LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر ٹرمپ کا ایران امریکا جنگ کو ’الوداع‘ کا اشارہ، اے آئی تصویر اور پوسٹ نے نئی بحث چھیڑ دی ٹرین دھماکے سمیت بلوچستان میں بڑھتی بدامنی پر انسانی حقوق کمیشن کا شدید تشویش کا اظہار بھارت میں شدید ہیٹ ویو، درجہ حرارت 45 ڈگری سے تجاوز، 16 افراد جان کی بازی ہار گئے ویرات کوہلی ٹریوس ہیڈ سے ہاتھ ملائے بغیر گزر گئے، سوشل میڈیا پر شدید تنقید پاکستان : اندرون اور بیرون ملک فلائٹ آپریشن متاثر ، 83 پروازیں منسوخ حجاج کے تحفظ کیلئے جامع دفاعی انتظامات مکمل، مقدس مقامات کی فضائی نگرانی سخت عید تعطیلات میں تبدیلی، سندھ میں 26 سے 28 مئی تک چھٹیاں ہوں گی  بیوی کی رضامندی کے بغیر خلع ممکن نہیں:سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ کوئٹہ میں ریلوے ٹریک پر خوفناک دھماکہ، 25 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی لاہور میں شدید گرمی برقرار، محکمہ موسمیات کی بارش سے متعلق اہم پیشگوئی مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کا وفاق پر صوبے کو نظر انداز کرنے کا الزام وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ، سیکریٹ سروس کی جوابی کارروائی میں حملہ آور ہلاک امریکی صدر ٹرمپ کا پاکستانی اور خلیجی قیادت سے رابطہ، ایران معاہدہ جلد متوقع نوابشاہ میں ایف آئی اے کی کارروائی، منشیات اور حوالہ ہنڈی میں ملوث 6 افراد گرفتار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا تہران دورہ مکمل، ایران میں اہم مذاکرات اور ملاقاتیں

 بیوی کی رضامندی کے بغیر خلع ممکن نہیں:سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

Web Desk

24 May 2026

سپریم کورٹ آف پاکستان نے خلع اور گھریلو تنازعات سے متعلق اہم اور جامع فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بیوی کی واضح، باخبر اور غیر مبہم رضامندی کے بغیر خلع دینا قانونی طور پر درست نہیں۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جسے جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریر کیا۔ بارہ صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے خاندانی مقدمات کے طریقۂ کار، گھریلو تشدد اور خلع کے قانونی تقاضوں پر تفصیلی رہنمائی فراہم کی۔

عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ اگر بیوی نے ظلم اور تشدد کی بنیاد پر مقدمہ دائر کیا ہو تو اسے زبردستی خلع میں تبدیل کرنا خاتون کے مالی حقوق کو متاثر کر سکتا ہے، اس لیے عدالت بیوی کو یہ اختیار دے کہ وہ ظلم کے دعوے پر قائم رہنا چاہتی ہے یا خلع قبول کرنا چاہتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اگر ظلم ثابت نہ بھی ہو مگر ازدواجی تعلق عملی طور پر ختم ہو چکا ہو تو بیوی کو انتخاب کا حق دینا ضروری ہے، جبکہ عدالت کسی مردہ رشتے کو زبردستی بحال نہیں کرا سکتی۔

سپریم کورٹ نے گھریلو تشدد کی تعریف کو وسیع قرار دیتے ہوئے کہا کہ جسمانی تشدد کے ساتھ ذہنی اذیت، تذلیل، دباؤ، محرومی اور جذباتی تکلیف بھی ظلم میں شامل ہیں۔ عدالت کے مطابق گھریلو معاملات میں ناممکن ثبوت، جیسے عینی شاہد یا ابتدائی رپورٹ کا مطالبہ نہیں کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے واضح کیا کہ خاندانی مقدمات میں ثبوت کا معیار “غالب امکان” ہوتا ہے جبکہ فوجداری مقدمات میں “شک سے بالاتر” معیار لاگو ہوتا ہے، اس لیے فیملی کورٹس کو فوجداری معیارِ ثبوت سول مقدمات میں استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

فیصلے کے مطابق زیر سماعت کیس میں شادی انیس ستمبر دو ہزار سولہ کو ہوئی جبکہ آٹھ اکتوبر دو ہزار سولہ کو علیحدگی کا مقدمہ دائر کر دیا گیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ قلیل مدت میں بھی ظلم ہو سکتا ہے اور ہر مقدمہ اپنے حقائق کے مطابق دیکھا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ خاتون ظلم ثابت کرنے میں ناکام رہی، اس لیے نچلی عدالتوں کے فیصلے برقرار رہیں گے، تاہم خلع کے طریقۂ کار اور مالی حقوق کے تعین سے متعلق فیصلہ جزوی طور پر کالعدم قرار دے کر معاملہ دوبارہ فیملی کورٹ بھیج دیا گیا۔

عدالت نے ہدایت کی کہ فیملی کورٹ خاتون کا حتمی بیان ریکارڈ کرے اور اس کی مرضی معلوم کرے۔ اگر خاتون خلع کا انتخاب کرے تو فیصلہ قانونی تقاضوں کے مطابق ہوگا، جبکہ ظلم کے دعوے پر قائم رہنے کی صورت میں کیس کا فیصلہ اسی بنیاد پر کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے فیملی کورٹ کو تیس دن میں مقدمہ نمٹانے کی ہدایت بھی جاری کی۔