LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، روس فیلڈ مارشل کی جنگی لباس میں سعودی ولی عہد سے ملاقات غیر معمولی اہمیت کی حامل قرار لکی مروت میں دھماکا، ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہلکار شہید اسرائیل پر تازہ میزائل حملوں میں درجنوں افراد زخمی، متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو انخلا کی ہدایت پنجاب میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے: عظمیٰ بخاری جمعة الوداع کے اجتماعات، یوم القدس کی ریلیاں، سکیورٹی ہائی الرٹ ایران کے اسرائیل پر نئے میزائل و ڈرون حملے، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے بڑھ گئیں مشرقِ وسطیٰ کیلئے پاکستان سے پروازوں کا آپریشن بتدریج بحال مشرق وسطیٰ میں کشیدگی فوری ختم کی جائے، پاکستان کا سلامتی کونسل میں مطالبہ سعودی عرب نے شیبہ آئل فیلڈ کی جانب آنے والا ڈرون تباہ کر دیا امریکی ایندھن بردار طیارہ عراق میں گر کر تباہ، 6 افراد سوار تھے یوم القدس اور متوقع جمعۃ الوداع کے موقع پر سندھ میں آج سرکاری تعطیل ہوگی دبئی حکومت نے عیدالفطر کی سرکاری تعطیلات کا اعلان کردیا عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی، برینٹ تیل 101 ڈالر فی بیرل سے  تجاوز

برطانیہ کا تارکینِ وطن کے لیے سخت نئی پالیسیوں کا اعلان

Web Desk

17 November 2025

لندن: برطانوی حکومت نے امیگریشن قوانین مزید سخت کرتے ہوئے تارکینِ وطن کے لیے مستقبل پناہ کا نظام ختم کرنے اور رہائش کے دورانیے میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق وزارتِ داخلہ نے نئی امیگریشن پالیسی جاری کرتے ہوئے بتایا کہ سیاسی پناہ کا دورانیہ پانچ سال سے کم کرکے 30 ماہ کر دیا گیا ہے، جبکہ مستقبل پناہ کا اسٹیٹس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اب تارکینِ وطن کو اپنے ملک میں محفوظ واپسی تک عارضی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق درخواست منظور ہونے کے بعد پناہ گزینوں کو برطانیہ میں 30 ماہ قیام کی اجازت ملے گی۔ نئی پالیسی کے تحت وہ 20 سال بعد طویل المدتی رہائش کے لیے درخواست دے سکیں گے، جبکہ اس سے قبل یہ شرط پانچ سال تھی۔

سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پناہ گزین اسٹیٹس کی مدت بھی کم کر کے 30 ماہ مقرر کی جا رہی ہے، جس کا مقصد غیر قانونی امیگریشن کو روکنا ہے۔

برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ “پناہ گزینوں کے لیے گولڈ ٹکٹ اب ختم ہو رہا ہے”، حکومت کا مقصد غیر قانونی طریقے سے برطانیہ پہنچنے والوں کی تعداد کم کرنا ہے۔ ان کے مطابق غیر قانونی تارکینِ وطن کی شناخت کے بعد انہیں واپس بھیجا جائے گا۔