LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
شہباز شریف کا انڈونیشن صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، سکیورٹی صورتحال پر اظہار تشویش قومی اسمبلی میں نیب ترمیمی بل 2026 پیش، حکومت اور اپوزیشن میں سخت جملوں کا تبادلہ این ایچ اے کی آمدن 109 ارب تک پہنچ گئی، وزیراعظم کی زیرِصدارت اجلاس میں بریفنگ ایران کے ڈرون آذربائیجان میں جا گرے، دو شہری زخمی، ایئرپورٹ کو نقصان، سفیر طلب وفاقی وزارتوں میں ایک لاکھ سے زائد آسامیاں خالی، قومی اسمبلی میں تفصیلات پیش سینیٹ نے نیب ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا، چیئرمین کی مدت ملازمت اور اپیلوں میں اصلاحات شامل پاکستان کا بھارت اور کینیڈا کے درمیان یورینیم سپلائی معاہدے پر تشویش کا اظہار آپریشن غضب للحق کے دوران قندھار میں 205 کور کا بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ، سکیورٹی ذرائع پاکستان کی تمام بندرگاہوں کے داخلے عارضی طور پر بند کرنے کا نوٹیفکیشن جعلی قرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی علاج کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیا وزیراعظم سے جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، مشرق وسطی پر اعتماد میں لیا پنجاب حکومت کا “وزیراعلیٰ رحمت کارڈ” متعارف کرانے کا فیصلہ، بیواؤں کو ایک لاکھ روپے امداد دی جائے گی آدھا رمضان گزر گیا مگر کے پی حکومت نے پیکج کی تقسیم شروع نہیں کی، عظمیٰ بخاری سپریم کورٹ کے حتمی فیصلہ کیخلاف اپیل سننے کا اختیار نہیں: وفاقی آئینی عدالت ایران کے امریکا اور اسرائیل پر تازہ حملے، 10 ڈرونز تباہ، 500 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ

تھینکس گیونگ: طویل اور انوکھی تاریخ

Web Desk

27 November 2025

امریکہ میں تھینکس گیونگ کی تاریخ سترہویں صدی میں زائرین کی آمد سے جڑی ہے، جن کی بقا میں مقامی امریکی وامپانواگ قبیلے کا اہم کردار تھا۔ دنیا بھر میں فصلوں کے تہوار منائے جاتے ہیں، لیکن امریکہ میں تھینکس گیونگ ایک منفرد تہوار ہے جو ملکی نفسیات اور ثقافت کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔ بعض امریکی خاندان اسے کرسمس، عید اور ہانوکا جیسے مذہبی تہواروں سے بھی اہمیت دیتے ہیں۔

امریکی صدر ابراہم لنکن نے 1863ء میں نومبر کی آخری جمعرات کو تھینکس گیونگ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا، جبکہ 1941ء میں صدر فرانکلن روزویلیٹ نے کانگریس کی قرارداد پر دستخط کیے اور اسے نومبر کی چوتھی جمعرات کو قومی دن کے طور پر مقرر کیا۔

یہ روایت زائرین یا پیلگرمز سے آئی، جو 1620ء میں مے فلاور نامی کشتی پر یورپ سے شمالی امریکہ پہنچے۔ چرچ آف انگلینڈ سے لاتعلقی کے بعد یہ لوگ نیدرلینڈز میں جلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے اور مذہبی آزادی کی تلاش میں یہاں آئے۔ زائرین خواتین اور بچوں کے ساتھ مجموعی طور پر 102 افراد پر مشتمل تھے۔

مے فلاور 30 میٹر اونچی کشتی تھی، جو آج کے پروینس ٹاؤن، میساچوسٹس میں رکی۔ ابتدائی زمین ریتیلی ہونے کی وجہ سے آبادکار خلیج کے دوسرے جانب منتقل ہوئے اور دسمبر 1620 میں پلیماؤتھ کالونی کی بنیاد رکھی۔ سخت موسم میں مقامی وامپانواگ قبائل نے ان کو خوراک فراہم کی اور زراعت کے طریقے سکھائے۔

اگلے سال، یورپی آبادکاروں اور وامپانواگ قبیلے نے فصل کی خوشی میں تھینکس گیونگ کا جشن منایا، جس میں فیل مرغ، مکئی اور شکرقندی شامل تھی۔ یہ بقائے باہمی کی ایک انوکھی مثال تھی، لیکن بعد میں یورپی آبادکاروں کی توسیع اور تشدد کے باعث یہ تعلق ختم ہو گیا۔ آج بھی مقامی امریکی تھینکس گیونگ کو اپنے آباؤ اجداد کے قتل اور زمینیں کھو دینے کی یادگار کے طور پر مناتے ہیں۔