LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کرپشن، بدعنوانی عروج پر، کے پی میں گورننس نام کی چیز نہیں: عطا تارڑ ’اب بہت ہو گیا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے‘؛ اپوزیشن اجلاس اسٹاک مارکیٹ کریش، 100 انڈیکس کی 3700 سے زائد پوائنٹس کی ریکارڈ تنزلی اربوں ڈالر کا سرپلس خسارے میں تبدیل، اپریل میں کرنٹ اکاؤنٹ 32 کروڑ ڈالر منفی ہو گیا، اسٹیٹ بینک گندم اور گیس کی ترسیل پر زیادتی ہو رہی ہے: گورنر، وزیراعلیٰ کے پی پاکستان کی ثالثی میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے بڑھ رہا ہے: ایران وزیرِ اعظم سے نیول چیف کی ملاقات، پاک بحریہ کے پیشہ وارانہ امور پر تبادلہ خیال حافظ نعیم الرحمان کا پٹرولیم لیوی کیخلاف وفاقی آئینی عدالت سے رجوع سی این جی بندش: وزیراعلیٰ کے پی کا وزیراعظم کو فوری گیس بحالی کیلئے خط اماراتی نیوکلیئر پلانٹ پر حملہ خطرناک، جوہری تنصیبات کو نشانہ نہ بنایا جائے: دفتر خارجہ اسحاق ڈار کا قطر کے وزیرِ مملکت خارجہ سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ایران-امریکا کشیدگی اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کا اثر؛اسٹاک ایکسچینج کریش امریکا نے ایران کے لیے امن عمل کی 5 سخت شرائط مقرر کر دیں حکومت کے پہلے 25 ماہ میں وفاقی قرضوں میں 15 ہزار 714 ارب روپے کا ہوشربا اضافہ جنوبی وزیرستان لوئر میں وانا رستم بازار میں بم دھماکہ

سلامتی کونسل نے ٹرمپ کے غزہ پلان کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی

Web Desk

18 November 2025

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ منصوبے کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی۔

قرارداد کے حق میں 14 ووٹ ڈالے گئے اور کسی بھی ملک نے مخالفت نہیں کی جبکہ چین اور روس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔اجلاس سے خطاب میں امریکی مندوب نے پاکستان، مصر، قطر، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور انڈونیشیا کا ’غزہ کے لیے مشترکہ کوششوں پر تعاون‘ پر شکریہ ادا کیا۔امریکی مندوب نے کہا کہ آج سلامتی کونسل نے ایک تاریخی، تعمیری اور فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے۔ یہ قرارداد غزہ میں استحکام کے راستے کھولنے کی کوشش ہے۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے غزہ پلان کی قرارداد میں فلسطین میں بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی اور عبوری حکومتی ڈھانچے کے قیام کے اہم نکات شامل ہیں۔تاہم فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل ہی متوقع فیصلے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے غزہ کے معاملات پر بین الاقوامی سرپرستی مسلط کرنے کی کوشش قرار دے دیا تھا۔