LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کا مؤقف مسلسل تبدیل، متضاد پیغامات سے مذاکرات پیچیدہ بنا رہا ہے: ایران امید ہے اس بار ہماری کوئی سیٹ چوری نہیں ہوگی: بلاول بھٹو یورپی یونین نے افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع کی حمایت کر دی 1126 ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ، جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 4 فیصد مقرر کرنے کی سفارش بجٹ 2026-27: چاروں صوبوں کے ترقیاتی پروگراموں کا مجموعی حجم 3,138 ارب روپے تجویز، پنجاب پہلے اور سندھ دوسرے نمبر پر پنجاب: پرائیویٹ جنریٹرز اور سولر پاور پر الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز منظور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کلاس کی دفتر خارجہ آمد مریم نواز کا بچوں کی کردار سازی میں والدین کی قربانیوں کو خراجِ تحسین ایران واقعی معاہدہ کرنا چاہتا ہے، ڈیل سے اتحادیوں کو بھی فائدہ ہوگا: ٹرمپ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران مندی کا رجحان پنجاب بھر میں لاپتہ تمام خواتین کو پندرہ روز میں بازیاب کروانے کی مہلت ریکارڈ تعداد میں امریکی شہریوں کا ملک چھوڑنے کا انکشاف, تارکینِ وطن کا ملک اب ہجرت کا گڑھ بننے لگا؟ بلاول بھٹو زرداری گلگت بلتستان کی انتخابی مہم کے لئے سکردو پہنچ گئے امریکا کے ایرانی فوجی ٹھکانوں پر حملے، جواب میں امریکی فضائی اڈا نشانہ آئل ٹینکر کے اغوا کو 40 دن مکمل، 10 پاکستانیوں سمیت کوئی رہا نہ ہوسکا

امریکا کے ایرانی فوجی ٹھکانوں پر حملے، جواب میں امریکی فضائی اڈا نشانہ

Web Desk

1 June 2026

مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے جنوبی ایران میں پاسدارانِ انقلاب کی عسکری تنصیبات پر بمباری کی ہے، جس کے فوراً بعد ایران نے جوابی حملے کیے ہیں، جبکہ پڑوسی ملک کویت میں میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث ہنگامی سائرن بج اٹھے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری ایک باضابطہ بیان میں تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے شہر گورُک اور جزیرہ قشم میں واقع ایرانی ریڈار اور ڈرون تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق، یہ کارروائی ایران کی ان حالیہ جارحانہ سرگرمیوں کا جواب ہے، جن میں بین الاقوامی پانیوں میں امریکی فوج کے ایک ‘MQ-1’ ڈرون کو نشانہ بنانا بھی شامل تھا۔

پینٹاگون کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، اس فضائی آپریشن کے دوران امریکی افواج نے خطے میں درج ذیل اہداف کو تباہ کیا:

  • ایرانی فضائی دفاعی نظام: حملے میں ایران کا ایک فضائی دفاعی نظام (Air Defense System) مکمل طور پر تباہ کیا گیا ہے۔

  • گراؤنڈ کنٹرول اسٹیشن: ڈرونز کو آپریٹ کرنے والا ایک اہم گراؤنڈ کنٹرول اسٹیشن بھی ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔

  • یک طرفہ حملہ آور ڈرونز: دو یک طرفہ حملہ آور ڈرونز (کامی کازی ڈرونز) کو بھی تباہ کیا گیا، جو سینٹ کام کے مطابق علاقائی سمندری راستوں سے گزرنے والے تجارتی اور جنگی جہازوں کے لیے واضح اور فوری خطرہ بنے ہوئے تھے۔

دوسری جانب، ایران کی طاقتور عسکری فورس ‘پاسدارانِ انقلاب’ نے امریکی کارروائی کے فوراً بعد جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

ایران کی سرکاری ‘فارس نیوز ایجنسی’ کے مطابق، آئی آر جی سی (IRGC) نے بیان جاری کیا ہے کہ جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان میں واقع جزیرہ سیریک کے ایک مواصلاتی ٹاور پر امریکی فوج کی جارحیت کے تقریباً ایک گھنٹے بعد، پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے جنگی طیاروں نے فضا میں اڑان بھری۔ ایرانی طیاروں نے اس مخصوص فضائی اڈے (Air Base) کو نشانہ بنایا جہاں سے جزیرہ سیریک پر حملہ کیا گیا تھا، اور دعویٰ کیا کہ کارروائی میں مقررہ اہداف کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان شروع ہونے والی اس براہِ راست فضائی جنگ کی لپیٹ میں خلیجی ملک کویت بھی آ گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، حملوں کے فوری بعد کویت بھر میں ہنگامی صورتحال کے سائرن بج اٹھے اور ملک کا فضائی دفاعی نظام (Air Defense System) ہائی الرٹ پر فعال کر دیا گیا۔

کویتی فوج کا ہنگامی اعلان: کویتی فوج کے جنرل اسٹاف نے پریس کانفرنس اور باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے ملکی عوام کو مطلع کیا ہے کہ ملک کا فضائی دفاع اس وقت آنے والے میزائل اور ڈرون حملوں کا بھرپور مقابلہ کر رہا ہے۔ فوج نے شہریوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں دھماکوں کی شدید آوازیں سنائی دیں، تو وہ دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی کارروائی کا نتیجہ ہیں، اس لیے عوام گھبرانے کے بجائے محتاط رہیں۔