LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر میڈیا رپورٹنگ کو غلط قرار دے دیا ازبکستان کی سینٹرم ایئر کا پاکستان کیلئے فضائی آپریشن شروع، پہلی پرواز کراچی پہنچ گئی اسحاق ڈار کا نومنتخب او آئی سی سیکریٹری جنرل سے رابطہ، عہدے سنبھالنے پر مبارکباد سندھ اسمبلی نے سندھ کی تقسیم کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی سندھ کی تقسیم کی بات بھی نہیں کی جاسکتی: مراد شاہ نے قومی اسمبلی کو خبردار کردیا شہباز شریف کا نیپالی سفارتخانے کا دورہ، سیلاب سے ہلاکتوں پر اظہار تعزیت مہمند ڈیم پاکستان کی واٹر، فوڈ اور انرجی سکیورٹی کیلئے اہم قومی منصوبہ ہے: چیئرمین واپڈا یومِ دفاع پر سائبر حملوں کا خدشہ، نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کی اہم ہدایات ٹرمپ اور اماراتی صدر کا ٹیلی فونک رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو امریکی حملوں میں شہید شہریوں کے خون کا حساب لیا جائے گا: پاسداران انقلاب نیتن یاہو کا ایرانی حکومت گرانے کیلئے کام جاری رکھنے کا اعلان پاکستان کی روسی مشرق بعید کے ساتھ تخلیقی معیشت میں تعاون بڑھانے کی تجویز مکہ معاہدہ پاکستان کی سفارتی تاریخ میں اہم سنگ میل ہے: ملک احمد خان سرکاری ہسپتالوں کی سہولیات پر اپوزیشن کی تحریک التوائے کار کثرت رائے سے مسترد نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا فیصلہ اسمبلیوں نے کرنا ہے: شرجیل میمن

امریکی حکومت کو ایک بار پھر جزوی شٹ ڈاؤن کا خطرہ

Web Desk

14 February 2026


امریکا میں ایک بار پھر جزوی حکومتی شٹ ڈاؤن کے خطرات منڈلانے لگے ہیں کیونکہ United States Senate محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کا فنڈنگ بل منظور کرنے میں ناکام رہا۔ امریکی میڈیا کے مطابق اگر بروقت منظوری نہ ملی تو محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی فنڈنگ آج رات ختم ہو جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق Department of Homeland Security کے ماتحت اداروں میں کام جاری رہے گا تاہم ملازمین کو تنخواہیں شٹ ڈاؤن کے خاتمے کے بعد ادا کی جائیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فنڈنگ تعطل سے سرحدی سکیورٹی، امیگریشن اور ہنگامی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کو محدود کرنے سے متعلق اہم اقدامات بھی منسوخ کر دیے ہیں۔ The White House کے مطابق اس فیصلے کو امریکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈی ریگولیشن قرار دیا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ نئے فیصلے سے گاڑیاں سستی ہوں گی اور کار ساز کمپنیوں کو فی گاڑی تقریباً 2400 ڈالر لاگت میں کمی کا فائدہ ہوگا۔ تاہم ماحولیاتی تنظیموں نے اس اقدام کو ماحول کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے اسے عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق فنڈنگ بحران اور ماحولیاتی پالیسی میں اچانک تبدیلی امریکی سیاست میں نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے۔