LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا وزیر مذہبی امور کی سعودی ہم منصب سے ملاقات، حج سے متعلق امور پر گفتگو وزیراعظم کو عوامی ہال میں چینی ہم منصب کا پرتپاک استقبالیہ، گارڈ آف آنر پیش پاکستانی نژاد برطانوی باکسر حمزہ شیراز عالمی چیمپئن بن گئے سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار پوائنٹس کی حد پر بحال عوامی ٹرانسپورٹ میں اوورچارجنگ، اوورلوڈنگ کیخلاف سخت کارروائی کا حکم امریکا،ایران معاہدے کو حتمی شکل دینے میں چند دن لگ سکتے ہیں: امریکی میڈیا سوات ایکسپریس وے پر وین کی بس کو ٹکر، 11 افراد جاں بحق، 7 زخمی

تھینکس گیونگ: طویل اور انوکھی تاریخ

Web Desk

27 November 2025

امریکہ میں تھینکس گیونگ کی تاریخ سترہویں صدی میں زائرین کی آمد سے جڑی ہے، جن کی بقا میں مقامی امریکی وامپانواگ قبیلے کا اہم کردار تھا۔ دنیا بھر میں فصلوں کے تہوار منائے جاتے ہیں، لیکن امریکہ میں تھینکس گیونگ ایک منفرد تہوار ہے جو ملکی نفسیات اور ثقافت کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔ بعض امریکی خاندان اسے کرسمس، عید اور ہانوکا جیسے مذہبی تہواروں سے بھی اہمیت دیتے ہیں۔

امریکی صدر ابراہم لنکن نے 1863ء میں نومبر کی آخری جمعرات کو تھینکس گیونگ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا، جبکہ 1941ء میں صدر فرانکلن روزویلیٹ نے کانگریس کی قرارداد پر دستخط کیے اور اسے نومبر کی چوتھی جمعرات کو قومی دن کے طور پر مقرر کیا۔

یہ روایت زائرین یا پیلگرمز سے آئی، جو 1620ء میں مے فلاور نامی کشتی پر یورپ سے شمالی امریکہ پہنچے۔ چرچ آف انگلینڈ سے لاتعلقی کے بعد یہ لوگ نیدرلینڈز میں جلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے اور مذہبی آزادی کی تلاش میں یہاں آئے۔ زائرین خواتین اور بچوں کے ساتھ مجموعی طور پر 102 افراد پر مشتمل تھے۔

مے فلاور 30 میٹر اونچی کشتی تھی، جو آج کے پروینس ٹاؤن، میساچوسٹس میں رکی۔ ابتدائی زمین ریتیلی ہونے کی وجہ سے آبادکار خلیج کے دوسرے جانب منتقل ہوئے اور دسمبر 1620 میں پلیماؤتھ کالونی کی بنیاد رکھی۔ سخت موسم میں مقامی وامپانواگ قبائل نے ان کو خوراک فراہم کی اور زراعت کے طریقے سکھائے۔

اگلے سال، یورپی آبادکاروں اور وامپانواگ قبیلے نے فصل کی خوشی میں تھینکس گیونگ کا جشن منایا، جس میں فیل مرغ، مکئی اور شکرقندی شامل تھی۔ یہ بقائے باہمی کی ایک انوکھی مثال تھی، لیکن بعد میں یورپی آبادکاروں کی توسیع اور تشدد کے باعث یہ تعلق ختم ہو گیا۔ آج بھی مقامی امریکی تھینکس گیونگ کو اپنے آباؤ اجداد کے قتل اور زمینیں کھو دینے کی یادگار کے طور پر مناتے ہیں۔