LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

آئل ٹینکر کے اغوا کو 40 دن مکمل، 10 پاکستانیوں سمیت کوئی رہا نہ ہوسکا

Web Desk

1 June 2026

صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود آئل ٹینکر ’آنر 25‘ (Honor 25) کے اغوا کو 40 دن مکمل ہو گئے ہیں، تاہم 10 پاکستانیوں سمیت جہاز پر سوار عملے کے تمام 17 افراد تاحال قزاقوں کی قید سے رہا نہیں ہو سکے۔

رپورٹ کے مطابق، رواں سال 21 اپریل کو صومالی قزاقوں نے کھلے سمندر میں کارروائی کرتے ہوئے اس آئل ٹینکر پر قبضہ کیا تھا اور پورے عملے کو یرغمال بنا لیا تھا۔ اس بدقسمت بحری جہاز کے عملے میں 10 پاکستانی، 4 انڈونیشیائی، ایک بھارتی اور ایک میانمار کا شہری شامل ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اغوا شدہ آئل ٹینکر اس وقت صومالی ساحل کے قریب لنگر انداز ہے۔

سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صومالی حکومت اس وقت ’آنر 25‘ کے مالک (شپ اونر) کے ذریعے بحری قزاقوں سے مسلسل رابطے میں ہے اور مذاکرات کے ذریعے اس دیرینہ معاملے کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم اب تک کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آسکی ہے۔

ذرائع کے مطابق قزاقوں کی جانب سے تاوان کے مطالبے میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے:

  • ابتدائی مطالبہ: بحری قزاقوں نے ابتدا میں عملے اور جہاز کی رہائی کے بدلے 10 لاکھ ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔

  • موجودہ مطالبہ: مذاکرات طویل ہونے پر قزاقوں نے اپنا مطالبہ بڑھا کر اب 4 ملین (40 لاکھ) ڈالر کر دیا ہے، جس کے باعث مذاکرات تاحال بے نتیجہ ہیں۔

مغویوں میں پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد موجود ہونے کے باعث حکومت پاکستان بھی اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صومالی حکومت نے پاکستان کو باضابطہ طور پر یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بحری قزاقوں سے اپنے تمام تر رابطے استعمال کرتے ہوئے یرغمالی پاکستانیوں کی بحفاظت اور جلد رہائی کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری رکھے گی۔ اس حوالے سے صومالی حکام کی جانب سے حکومتِ پاکستان کو ایک باضابطہ خط بھی ارسال کیا گیا تھا، تاہم 40 دن گزرنے کے باوجود تاحال کوئی حتمی کامیابی نہیں مل سکی ہے جس سے یرغمالیوں کے خاندان شدید ذہنی کرب کا شکار ہیں۔