LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے 6ایئرپورٹس کھل گئے، فضائی حدود50روزبعد جزوی بحال ایرانی بحریہ دشمنوں کو شکست دینے کےلیے تیارہے، مجتبیٰ خامنہ ای امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں گریجوایٹ کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ تقریب اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.5 ریکارڈ امریکا نے روسی تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں مزید ایک مہینے کیلئے ہٹا دیں کراچی سے پہلی حج پرواز 160 عازمین کے ساتھ حجازِ مقدس روانہ ایران، امریکا اختلافات برقرار، جنگ بندی میں توسیع اور ابتدائی ڈیل کی امید آبنائے ہرمز کی بحالی : پاسدارانِ انقلاب کی جہازوں کے لیے نئی شرائط

برطانیہ کا تارکینِ وطن کے لیے سخت نئی پالیسیوں کا اعلان

Web Desk

17 November 2025

لندن: برطانوی حکومت نے امیگریشن قوانین مزید سخت کرتے ہوئے تارکینِ وطن کے لیے مستقبل پناہ کا نظام ختم کرنے اور رہائش کے دورانیے میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق وزارتِ داخلہ نے نئی امیگریشن پالیسی جاری کرتے ہوئے بتایا کہ سیاسی پناہ کا دورانیہ پانچ سال سے کم کرکے 30 ماہ کر دیا گیا ہے، جبکہ مستقبل پناہ کا اسٹیٹس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اب تارکینِ وطن کو اپنے ملک میں محفوظ واپسی تک عارضی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق درخواست منظور ہونے کے بعد پناہ گزینوں کو برطانیہ میں 30 ماہ قیام کی اجازت ملے گی۔ نئی پالیسی کے تحت وہ 20 سال بعد طویل المدتی رہائش کے لیے درخواست دے سکیں گے، جبکہ اس سے قبل یہ شرط پانچ سال تھی۔

سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پناہ گزین اسٹیٹس کی مدت بھی کم کر کے 30 ماہ مقرر کی جا رہی ہے، جس کا مقصد غیر قانونی امیگریشن کو روکنا ہے۔

برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ “پناہ گزینوں کے لیے گولڈ ٹکٹ اب ختم ہو رہا ہے”، حکومت کا مقصد غیر قانونی طریقے سے برطانیہ پہنچنے والوں کی تعداد کم کرنا ہے۔ ان کے مطابق غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت کے بعد انہیں واپس بھیجا جائے گا۔