مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال، ماحولیات سے متعلق انتباہ جاری!
Web Desk
4 June 2026
نیویارک: اقوامِ متحدہ (UN) نے دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے اور بے لگام استعمال سے ماحول پر پڑنے والے سنگین اثرات کے حوالے سے ایک سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس چیلنج کا سنجیدگی سے سامنا کرے.
اقوامِ متحدہ کے مطابق، تیزی سے پھیلتی ہوئی یہ جدید ٹیکنالوجی دنیا بھر میں بجلی کی سپلائی، پانی کی طلب اور کاربن کے اخراج (Carbon Emissions) میں مسلسل اور خطرناک حد تک اضافہ کر رہی ہے، جو ماحولیاتی نظام کے لیے ایک نیا خطرہ بن کر ابھری ہے.
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو چلانے والے ڈیٹا سینٹرز (Data Centers) قدرتی وسائل کے بے تحاشہ استعمال کے لیے دنیا بھر میں بدنام ہو چکے ہیں۔ ان ڈیٹا سینٹرز کی کارکردگی برقرار رکھنے کے لیے درج ذیل عوامل ماحول پر اثر انداز ہو رہے ہیں ان ڈیٹا سینٹرز کو چوبیس گھنٹے فعال رکھنے اور چلانے کے لیے بجلی کی ایک بہت بڑی مقدار درکار ہوتی ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کے ہیوی سسٹمز اور کمپیوٹرز کو گرم ہونے سے بچانے اور انہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے روزانہ کروڑوں گیلن پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ ان بڑے اور جدید ترین سینٹرز کے قیام کے لیے وسیع اراضی (زمین) کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے جنگلات اور زرعی زمینیں متاثر ہو رہی ہیں۔
کینیڈا میں قائم یو این انسٹیٹیوٹ فار واٹر، انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ دستاویزی رپورٹ میں یہ چونکا دینے والی نشاندہی کی گئی ہے کہ اے آئی کا ماحولیاتی اثر صرف ڈیٹا سینٹرز تک ہی محدود نہیں ہے۔ بلکہ کمپیوٹر چپس کی پیچیدہ تیاری، نایاب اور قیمتی معدنیات کے بے دریغ استعمال اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے الیکٹرانک فضلے (E-Waste) کی صورت میں بھی یہ ٹیکنالوجی کرۂ ارض پر ایک بہت بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ بوجھ صرف اسمارٹ بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ دنیا بھر میں موجود اربوں صارفین کی روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی سرگرمیاں بھی اس ماحولیاتی دباؤ کو بڑھا رہی ہیں۔
صارف کی جانب سے اے آئی ٹولز سے پوچھا جانے والا ہر ایک سوال، ہر تحریری ہدایت (Prompt)، اس کے ذریعے تیار کی جانے والی ہر ایک تصویر اور ہر انٹرنیٹ سرچ کو انجام دینے کے لیے پسِ پردہ جو کمپیوٹنگ طاقت (Computing Power) استعمال ہوتی ہے، وہ براہِ راست ماحول پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے۔
ایڈوائزری رپورٹ میں دنیا بھر کی حکومتوں، بڑے کاروباری اداروں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے سرمایہ کاروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت سے متعلق کیے جانے والے اپنے ہر فیصلے میں ماحولیاتی عوامل کو بنیادی اور کلیدی اہمیت دیں۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ اس طاقتور ترین ٹیکنالوجی کی ترقی پائیدار (Sustainable) رہے اور یہ مستقبل میں انسانیت اور ماحول کے لیے کوئی ناقابلِ تلافی خطرہ نہ بن جائے۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح ون‘‘ کب چاند پر اترے گی، تاریخ کا اعلان
2 October 2026
گوگل نے نیا طاقتور اے آئی ماڈل ’جیمنائی 4 آرگون‘ متعارف کرا دیا
2 October 2026
امریکی حکومت کا نیا AI پورٹل ‘America.gov’ لانچ، جیمنائی اور گرک ماڈلز سے لیس چیٹ بوٹ متعارف
2 October 2026
دبئی میں بلاک چین لائف 2026ء، کرپٹو اور اے آئی دنیا کا بڑا اجتماع
1 October 2026
سائنسدان 3 لاکھ 15 ہزار سال قدیم انسان کا ڈیجیٹل چہرہ تشکیل دینے میں کامیاب
1 October 2026
بچوں میں سوشل میڈیا کا استعمال روکنے اور عمر کی تصدیق کا اختیار نہیں: پی ٹی اے
1 October 2026
فولڈ ایبل آئی فون کی فروخت سے متعلق اہم انکشاف!
1 October 2026
پاکستان میں G5 کی اوسط ڈاؤن لوڈ سپیڈ 127.74 ایم بی پی ایس ریکارڈ
30 September 2026