LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ فلک جاوید کی بازیابی کی درخواست مسترد گوادر اور لسبیلہ میں آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام 2026 کا اختتام پاکستانی بلیو اکانومی میں پیشرفت: سی فوڈز برآمدات تاریخ کی بلند ترین سطح پر سعودی عرب کی جانب سے ایران کو حوثی باغیوں کو لگام دینے کا پیغام پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بے قابو، مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ وزیراعظم اپنا گھر پروگرام: ہاؤسنگ فنانسنگ میں اہم پیش رفت، 351 ارب روپے کے قرضے منظور ہیلری کلنٹن نے ٹرمپ کو جھوٹ بولنے کے اولمپک چیمپئن قرار دے دیا برطانوی ادارے کا پاکستان کے ٹرانسمیشن سیکٹر میں سرمایہ کاری میں اظہار دلچسپی وزیراعظم سے گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد کی ملاقات، پولیو کے خاتمے، ڈیجیٹل ادائیگیوں پر گفتگو وزیر خزانہ سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اے سی سی اے گلوبل کی ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو قطر سے 81 ہزار 936 میٹرک ٹن ایل این جی لے کر جہاز پورٹ قاسم پہنچ گیا الجزائر کا متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ مشرقی چین میں مال بردار جہاز میں خوفناک آتشزدگی، 20 افراد ہلاک آزاد کشمیر کی ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ، اسحاق ڈار کی عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت ایران نے 27 ایئرلائنز پر امریکی پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دے دیا

امریکا کا مشرق وسطیٰ میں فوجی تنصیبات کی تعداد کم کرنے پر غور

Web Desk

9 September 2026

واشنگٹن: امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے اہلکاروں، انٹیلی جنس نیٹ ورک اور فوجی تنصیبات کی موجودگی میں نمایاں کمی کرنے کے حوالے سے مختلف لائحہ عمل اور تجاویز پر غور شروع کر دیا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے ایران کے ساتھ درپیش تنازع کے ممکنہ خاتمے کے بعد خطے میں امریکی اثر و رسوخ اور فوجی ڈھانچے کو محدود کرنے کی حکمت عملی پر کام کیا جا رہا ہے۔

تنازع اور ڈھانچے کی کمزوریاں: 9/11 کے واقعات کے بعد امریکا نے عراق، افغانستان، شام، ایران، یمن اور لیبیا میں کارروائیوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا وسیع نیٹ ورک قائم کیا تھا، تاہم ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی نے اس انفراسٹرکچر کی خامیوں اور کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔

موجودہ امریکی پیش قدمی: اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً 50,000 امریکی فوجی، 2 طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک درجن سے زائد دیگر جنگی بحری جہاز موجود ہیں، جبکہ واپس بلائے گئے سی آئی اے (CIA) اہلکاروں کو بھی دوبارہ خطے میں بھیجنے کی اطلاعات ہیں۔

زیرِ زمین تنصیبات کی منتقل: ڈرون اور میزائل حملوں سے بچاؤ اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے حساس امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو زیرِ زمین منتقل کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے، جس پر ایرانی حملوں کے بعد فوری عملدرآمد کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔

حکمتِ عملی میں تبدیلی: فوجی حکام نے آئندہ سال تک خطے میں امریکی فورسز کے مجموعی ڈھانچے میں ممکنہ بڑی تبدیلیوں کے لیے مختلف منصوبے تیار کر لیے ہیں، تاہم اس حوالے سے صدر ٹرمپ کی جانب سے تاحال کوئی واضح حتمی پالیسی سامنے نہیں آئی ہے۔