LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلاول کی دھمکی کام کرگئی، شہباز نے ہتھیار ڈال دیئے، پی پی کو گلگت میں حکومت بنانے کی دعوت غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف ، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا بجٹ 2026-27: پٹرولیم لیوی میں بڑے اضافے کی تجویز، ایل پی جی سمیت مختلف شعبے شامل غیر رجسٹرڈ سپلائرز سے خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کا بڑھانے کی تجویز بجٹ 2026-27: درآمدی اور بڑی گاڑیوں پر نئے ٹیکس، قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 18 ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش کردیا جائیداد کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز بجٹ میں تنخواہ دار افراد کیلئے بڑا ریلیف، ٹیکس شرح میں کمی کی تجویز سرکاری ملازمین کا شاہراہ دستور پر احتجاج، پارلیمنٹ ہاؤس جانے کی کوشش پر متعدد مظاہرین گرفتار امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت طے پا گئی، اتوار کو دستخط کا امکان وفاقی کابینہ نے مالی سال 27-2026 کیلئے بجٹ مسودے کی منظوری دیدی چیف جسٹس پاکستان کا بڑا فیصلہ؛ سپریم کورٹ میں نافذ ‘کفایت شعاری اقدامات’ ختم کرنے کا حکم، وزیراعظم شہباز شریف سے ایم کیو ایم کے وفد کی ملاقات، بجٹ پر تجاویز دیں وفاقی بجٹ آج پیش ہوگا، تخمینہ ساڑھے 17 ہزار ارب روپے، تنخواہ اور پنشن میں اضافہ متوقع سندھ حکومت کا بجٹ آئندہ ہفتے پیش کیے جانے کا امکان

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت طے پا گئی، اتوار کو دستخط کا امکان

Web Desk

12 June 2026

امریکی جریدے ’بلومبرگ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی ابتدائی مفاہمت طے پا گئی ہے، جس کے تحت تمام محاذوں پر 60 روزہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پیر سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں شروع ہونے والے جی سیون (G7) سمٹ سے قبل، اس مفاہمتی یادداشت پر اتوار کو دستخط ہونے کا قوی امکان ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ابتدائی معاہدے کے تحت فریقین درج ذیل اقدامات پر راضی ہوئے ہیں60 روزہ جنگ بندی کا اطلاق خطے کے تمام فعال محاذوں پر ہوگا۔ جنگ بندی کے اس دو ماہ کے دوران ایران کے جوہری پروگرام اور معاشی ایشوز پر حتمی مذاکرات جاری رہیں گے، تاہم ایران کے میزائل پروگرام پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کو ایران کے عملی اقدامات سے مشروط کیا جائے گا۔

ایرانی ذرائع کے مطابق، مفاہمتی یادداشت کے مسودے میں تہران نے اپنے سخت مطالبات شامل کروائے ہیں ایرانی تیل پر عائد تمام پابندیاں اٹھائی جائیں گی اور عالمی بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثے بحال کیے جائیں گے۔ ایران کے اطراف سے امریکی فوجیوں کا انخلا ہوگا اور خلیجِ عمان میں ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کر کے آبنائے ہرمز کو مکمل کھولا جائے گا۔

“امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی دستاویزات آخری مرحلے میں ہیں اور رواں ہفتے کے آخر تک اس ڈیل پر دستخط ہو جائیں گے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ: ‘مجھے پورا یقین ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اس معاہدے کی منظوری دے چکے ہیں، اور باضابطہ ڈیل پر دستخط کے ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، تاہم حتمی دستخط تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی’”۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ابھی کوئی حتمی فیصلہ یا سمجھوتہ طے نہیں پایا ہے، اگرچہ سفارتی رابطے مسلسل جاری ہیں۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ: “ہم ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔ یہ درست ہے کہ معاہدے کے متن کے ایک بڑے حصے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، لیکن ایران اپنے قومی مفادات اور ریڈ لائنز پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا”۔

عالمی معاشی اور جیو پولیٹیکل مبصرین کے مطابق، اگر اتوار کو جنیوا سمٹ سے قبل اس ڈیل پر دستخط ہو جاتے ہیں، تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور عالمی توانائی (تیل کی قیمتوں) کی مارکیٹ کے لیے ایک بہت بڑا بریک تھرو ثابت ہوگی۔