LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیلڈمارشل عاصم منیرکی تہران آمدپرپیش کردہ امریکی تجاویزکاجائزہ لے رہےہیں، ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل امریکا سے مذاکرات کےدوسرے مرحلے کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی، ایرانی نائب وزیرخارجہ اچھے مذاکرات چل رہے ہیں، ایران آبنائے ہرمز کےذریعے بلیک ملیک نہیں کرسکتا، ٹرمپ پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی کردی ایرانی بحریہ دشمنوں کو شکست دینے کےلیے تیارہے، مجتبیٰ خامنہ ای امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں گریجوایٹ کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ تقریب اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.5 ریکارڈ امریکا نے روسی تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں مزید ایک مہینے کیلئے ہٹا دیں

یوکرین تنازع: روس کا امریکا سے مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان

Web Desk

15 April 2026

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے واضح کیا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے امریکہ کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔ چین کے حالیہ دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو آج بھی انکریج (الاسکا) میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے معاہدوں پر قائم ہے، جن کی توثیق صدر ولادیمیر پیوٹن متعدد بار کر چکے ہیں۔ لاوروف کے مطابق، روس نے الاسکا ملاقات کے دوران امریکی تجاویز کو نیک نیتی سے قبول کیا تھا، جس میں یوکرین کے زمینی حقائق کو قانونی طور پر تسلیم کرنا شامل تھا، تاہم یوکرینی صدر زیلنسکی کا کریمیا اور ڈونباس کو “مقبوضہ” قرار دینا مذاکراتی روح کے منافی ہے۔

روسی وزیرِ خارجہ نے نشاندہی کی کہ اگرچہ اس مذاکراتی عمل کی بنیاد ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پیوٹن نے رکھی تھی، لیکن موجودہ امریکی انتظامیہ تاحال سابق صدر جو بائیڈن کے دور کی پابندیوں کو نہ صرف برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ ان میں اضافہ بھی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یورپی قیادت بشمول برسلز، پیرس، برلن اور لندن پر الزام عائد کیا کہ وہ ان امن معاہدوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، جس سے خطے میں استحکام کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔

سرگئی لاوروف نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی جانب سے یوکرین میں “استحکامی دستے” بھیجنے کی تجاویز پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات امریکی تکنیکی تعاون کے بغیر ناممکن ہیں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ روس ہنگری جیسے دیگر ممالک کے ساتھ بھی مکالمے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ مذاکرات قومی مفادات کی بنیاد پر ہوں۔ ان کے بقول، ولادیمیر پیوٹن ہمیشہ سے بات چیت کے حامی رہے ہیں، لیکن اس کے لیے فریقین کا سنجیدہ ہونا ضروری ہے۔