹ ’ایکسِیوس‘ نے منگل کو رپورٹ کیا کہ امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے کئی رکن ممالک کو ایک ڈرافٹ قرارداد بھیجی ہے، جس میں غزہ کی پٹی میں سیکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے مجوزہ فورس کے قیام کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
ایکسِیوس (نے اس ڈرافٹ کی ایک کاپی حاصل کی) کے مطابق یہ قرارداد حساس مگر غیر خفیہ قرار دی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قرارداد امریکا اور دیگر شریک ممالک کو غزہ کے نظم و نسق کے لیے 2027 کے اختتام تک سیکیورٹی فورس تعینات کرنے کا وسیع اختیار دیتی ہے، اور اس مدت میں توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
یہ فورس ’غزہ بورڈ آف پیس‘ کے مشورے سے قائم کی جائے گی، جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بورڈ بھی کم از کم 2027 کے اختتام تک قائم رہے گا۔
تاہم، ایک امریکی عہدیدار نے ’ایکسِیوس‘ کو بتایا کہ آئی ایس ایف پرامن مشن نہیں بلکہ نفاذی فورس ہوگی، ہدف یہ ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں قرارداد پر ووٹنگ ہو جائے اور پہلے فوجی جنوری تک غزہ پہنچا دیے جائیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ ڈرافٹ سلامتی کونسل کے ارکان کے درمیان آئندہ مذاکرات کی بنیاد بنے گا، اس میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس ایف کو غزہ کی سرحدوں کی سیکیورٹی (اسرائیل اور مصر کے ساتھ)، عام شہریوں اور امدادی راہداریوں کے تحفظ، ایک نئی فلسطینی پولیس فورس کی تربیت اور شراکت داری کی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔
ڈرافٹ کے مطابق آئی ایس ایف غزہ میں سلامتی کو مستحکم کرنے کے لیے ذمہ دار ہوگی، جس میں غزہ پٹی کو غیر عسکری بنانا، عسکری و دہشت گرد انفرااسٹرکچر کی تباہی اور دوبارہ تعمیر کی روک تھام، غیر ریاستی مسلح گروہوں کے ہتھیار مستقل طور پر ضبط کرنا شامل ہوگا