LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

اقوام متحدہ کے سربراہ کی جنوبی لبنان میں امن دستے کے اہلکار کی ہلاکت کی مذمت

Web Desk

5 June 2026

نیویارک/بیروت: اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے جنوبی لبنان میں تعینات یو این امن مشن (UNIFIL) کے دستے پر ہونے والے حالیہ حملے اور اس کے نتیجے میں ایک امن اہلکار کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سیکرٹری جنرل اقوامِ متحدہ انتونیو گوتریس کے مرکزی ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، جنوبی لبنان میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس حملے میں اقوامِ متحدہ کے عبوری امن مشن کا ایک کارندہ جاں بحق جبکہ دو دیگر اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے خطے کی مخدوش صورتحال اور امن دستوں کو درپیش خطرات کے حوالے سے اہم تفصیلات شیئر کیں ترجمان نے بتایا کہ لبنان میں جاری حالیہ شدید کشیدگی اور فوجی کارروائیوں میں اضافے کے بعد سے اب تک اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے 7 اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ اسٹیفن دوجارک نے عالمی برادری اور متنازع فریقین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نیلے ہیلمٹ پہنے ان امن اہلکاروں پر گھناؤنے حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔

ترجمان نے حملے کی قانونی حیثیت پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ امن مشن کے قافلوں یا تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائیاں سلامتی کونسل کی تاریخی قرارداد 1701 کی بھی سنگین ترین خلاف ورزی ہیں، اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ایسے حملوں کو “جنگی جرائم” (War Crimes) کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے جس کے ذمہ داروں کا احتساب ناگزیر ہے۔