LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت پمز ہسپتال میں زیادہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں: طارق فضل چودھری سعودی کابینہ کا آبی گزرگاہوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور سیرتِ محمدیؐ کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہو گا، مریم نواز وزیراعظم کا پمز ہسپتال آتشزدگی کا نوٹس، واقعہ کی فوری تحقیقات کا حکم ملک بھر میں عید میلاد النبیﷺ مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے پنجاب اور شن جیانگ میں زراعت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق اسلام آباد کے پمز ہسپتال کے نرسری وارڈ میں آتشزدگی، 14 نومولود جاں بحق خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پوری انسانیت کیلیے رحمت بن کر تشریف لائے، محسن نقوی حضور نبی اکرم ﷺ کی آمد انسانیت کیلئے ہدایت کا ذریعہ ہے، گورنر پنجاب سیرت النبیﷺ پوری انسانیت کیلئے رحمت، عدل، امن کی ابدی روشنی ہے: بلاول بھٹو

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت طے پا گئی، اتوار کو دستخط کا امکان

Web Desk

12 June 2026

امریکی جریدے ’بلومبرگ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک تاریخی ابتدائی مفاہمت طے پا گئی ہے، جس کے تحت تمام محاذوں پر 60 روزہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پیر سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں شروع ہونے والے جی سیون (G7) سمٹ سے قبل، اس مفاہمتی یادداشت پر اتوار کو دستخط ہونے کا قوی امکان ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ابتدائی معاہدے کے تحت فریقین درج ذیل اقدامات پر راضی ہوئے ہیں60 روزہ جنگ بندی کا اطلاق خطے کے تمام فعال محاذوں پر ہوگا۔ جنگ بندی کے اس دو ماہ کے دوران ایران کے جوہری پروگرام اور معاشی ایشوز پر حتمی مذاکرات جاری رہیں گے، تاہم ایران کے میزائل پروگرام پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کو ایران کے عملی اقدامات سے مشروط کیا جائے گا۔

ایرانی ذرائع کے مطابق، مفاہمتی یادداشت کے مسودے میں تہران نے اپنے سخت مطالبات شامل کروائے ہیں ایرانی تیل پر عائد تمام پابندیاں اٹھائی جائیں گی اور عالمی بینکوں میں منجمد ایرانی اثاثے بحال کیے جائیں گے۔ ایران کے اطراف سے امریکی فوجیوں کا انخلا ہوگا اور خلیجِ عمان میں ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کر کے آبنائے ہرمز کو مکمل کھولا جائے گا۔

“امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی دستاویزات آخری مرحلے میں ہیں اور رواں ہفتے کے آخر تک اس ڈیل پر دستخط ہو جائیں گے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ: ‘مجھے پورا یقین ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اس معاہدے کی منظوری دے چکے ہیں، اور باضابطہ ڈیل پر دستخط کے ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، تاہم حتمی دستخط تک بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی’”۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ابھی کوئی حتمی فیصلہ یا سمجھوتہ طے نہیں پایا ہے، اگرچہ سفارتی رابطے مسلسل جاری ہیں۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ میں کہا کہ: “ہم ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔ یہ درست ہے کہ معاہدے کے متن کے ایک بڑے حصے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، لیکن ایران اپنے قومی مفادات اور ریڈ لائنز پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا”۔

عالمی معاشی اور جیو پولیٹیکل مبصرین کے مطابق، اگر اتوار کو جنیوا سمٹ سے قبل اس ڈیل پر دستخط ہو جاتے ہیں، تو یہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور عالمی توانائی (تیل کی قیمتوں) کی مارکیٹ کے لیے ایک بہت بڑا بریک تھرو ثابت ہوگی۔