LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یمنی حوثیوں کا سعودی عرب سے جارحیت روکنے اور ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ ڈی جی پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی سروسز اکیڈمی اور ہیڈکوارٹرز کا دورہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ، چیف جسٹس کی بنیادی تنخواہ 15 لاکھ 50 ہزار مقرر جشن آزادی پر خصوصی تھر ڈیزرٹ ٹرین آج کراچی سے روانہ ہوگی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز کور کمانڈر بلوچستان کا پنجگور کا دورہ، مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح آئی ایس پی آر کی جانب سے ملی نغمہ میرا پیار ا وطن پاکستان ریلیز یومِ آزادی پر مسلح افواج کا وطن کے دفاع، امن اور روشن مستقبل کے عزم کا اعادہ مگرمچھ کا تیراک خاتون پر خوفناک حملہ، بازو کاٹنا پڑا افغان طالبان کی مسلسل حمایت سے پاکستان میں دہشت گرد حملے بڑھ گئے: اقوام متحدہ مسلسل اضافے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی بھارت میں دوبارہ سکھوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے، گرپتونت سنگھ پنوں دریائے سندھ میں چشمہ اور جناح بیراج پر دوبارہ نچلے درجے کا سیلاب چین کے مقامی ساختہ C919 طیارے کی پہلی بین الاقوامی پرواز مکمل سعودی عرب کی کولمبیا کی گولان ہائٹس پر اسرائیلی خود مختاری تسلیم کرنے کی مذمت

افغان طالبان کی مسلسل حمایت سے پاکستان میں دہشت گرد حملے بڑھ گئے: اقوام متحدہ

Web Desk

13 August 2026

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی 38ویں مانیٹرنگ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی مسلسل حمایت نے پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی تعداد اور ان کی ہلاکت خیزی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ 16 دسمبر 2025 سے 9 جون 2026 کے عرصے کا احاطہ کرنے والی اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کی عبوری حکومت کی دوہری حکمتِ عملی کے تحت ٹی ٹی پی کو نظریاتی و لاجسٹک حمایت اور پناہ گاہیں میسر ہیں، جبکہ جنگجوؤں کی افغانستان کے اندرونی علاقوں میں منتقلی سے اس کا بنیادی ڈھانچہ ختم نہیں ہوا۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے “ایئر فورس” کے قیام سمیت اپنے تنظیمی ڈھانچے کو بلوچستان، کشمیر اور گلگت تک وسعت دی ہے۔ علاوہ ازیں، رپورٹ میں ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش خراسان اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے درمیان مشترکہ تربیت، سہولت کاری اور لاجسٹک نیٹ ورکس کے خطرناک حد تک بڑھتے ہوئے عملی روابط کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔