خارگ جزیرے پر قبضے کی امریکی کوشش سے پورے خطے کی سلامتی متاثر ہونے کا خدشہ
Web Desk
12 June 2026
واشنگٹن / تہران: امریکہ کی جانب سے خلیجِ فارس میں واقع ایران کے انتہائی تزویراتی (Strategic) اور اہم ترین توانائی مرکز ‘خارگ جزیرے’ (Kharg Island) پر قبضے کی ممکنہ کوششوں کی خبروں نے بین الاقوامی سطح پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرینِ سیاست و خارجہ امور نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اس قسم کا کوئی بھی اقدام پورے خلیجی خطے (Gulf Region) کو ایک ایسی بھیانک جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے، جس کی لپیٹ میں مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک آ جائیں گے۔
“گلف انٹرنیشنل فورم” کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر دانیہ ظفر نے اس سنگین صورتحال اور ممکنہ امریکی پالیسی کے بھیانک اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہےدانیہ ظفر کے مطابق، اگر امریکی انتظامیہ واقعی ایران کے خارگ جزیرے پر قبضے یا اسے کنٹرول کرنے کی پالیسی اپناتی ہے، تو یہ صرف ایران اور امریکہ کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بہت بڑا بحران بن جائے گا۔ اس اقدام کے ردِعمل میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر براہِ راست میزائل یا ڈرون حملوں کا خطرہ غیر معمولی حد تک بڑھ جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ جنگ شروع ہونے کی صورت میں ایران صرف امریکی افواج تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ وہ امریکہ کے ساتھ ساتھ خطے میں موجود تمام امریکی اتحادی ممالک (خلیجی ریاستوں) اور وہاں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے عالمی معیشت اور تیل کی ترسیل مکمل طور پر جام ہو جائے گی۔
خارگ جزیرہ (Kharg Island) خلیجِ فارس میں واقع ایران کا سب سے بڑا اور کلیدی توانائی مرکز اور آئل ٹرمینل (Oil Terminal) ہے۔ ایران کی مجموعی خام تیل (Crude Oil) کی بین الاقوامی برآمدات کا ایک بہت بڑا اور بنیادی حصہ اسی جزیرے کے ذریعے دنیا بھر کی مارکیٹوں میں بھیجا جاتا ہے۔
خارجہ امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ خارگ جزیرے کی اسی غیر معمولی اقتصادی اور فوجی اہمیت کے باعث اگر اس پر آنچ آئی، تو ایران اسے اپنی بقا کا مسئلہ سمجھے گا اور آبنائے ہرمز سمیت پورے خلیجی تجارتی راستے کو بند کر کے ایک ایسی بڑی علاقائی جنگ شروع کر سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔
متعلقہ عنوانات
پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال
26 August 2026
پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری
26 August 2026
ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے
26 August 2026
علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال
26 August 2026
اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات
26 August 2026
پمز واقعہ: لاپرواہی ثابت ہوئی تو کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا، وفاقی وزیر صحت
26 August 2026
پمز ہسپتال میں زیادہ بچوں کی اموات دم گھٹنے سے ہوئیں: طارق فضل چودھری
26 August 2026
سعودی کابینہ کا آبی گزرگاہوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی ضرورت پر زور
26 August 2026