LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جماعت اسلامی کی آزاد کشمیر میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ثالثی کی پیشکش فیفا ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے ترکیہ کو 2 صفر سے شکست دے دی واشنگٹن میں امریکی لڑاکا طیارہ تباہ، پائلٹ محفوظ رہا امریکا ایران معاہدے کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل مزید سستا فٹ بال ورلڈ کپ: قطر اور سوئٹزر لینڈ کا میچ ایک، ایک گول سے برابر ایران سے معاہدہ کل دستخط کے لیے تیار ہے، آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی: ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے ساتھ معاہدے پر اتوار کو دستخط نہیں ہوں گے، ایران دھمکیوں، دباؤ اور منفی پروپیگنڈے سے نہیں ڈریں گے، مومنہ اقبال بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات، متعدد روزمرہ اشیاء مہنگی ہونے کا امکان صورتحال اچھی نہیں، امتحان سے گزر رہے ہیں: وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور صرف اپنے لیے کھیلنے والوں کی قومی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں، محسن نقوی کا دوٹوک مؤقف سپریم کورٹ آف پاکستان کے لیے نئے وفاقی بجٹ میں ساڑھے 7 ارب روپے کے قریب رقم مختص برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں، وزیر خزانہ وزیراعظم بتائیں عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں ہورہی؟ خدا کے لیے فوج کے نام پر سیاست بند کریں؛بیرسٹر گوہر بھارتی ایئرفورس کا ایک اور جنگی طیارہ حادثے کا شکار

تھینکس گیونگ: طویل اور انوکھی تاریخ

Web Desk

27 November 2025

امریکہ میں تھینکس گیونگ کی تاریخ سترہویں صدی میں زائرین کی آمد سے جڑی ہے، جن کی بقا میں مقامی امریکی وامپانواگ قبیلے کا اہم کردار تھا۔ دنیا بھر میں فصلوں کے تہوار منائے جاتے ہیں، لیکن امریکہ میں تھینکس گیونگ ایک منفرد تہوار ہے جو ملکی نفسیات اور ثقافت کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔ بعض امریکی خاندان اسے کرسمس، عید اور ہانوکا جیسے مذہبی تہواروں سے بھی اہمیت دیتے ہیں۔

امریکی صدر ابراہم لنکن نے 1863ء میں نومبر کی آخری جمعرات کو تھینکس گیونگ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا، جبکہ 1941ء میں صدر فرانکلن روزویلیٹ نے کانگریس کی قرارداد پر دستخط کیے اور اسے نومبر کی چوتھی جمعرات کو قومی دن کے طور پر مقرر کیا۔

یہ روایت زائرین یا پیلگرمز سے آئی، جو 1620ء میں مے فلاور نامی کشتی پر یورپ سے شمالی امریکہ پہنچے۔ چرچ آف انگلینڈ سے لاتعلقی کے بعد یہ لوگ نیدرلینڈز میں جلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے اور مذہبی آزادی کی تلاش میں یہاں آئے۔ زائرین خواتین اور بچوں کے ساتھ مجموعی طور پر 102 افراد پر مشتمل تھے۔

مے فلاور 30 میٹر اونچی کشتی تھی، جو آج کے پروینس ٹاؤن، میساچوسٹس میں رکی۔ ابتدائی زمین ریتیلی ہونے کی وجہ سے آبادکار خلیج کے دوسرے جانب منتقل ہوئے اور دسمبر 1620 میں پلیماؤتھ کالونی کی بنیاد رکھی۔ سخت موسم میں مقامی وامپانواگ قبائل نے ان کو خوراک فراہم کی اور زراعت کے طریقے سکھائے۔

اگلے سال، یورپی آبادکاروں اور وامپانواگ قبیلے نے فصل کی خوشی میں تھینکس گیونگ کا جشن منایا، جس میں فیل مرغ، مکئی اور شکرقندی شامل تھی۔ یہ بقائے باہمی کی ایک انوکھی مثال تھی، لیکن بعد میں یورپی آبادکاروں کی توسیع اور تشدد کے باعث یہ تعلق ختم ہو گیا۔ آج بھی مقامی امریکی تھینکس گیونگ کو اپنے آباؤ اجداد کے قتل اور زمینیں کھو دینے کی یادگار کے طور پر مناتے ہیں۔