LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آئندہ مالی سال کا بجٹ 290 روپے فی ڈالر ریٹ پر بنے گا، وزارت خزانہ ثاقب چدھڑ پر مومنہ کو ہراساں کرنے کا مقدمہ درج، عبوری ضمانت منظور سپریم جوڈیشل کونسل، پالیسی ساز کمیٹی اور عدالتی کمیشن کے اجلاس طلب گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے لیے انتخابی مہم کا آج آخری روز پاک چین دوستی 75 برس بعد بھی اعتماد اور شراکت داری کی مضبوط مثال قرار ایران سے افزودہ یورینیم معاہدہ کیے بغیر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے: ٹرمپ اقوام متحدہ کے سربراہ کی جنوبی لبنان میں امن دستے کے اہلکار کی ہلاکت کی مذمت ٹرمپ کا بڑھتی کشیدگی کے باوجود ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ جی بی الیکشن کو پنجاب اور اسلام آباد سے مینج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے حسن مرتضی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم اجلاس 8 جون کو طلب ہر ہائی کورٹ آزاد ، سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت نہیں: جسٹس عامر فاروق شرجیل میمن کی محسن نقوی سے ملاقات، وفاق اور سندھ تعاون پر اتفاق پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے چناب پر اپنے حقوق کی حفاظت کرے گا: دفتر خارجہ بجلی، گیس کی غیر علانیہ لوڈشیڈنگ پر درخواست جھوٹی قرار، جرمانہ عائد پنجاب: آئندہ مالی سال میں کاشتکاروں کو 20 ہزار گرین ٹریکٹر دینے کی ہدایت

اقوام متحدہ کے سربراہ کی جنوبی لبنان میں امن دستے کے اہلکار کی ہلاکت کی مذمت

Web Desk

5 June 2026

نیویارک/بیروت: اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے جنوبی لبنان میں تعینات یو این امن مشن (UNIFIL) کے دستے پر ہونے والے حالیہ حملے اور اس کے نتیجے میں ایک امن اہلکار کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سیکرٹری جنرل اقوامِ متحدہ انتونیو گوتریس کے مرکزی ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، جنوبی لبنان میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس حملے میں اقوامِ متحدہ کے عبوری امن مشن کا ایک کارندہ جاں بحق جبکہ دو دیگر اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے خطے کی مخدوش صورتحال اور امن دستوں کو درپیش خطرات کے حوالے سے اہم تفصیلات شیئر کیں ترجمان نے بتایا کہ لبنان میں جاری حالیہ شدید کشیدگی اور فوجی کارروائیوں میں اضافے کے بعد سے اب تک اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے 7 اہلکار اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ اسٹیفن دوجارک نے عالمی برادری اور متنازع فریقین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نیلے ہیلمٹ پہنے ان امن اہلکاروں پر گھناؤنے حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں۔

ترجمان نے حملے کی قانونی حیثیت پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ امن مشن کے قافلوں یا تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائیاں سلامتی کونسل کی تاریخی قرارداد 1701 کی بھی سنگین ترین خلاف ورزی ہیں، اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ایسے حملوں کو “جنگی جرائم” (War Crimes) کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے جس کے ذمہ داروں کا احتساب ناگزیر ہے۔