LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ٹرمپ کا بڑھتی کشیدگی کے باوجود ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ جی بی الیکشن کو پنجاب اور اسلام آباد سے مینج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے حسن مرتضی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم اجلاس 8 جون کو طلب ہر ہائی کورٹ آزاد ، سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت کے ماتحت نہیں: جسٹس عامر فاروق شرجیل میمن کی محسن نقوی سے ملاقات، وفاق اور سندھ تعاون پر اتفاق پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے چناب پر اپنے حقوق کی حفاظت کرے گا: دفتر خارجہ بجلی، گیس کی غیر علانیہ لوڈشیڈنگ پر درخواست جھوٹی قرار، جرمانہ عائد پنجاب: آئندہ مالی سال میں کاشتکاروں کو 20 ہزار گرین ٹریکٹر دینے کی ہدایت ٹرمپ نے نیتن یاہو کو مطالبات نہ ماننے پر جیل بھیجنے کی دھمکی دی: عرب میڈیا پاکستان سٹاک مارکیٹ ایک لاکھ 71 ہزار پوائنٹس کی حد پر بحال رافیل گروسی کا سعودیہ کا دورہ، وزیر خارجہ سے ملاقات، جوہری عدم پھیلاؤ پر تبادلہ خیال امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان مشروط جنگ بندی پر متفق ایران نے کویت کے ہوائی اڈے پر حملہ نہیں کیا: ترجمان ایرانی پاسداران انقلاب رواں سال نیویارک میں قتل اور فائرنگ کے واقعات کم ترین سطح پر، اعداد و شمار جاری گلگت بلتستان میں 22 سال بعد بلدیاتی انتخابات کا بگل بج گیا؛ 2 اگست کو پولنگ ہوگی، چیف الیکشن کمشنر نے شیڈول جاری کر دیا

متحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبروں کی اماراتی حلقوں کی سخت تردید

Web Desk

31 May 2026

ابوظبی: متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مبینہ بے دخلی سے متعلق خبروں کی اماراتی حلقوں نے سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔

اماراتی حکومتی حلقوں سے قریبی تعلق رکھنے والے بعض سوشل میڈیا مبصرین اور تجزیہ کاروں نے ان رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں کسی بھی قسم کی کارروائی رنگ، نسل، مسلک یا مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ مکمل طور پر قانون کے مطابق کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک میں تمام شہریوں اور غیر ملکیوں کے لیے قوانین اور سیکیورٹی ضوابط یکساں طور پر لاگو ہوتے ہیں، اور کسی بھی اقدام کا تعلق صرف قانونی یا انتظامی تقاضوں سے ہوتا ہے۔

یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء اور بحث جاری ہے، تاہم اس حوالے سے متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔