LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے: سہیل آفریدی ٹرمپ نے عمان کو آبنائے ہرمز میں مداخلت پر حملے کی دھمکی دیدی چیف جسٹس سے انگلینڈ اینڈ ویلز ہائی کورٹ کے جج جسٹس کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملے گی: رانا ثناء اللہ وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت پولیس حملہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کر دیا پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل پشاور ہائیکورٹ کے 4 مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ

سینیٹ اجلاس:  27ویں آئینی ترمیم پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ پیش

Web Desk

10 November 2025

اسلام آباد: سینیٹ کے اجلاس میں قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی رپورٹ پیش کی گئی، جس میں 27ویں آئینی ترمیمی بل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ رپورٹ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے ایوان میں پیش کی اور بتایا کہ کمیٹی نے بل میں کئی اہم تبدیلیاں کی ہیں۔
سینیٹر فاروق ایچ نائیک کے مطابق، بل میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، اور کمیٹی نے ممبران کے علاوہ خصوصی دعوت پر دیگر ارکان کو بھی اجلاس میں بلایا۔ انہوں نے بتایا کہ ترمیم میں ججز کی خودکار ریٹائرمنٹ ختم کر دی گئی ہے اور اب سپریم جوڈیشل کونسل فیصلے کرے گی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ صدر کو تاحیات استثنیٰ دیا گیا ہے، تاہم اگر صدر انتخاب لڑ کر پبلک آفس ہولڈر بنتا ہے تو استثنیٰ ختم ہو جائے گا اور پبلک آفس کے ختم ہونے کے بعد امیونٹی بحال ہو جائے گی۔
فاروق ایچ نائیک نے مزید بتایا کہ غیر منتقلی یا ٹرانسفر تسلیم نہ کرنے والے جج کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے گا، جبکہ آئینی ترمیم میں عدلیہ کی آزادی اور احتساب کے درمیان توازن کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے اپوزیشن کو ایوان میں واپس لانے کی ہدایت کی جس کے بعد پی ٹی آئی کے ارکان اجلاس میں شریک ہو گئے۔ کمیٹی نے آئینی ترمیم پر اتفاق رائے کے ساتھ پیش رفت کرنے کا بھی اعلان کیا۔