LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، نوٹیفکیشن جاری ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر میڈیا رپورٹنگ کو غلط قرار دے دیا ازبکستان کی سینٹرم ایئر کا پاکستان کیلئے فضائی آپریشن شروع، پہلی پرواز کراچی پہنچ گئی اسحاق ڈار کا نومنتخب او آئی سی سیکریٹری جنرل سے رابطہ، عہدے سنبھالنے پر مبارکباد سندھ اسمبلی نے سندھ کی تقسیم کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی سندھ کی تقسیم کی بات بھی نہیں کی جاسکتی: مراد شاہ نے قومی اسمبلی کو خبردار کردیا شہباز شریف کا نیپالی سفارتخانے کا دورہ، سیلاب سے ہلاکتوں پر اظہار تعزیت مہمند ڈیم پاکستان کی واٹر، فوڈ اور انرجی سکیورٹی کیلئے اہم قومی منصوبہ ہے: چیئرمین واپڈا یومِ دفاع پر سائبر حملوں کا خدشہ، نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کی اہم ہدایات ٹرمپ اور اماراتی صدر کا ٹیلی فونک رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو امریکی حملوں میں شہید شہریوں کے خون کا حساب لیا جائے گا: پاسداران انقلاب نیتن یاہو کا ایرانی حکومت گرانے کیلئے کام جاری رکھنے کا اعلان پاکستان کی روسی مشرق بعید کے ساتھ تخلیقی معیشت میں تعاون بڑھانے کی تجویز مکہ معاہدہ پاکستان کی سفارتی تاریخ میں اہم سنگ میل ہے: ملک احمد خان سرکاری ہسپتالوں کی سہولیات پر اپوزیشن کی تحریک التوائے کار کثرت رائے سے مسترد

سندھ کی تقسیم کی بات بھی نہیں کی جاسکتی: مراد شاہ نے قومی اسمبلی کو خبردار کردیا

Web Desk

3 September 2026

سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق پیپلز پارٹی کے رکن نثار کھوڑو کی پیش کردہ تحریک التوا پر چار روز کی بحث کے بعد سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کر لی گئی ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ کسی دوسرے فورم یا شہر میں بیٹھ کر نہیں کیا جا سکتا اور قومی اسمبلی سمیت تمام اداروں کو واضح ہونا چاہیے کہ سندھ کی تقسیم کی بات کرنا بھی ممکن نہیں۔ انہوں نے ایم کیو ایم کی سیاست کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مصطفیٰ کمال نئے انتظامی یونٹس کا مطالبات کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف ان کے ارکان اسمبلی میں کہتے ہیں کہ سندھ نہیں ٹوٹنا چاہیے، جو ان کے دوغلے پن کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ محض آبادی کو نئے صوبوں کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا، تاہم بہتر گورننس کے لیے انتظامی اصلاحات، نئے اضلاع کے قیام اور بلدیاتی اداروں کو مزید بااختیار بنانے کے لیے قانون سازی کی جا سکتی ہے