LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، حکومت نے ریلیف سے قبل قیمتیں آسمان پر پہنچا دیں پمز ایم سی ایچ سے نومولود چوری کی کوشش ناکام، دو خواتین اور لڑکی گرفتار پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا: حافظ نعیم الرحمان انڈونیشین نیوی کے سربراہ کی نیول چیف سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے کا عزم ملائیشین وزیراعظم سے من گھڑت بیانیہ نکلوانے کی بھارتی کوشش ناکام، انٹرویو پھر سرخیوں میں اسحاق ڈار سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات ہوئی، تمام شعبوں میں تعاون پر اتفاق پٹرولیم قیمتوں میں ریلیف، حکومت اور جماعت اسلامی میں اہم ملاقات خیبرپختونخوا دو دن سے لاوارث، سہیل آفریدی سیر سپاٹے کر رہے ہیں: عظمیٰ بخاری سینیٹ کمیٹی میں ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل داخلہ نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی سفارشات افغان میڈیکل طلبہ کی پاکستان میں تعلیم جاری رکھنے کی درخواست پر فیصلہ جاری پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ختم کی جائے، حکومت ہوش کے ناخن لے: شرجیل میمن امریکا خلا میں فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے، چین کا مطالبہ باب المندب کی بندش پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوگی: قطر کا اظہارِ تشویش ازبکستان کا 10 رکنی میڈیا وفد 7 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا حکومت ریلیف کا ڈرامہ بند اور پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرے: حافظ نعیم

سلامتی کونسل نے ٹرمپ کے غزہ پلان کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی

Web Desk

18 November 2025

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ منصوبے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی۔

قرارداد کے حق میں 14 ووٹ ڈالے گئے اور کسی بھی ملک نے مخالفت نہیں کی جبکہ چین اور روس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔اجلاس سے خطاب میں امریکی مندوب نے پاکستان، مصر، قطر، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور انڈونیشیا کا ’غزہ کے لیے مشترکہ کوششوں پر تعاون‘ پر شکریہ ادا کیا۔امریکی مندوب نے کہا کہ آج سلامتی کونسل نے ایک تاریخی، تعمیری اور فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے۔ یہ قرارداد غزہ میں استحکام کے راستے کھولنے کی کوشش ہے۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے غزہ پلان کی قرارداد میں فلسطین میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی اور عبوری حکومتی ڈھانچے کے قیام کے اہم نکات شامل ہیں۔تاہم فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل ہی متوقع فیصلے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے غزہ کے معاملات پر بین الاقوامی سرپرستی مسلط کرنے کی کوشش قرار دے دیا تھا۔