LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات میں نیا سنگِ میل، اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں سے مالی گوشوارے طلب کر لیے امریکا سے لڑائی کے باوجود ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے: ایران پاکستان اور کینیڈا کے درمیان ترجیحی شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق عمران خان سے ملاقاتوں کا کیس: عدالت کا جیل انتظامیہ سے ریکارڈ پیش کرنے کا حکم امریکا کا بوشہر میں زیر تعمیر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملہ خطے کیلئے خطرناک ہے: ایران وفاقی حکومت کا کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ شہباز شریف کے ہتکِ عزت دعوے کا کیس، وکیل کی درخواست پر دلائل طلب قائمہ کمیٹیوں میں واپسی کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی کی منظوری سے مشروط عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ کاروباری ہفتے کے پہلے روز سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی کا رجحان ایران مختلف ذرائع سے مذاکرات کی خواہش کا اشارہ دے رہا ہے: امریکی وزیر خارجہ وزیراعظم کی قومی ترقیاتی منصوبوں کو بروقت اعلیٰ معیار کیساتھ مکمل کرنے کی ہدایت مال بردار ٹرین کی بوگیاں ڈی ریل ہونے سے ٹریک تاحال بند، بحالی کا کام جاری امریکی فوجیوں کو مارنے کے جواب میں ہم نے آج ایران پر شدید حملہ کیا: ٹرمپ

برطانیہ کا تارکینِ وطن کے لیے سخت نئی پالیسیوں کا اعلان

Web Desk

17 November 2025

لندن: برطانوی حکومت نے امیگریشن قوانین مزید سخت کرتے ہوئے تارکینِ وطن کے لیے مستقبل پناہ کا نظام ختم کرنے اور رہائش کے دورانیے میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق وزارتِ داخلہ نے نئی امیگریشن پالیسی جاری کرتے ہوئے بتایا کہ سیاسی پناہ کا دورانیہ پانچ سال سے کم کرکے 30 ماہ کر دیا گیا ہے، جبکہ مستقبل پناہ کا اسٹیٹس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اب تارکینِ وطن کو اپنے ملک میں محفوظ واپسی تک عارضی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق درخواست منظور ہونے کے بعد پناہ گزینوں کو برطانیہ میں 30 ماہ قیام کی اجازت ملے گی۔ نئی پالیسی کے تحت وہ 20 سال بعد طویل المدتی رہائش کے لیے درخواست دے سکیں گے، جبکہ اس سے قبل یہ شرط پانچ سال تھی۔

سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پناہ گزین اسٹیٹس کی مدت بھی کم کر کے 30 ماہ مقرر کی جا رہی ہے، جس کا مقصد غیر قانونی امیگریشن کو روکنا ہے۔

برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ “پناہ گزینوں کے لیے گولڈ ٹکٹ اب ختم ہو رہا ہے”، حکومت کا مقصد غیر قانونی طریقے سے برطانیہ پہنچنے والوں کی تعداد کم کرنا ہے۔ ان کے مطابق غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت کے بعد انہیں واپس بھیجا جائے گا۔