LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مریم نواز سنٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا، ٹرمپ ٹول بہت زیادہ ہے: عباس عراقچی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی پاکستان اور جنوبی افریقہ ویمنز انڈر 19 کا پہلا ٹی 20 میچ آج ہوگا شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہےخواجہ آصف ایران کے بحرین میں ففتھ فلیٹ، اماراتی ٹینکروں، امریکی بحری جہاز پر حملے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمہ کیلئے ایران سے معاہدہ اب بھی ممکن ہے: ٹرمپ پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت انٹرنل ریونیو سروس کیخلاف مقدمے میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنیوالے وکلا کو سزائیں سنادی گئیں امریکا کو آبنائے ہرمز پر ٹیکس یا فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں: مارک ویلر ایران، امریکا کے درمیان جنگ بندی ختم ، مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے: میڈیا رپورٹ امریکی فوج کے ایران پر تیسرے روز بھی فضائی حملے، کئی شہروں میں دھماکے خواجہ محمد آصف نے فضل الرحمان کے بیان کو اخلاقی بے حسی قرار دیدیا امریکی بحری جہاز کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا: ایران امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی تصدیق کر دی

 بیوی کی رضامندی کے بغیر خلع ممکن نہیں:سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

Web Desk

24 May 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے خلع اور گھریلو تنازعات سے متعلق اہم اور جامع فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بیوی کی واضح، باخبر اور غیر مبہم رضامندی کے بغیر خلع دینا قانونی طور پر درست نہیں۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریر کیا۔ بارہ صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے خاندانی مقدمات کے طریقۂ کار، گھریلو تشدد اور خلع کے قانونی تقاضوں پر تفصیلی رہنمائی فراہم کی۔

عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ اگر بیوی نے ظلم اور تشدد کی بنیاد پر مقدمہ دائر کیا ہو تو اسے زبردستی خلع میں تبدیل کرنا خاتون کے مالی حقوق کو متاثر کر سکتا ہے، اس لیے عدالت بیوی کو یہ اختیار دے کہ وہ ظلم کے دعوے پر قائم رہنا چاہتی ہے یا خلع قبول کرنا چاہتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اگر ظلم ثابت نہ بھی ہو مگر ازدواجی تعلق عملی طور پر ختم ہو چکا ہو تو بیوی کو انتخاب کا حق دینا ضروری ہے، جبکہ عدالت کسی مردہ رشتے کو زبردستی بحال نہیں کرا سکتی۔

سپریم کورٹ نے گھریلو تشدد کی تعریف کو وسیع قرار دیتے ہوئے کہا کہ جسمانی تشدد کے ساتھ ذہنی اذیت، تذلیل، دباؤ، محرومی اور جذباتی تکلیف بھی ظلم میں شامل ہیں۔ عدالت کے مطابق گھریلو معاملات میں ناممکن ثبوت، جیسے عینی شاہد یا ابتدائی رپورٹ کا مطالبہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے واضح کیا کہ خاندانی مقدمات میں ثبوت کا معیار “غالب امکان” ہوتا ہے جبکہ فوجداری مقدمات میں “شک سے بالاتر” معیار لاگو ہوتا ہے، اس لیے فیملی کورٹس کو فوجداری معیارِ ثبوت سول مقدمات میں استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

فیصلے کے مطابق زیر سماعت کیس میں شادی انیس ستمبر دو ہزار سولہ کو ہوئی جبکہ آٹھ اکتوبر دو ہزار سولہ کو علیحدگی کا مقدمہ دائر کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ قلیل مدت میں بھی ظلم ہو سکتا ہے اور ہر مقدمہ اپنے حقائق کے مطابق دیکھا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خاتون ظلم ثابت کرنے میں ناکام رہی، اس لیے نچلی عدالتوں کے فیصلے برقرار رہیں گے، تاہم خلع کے طریقۂ کار اور مالی حقوق کے تعین سے متعلق فیصلہ جزوی طور پر کالعدم قرار دے کر معاملہ دوبارہ فیملی کورٹ بھیج دیا گیا۔

عدالت نے ہدایت کی کہ فیملی کورٹ خاتون کا حتمی بیان ریکارڈ کرے اور اس کی مرضی معلوم کرے۔ اگر خاتون خلع کا انتخاب کرے تو فیصلہ قانونی تقاضوں کے مطابق ہوگا، جبکہ ظلم کے دعوے پر قائم رہنے کی صورت میں کیس کا فیصلہ اسی بنیاد پر کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے فیملی کورٹ کو تیس دن میں مقدمہ نمٹانے کی ہدایت بھی جاری کی۔