LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبروں کی اماراتی حلقوں کی سخت تردید

Web Desk

31 May 2026

ابوظبی: متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مبینہ بے دخلی سے متعلق خبروں کی اماراتی حلقوں نے سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔

اماراتی حکومتی حلقوں سے قریبی تعلق رکھنے والے بعض سوشل میڈیا مبصرین اور تجزیہ کاروں نے ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں کسی بھی قسم کی کارروائی رنگ، نسل، مسلک یا مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ مکمل طور پر قانون کے مطابق کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک میں تمام شہریوں اور غیر ملکیوں کے لیے قوانین اور سیکیورٹی ضوابط یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں، اور کسی بھی اقدام کا تعلق صرف قانونی یا انتظامی تقاضوں سے ہوتا ہے۔

یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء اور بحث جاری ہے، تاہم اس حوالے سے متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔