قومی اہمیت کے اہم منصوبوں کی شفافیت کے ساتھ بر وقت تکمیل ہماری ترجیح ہے : وزیراعظم
Web Desk
8 December 2025
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ترقیاتی منصوبوں کے بروقت تکمیل کے حوالے سے لائحہ عمل پر اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا۔
اجلاس کے شرکاء سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ قومی اہمیت کے اہم منصوبوں کی شفافیت کے ساتھ بر وقت تکمیل ہماری ترجیح ہے ۔ وزیراعظم نے ترقیاتی منصوبوں کے مختلف مراحل میں اصلاحات کے حوالے سے جامع حکمت عملی ترتیب دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں اصلاحات کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اسٹیک ہولڈرز کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی صدارت خود کروں گا۔ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اصلاحات میں معاونت پر وزیراعظم نے شراکت داروں، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کا شکریہ ادا کیا م۔
اجلاس کو عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لئے انسانی وسائل کو منصوبوں کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے ؛ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو پی ایس ڈی پی اور اے ڈی پی کے مقاصد اور امنگوں سے ہم آہنگ کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔ اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا ہے بروقت پروکیورمنٹ نہ ہونا ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کی بنیادی وجہ ہے ؛ ای-پروکیورمنٹ اور پراجیکٹ ریڈی نیس کی سہولیات کی فراہمی سے پروکیورمنٹ کو تیز رفتار بنایا جا سکتا ہے : بریفنگ
اجلاس کو بتایا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں منظوری کے کئی مراحل شامل ہوتے ہیں جن کو سہل بنانے کی ضرورت ہے۔
اجلاس میں اصلاحات کے حوالے سے چار ورکنگ گروپس بنانے کی تجویز دی گئی ۔پہلا ورکنگ گروپ ترقیاتی منصوبوں کے منظوری کے مراحل اور تیاری کے حوالے سے اصلاحات پر کام کرے گا ؛دوسرا ورکنگ گروپ پروکیورمنٹ کو جدید اور شفاف خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے اصلاحات پر کام کرے گا ؛تیسرا ورکنگ گروپ منصوبوں کے لئے زمین کے حصول اور ری-سیٹیلمینٹ کے معاملات میں اصلاحات لانے کے حوالے سے ہو گا جبکہ چوتھا ورکنگ گروپ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے انسانی وسائل اور اسٹاف کی تعیناتی کے حوالے سے اصلاحات پر کام کرے گا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ, وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب ،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ, وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس خان لغاری ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹرز سمیت متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران موجود تھے۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری آئی: وزیر خزانہ کا دعویٰ
16 September 2026
پٹرول 6 روپے 88 پیسے اور ڈیزل 5 روپے 62 پیسے فی لٹر مہنگا
16 September 2026
گوتریس کی عالمی کشیدگی پر تشویش، حوثیوں اور سعودی عرب کو مذاکرات کی اپیل
16 September 2026
پاکستان کا بھارتی بحری جہاز کا خصوصی اقتصادی زون میں خلاف ورزی پر شدید احتجاج
16 September 2026
غزہ میں بے گھر خاندانوں کو پناہ دینے والی عمارت منہدم، 21 فلسطینی جاں بحق
16 September 2026
سعودی عرب کی مکہ مکرمہ پر حوثیوں کے ڈرون حملے کی کوشش کی مذمت
16 September 2026
امریکی نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی معلومات آئس برگ کا صرف سرا ہیں: عراقچی
16 September 2026
ایرانی وزارت خارجہ کی جرمن چانسلر پر تنقید، ایران کے خلاف بیانیہ مسترد
16 September 2026