LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹک ٹاکر شمسو قتل کیس کا ڈراپ سین، والد، بھائی سمیت 5 ملزمان گرفتار پنجاب میں 80 لاکھ بچیاں سکول نہیں جا رہیں: حافظ نعیم الرحمان کا دعویٰ نئے صوبوں سے کراچی کے مسائل حل ہوں گے: مصطفیٰ کمال عمران خان کے معائنے میں سپریم کورٹ کے حکم کی تمام ریکوائرمنٹس مکمل کیں: عطا تارڑ پینٹاگون پر تنقید، امریکی عسکری اخبار کے چیف ایڈیٹر، پبلشر اور رپورٹر برطرف فوجی حکمت عملی تبدیل، امریکی جارحیت کا جواب زیادہ وسیع ہوگا: ایرانی فوج امریکی عدالت کا بڑا فیصلہ، پاکستان سمیت 75 ممالک کی امیگرنٹ ویزا پابندی ختم کر دی امریکا ایران کشیدگی کم کرانے میں پاکستان کا کردار سراہا گیا: گورنر پنجاب وزیراعظم شہباز شریف آئندہ ماہ امریکا کا دورہ کریں گے وزیراعظم کی چھوٹے، درمیانے درجے کے کسانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کی ہدایت عمران خان کے علاج سے متعلق عدالتی فیصلہ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا: سہیل آفریدی کراچی کا یونیورسٹی روڈ 15 ستمبر تک 100 فیصد مکمل ہو جائے گا: شرجیل میمن پمز میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی سہولت فعال نہ ہونے پر وزیراعظم کا نوٹس، انکوائری کمیٹی قائم مکہ باہمی دفاعی معاہدے سے پاکستان کی علاقائی اہمیت میں اضافہ، ایف پی آئی ایف ٹرمپ کا جنوبی کیرولائنا کی ریلی میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان

امریکی عدالت کا بڑا فیصلہ، پاکستان سمیت 75 ممالک کی امیگرنٹ ویزا پابندی ختم کر دی

Web Desk

22 August 2026

نیویارک: امریکی وفاقی عدالت نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا کارروائی روکنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا۔

نیویارک کی وفاقی عدالت کی جج جینیٹ ورگاس نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ 75 ممالک کے شہریوں کی امیگرنٹ ویزا درخواستوں پر کارروائی روکنے کی پالیسی امریکی امیگریشن قانون سے متصادم ہے اور اسے نافذ کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا۔

یہ پالیسی جنوری 2026 میں نافذ کی گئی تھی، جس کے تحت پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کی امیگرنٹ ویزا درخواستوں پر کارروائی معطل کر دی گئی تھی۔ ان ممالک میں پاکستان کے علاوہ افغانستان، بنگلادیش، برازیل، مصر، ایران، عراق، نائجیریا، روس، صومالیہ، تھائی لینڈ اور یمن سمیت دیگر ممالک شامل تھے۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے اس پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کا مقصد ایسے ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن کی روک تھام ہے جو مستقبل میں امریکی عوامی وسائل پر بوجھ بن سکتے ہیں۔

تاہم جج جینیٹ ورگاس نے قرار دیا کہ کسی درخواست گزار کے امیگرنٹ ویزا کے معاملے میں صرف اس کے ملکِ پیدائش کی بنیاد پر فیصلہ کرنا قانونی طور پر درست نہیں۔ عدالت نے اس پالیسی کی بنیاد پر پہلے مسترد کیے گئے ویزا فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دے دیا ہے۔

یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کے لیے ایک بڑا قانونی دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی حکومت کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔