LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
انٹرنیشنل ماسٹرز ویٹ لفٹنگ، ایل سی ڈبلیو یو کی طالبہ نے دو گولڈ میڈلز جیت لئے خیبرپختونخوا: پی ٹی آئی دورِ حکومت میں 18 ارب روپے کی خوردبرد کا انکشاف راولپنڈی: سابق وزیرِ اعظم راجہ پرویز اشرف کے گھر چوری وزیرخزانہ نے خام تیل سمیت توانائی کے دیگر ذرائع کی فراہمی کو تسلی بخش قرار دیدیا امریکی بحری جہازوں کو دوبارہ خلیجِ فارس میں داخل نہیں ہونے دیں گے: ایرانی فوج سعودیہ پر حوثیوں کے حملے، خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ خیبرپختونخوا میں سرکاری فنڈز کے اجرا کا طریقہ کار سخت کرنے کا فیصلہ بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے پر وفاقی سطح کی جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ لوئر دیر کے علاقوں میں خسرہ کی وبا پھوٹ پڑی، 5 بچے جاں بحق پنجاب میں انسدادِ سموگ کارروائیاں تیز، 7 صنعتی یونٹس اور 4 بھٹے سیل نومبر 2024 کے بعد پولیو کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا، وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈیپ سیک اور منی میکس کو اے آئی ماڈلز کی اوپن سورسنگ کے لیے گرین سگنل پولیو ورکرز قوم کے ہیرو، پنجاب سے پولیو کا 100 فیصد خاتمہ ہمارا عزم ہے: مریم نواز آزاد کشمیر: سکول جانے والی گاڑی دریائے نیلم میں گر گئی، 4 بچے جاں بحق میر رضا قتل کیس: سندھ حکومت نے جے آئی ٹی سمیت مزید 2 تحقیقاتی کمیٹیاں بنا دیں

ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ کن وار: قانونی تارکین وطن کو چھوٹے کاروباری قرضوں سے روک دیا گیا

Web Desk

5 February 2026

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیر امریکی شہریوں کے لیے چھوٹے کاروباری مواقع محدود کرتے ہوئے اسمال بزنس ایڈمنسٹریشن (SBA) کے بنیادی ۷(اے) لون پروگرام سے تمام غیر امریکی شہریوں اور قانونی مستقل رہائشیوں کو خارج کر دیا ہے۔

SBA نے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے وہ استثنا بھی ختم کر دیا ہے جس کے تحت غیر شہری یا گرین کارڈ ہولڈرز چھوٹے کاروباروں میں جزوی ملکیت رکھ سکتے تھے۔ اب قانونی مستقل رہائشی اس پروگرام کے تحت کسی بھی کاروبار میں کسی بھی شرح سے ملکیت نہیں رکھ سکیں گے، جس کے لیے وہ اب تک SBA قرضوں کے اہل تھے۔

SBA کی ترجمان کے مطابق ایجنسی اب غیر ملکی شہریوں کی ملکیت والے کاروباروں کے لیے قرضوں کی ضمانت نہیں دے گی، تاکہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ امریکی ملازمتوں اور صنعت کاروں کی فلاح میں استعمال ہو۔

تاہم اس فیصلے پر ڈیموکریٹ رہنماؤں نے سخت تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے چھوٹے کاروباروں کے لیے قرضوں کا حصول اور بھی زیادہ مشکل ہو جائے گا اور محنتی قانونی تارکینِ وطن متاثر ہوں گے، جو ہمیشہ سے امریکی کاروباری نظام کا اہم حصہ رہے ہیں۔