LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
جموں و کشمیرنہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اورنہ ہوگا، پاکستان آن لائن گیمز کے منفی اثرات، برطانیہ پلٹ نوجوان نے لاہور میں بینک لوٹ لیا سعودی عرب کے شہر نجران میں حوثیوں کا داغا گیا میزائل سکول سے ٹکرا گیا آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے کے راستے پر گامزن آئل ٹینکر پر میزائل حملہ پاکستان کا غزہ میں عالمی قانون کی پاسداری یقینی بنانے، کشمیریوں کے حق خودارادیت کا اعادہ اب تحمل کی پالیسی مزید برقرار نہیں رکھی جا سکتی، شہزادہ ترکی الفیصل اسلام آباد میں کسی کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سپیکر پنجاب اسمبلی سسٹم ری سیٹ ہونے والا ہے، چیزیں بہت بہتر ہو جائیں گی: محسن نقوی یورپی ممالک بھاری مقدار میں ڈیزل جاری کرنے پر تیار ہوگئے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ دوران پرواز کپتان پر حملہ کرنے والا شریک پائلٹ انتہا پسند تھا: امریکی اخبارکا دعویٰ محسن رضائی نے ٹرمپ کے ایران کیخلاف جنگ میں فتح کے دعوؤں کو مسترد کر دیا پاسداران انقلاب کا چابہار بندرگاہ کے قریب مبینہ دہشت گرد سیل تباہ کرنے کا دعویٰ حماس کی مالی معاونت کا الزام: امریکا نے 5 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کردیں جی سیون ممالک نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کیلئے اتفاق کر لیا: فرانسیسی صدر برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ، 2 پاؤنڈ فی لٹر تک پہنچ گئی

مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال، ماحولیات سے متعلق انتباہ جاری!

Web Desk

4 June 2026

نیویارک: اقوامِ متحدہ (UN) نے دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے اور بے لگام استعمال سے ماحول پر پڑنے والے سنگین اثرات کے حوالے سے ایک سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس چیلنج کا سنجیدگی سے سامنا کرے.

اقوامِ متحدہ کے مطابق، تیزی سے پھیلتی ہوئی یہ جدید ٹیکنالوجی دنیا بھر میں بجلی کی سپلائی، پانی کی طلب اور کاربن کے اخراج (Carbon Emissions) میں مسلسل اور خطرناک حد تک اضافہ کر رہی ہے، جو ماحولیاتی نظام کے لیے ایک نیا خطرہ بن کر ابھری ہے.

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو چلانے والے ڈیٹا سینٹرز (Data Centers) قدرتی وسائل کے بے تحاشہ استعمال کے لیے دنیا بھر میں بدنام ہو چکے ہیں۔ ان ڈیٹا سینٹرز کی کارکردگی برقرار رکھنے کے لیے درج ذیل عوامل ماحول پر اثر انداز ہو رہے ہیں ان ڈیٹا سینٹرز کو چوبیس گھنٹے فعال رکھنے اور چلانے کے لیے بجلی کی ایک بہت بڑی مقدار درکار ہوتی ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کے ہیوی سسٹمز اور کمپیوٹرز کو گرم ہونے سے بچانے اور انہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے روزانہ کروڑوں گیلن پانی استعمال کیا جاتا ہے۔ ان بڑے اور جدید ترین سینٹرز کے قیام کے لیے وسیع اراضی (زمین) کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے جنگلات اور زرعی زمینیں متاثر ہو رہی ہیں۔

کینیڈا میں قائم یو این انسٹیٹیوٹ فار واٹر، انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ دستاویزی رپورٹ میں یہ چونکا دینے والی نشاندہی کی گئی ہے کہ اے آئی کا ماحولیاتی اثر صرف ڈیٹا سینٹرز تک ہی محدود نہیں ہے۔ بلکہ کمپیوٹر چپس کی پیچیدہ تیاری، نایاب اور قیمتی معدنیات کے بے دریغ استعمال اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے الیکٹرانک فضلے (E-Waste) کی صورت میں بھی یہ ٹیکنالوجی کرۂ ارض پر ایک بہت بھاری بوجھ ڈال رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، یہ بوجھ صرف اسمارٹ بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ دنیا بھر میں موجود اربوں صارفین کی روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی سرگرمیاں بھی اس ماحولیاتی دباؤ کو بڑھا رہی ہیں۔

صارف کی جانب سے اے آئی ٹولز سے پوچھا جانے والا ہر ایک سوال، ہر تحریری ہدایت (Prompt)، اس کے ذریعے تیار کی جانے والی ہر ایک تصویر اور ہر انٹرنیٹ سرچ کو انجام دینے کے لیے پسِ پردہ جو کمپیوٹنگ طاقت (Computing Power) استعمال ہوتی ہے، وہ براہِ راست ماحول پر اضافی دباؤ ڈالتی ہے۔

ایڈوائزری رپورٹ میں دنیا بھر کی حکومتوں، بڑے کاروباری اداروں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے سرمایہ کاروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت سے متعلق کیے جانے والے اپنے ہر فیصلے میں ماحولیاتی عوامل کو بنیادی اور کلیدی اہمیت دیں۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ اس طاقتور ترین ٹیکنالوجی کی ترقی پائیدار (Sustainable) رہے اور یہ مستقبل میں انسانیت اور ماحول کے لیے کوئی ناقابلِ تلافی خطرہ نہ بن جائے۔