LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان نیتن یاہو فتح کے قریب، میری حمایت نے بہت مدد کی: ٹرمپ کا دعویٰ

سرکاری ملکیتی اداروں کو 6 ماہ میں 342 ارب 80 کروڑ روپے کا نقصان

Web Desk

15 September 2026

وفاقی وزیرِ خزانہ کی زیرِ صدارت کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی اداروں (SOEs) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مالی سال 2025 کے نصفِ اول (جولائی تا دسمبر 2025) کے دوران سرکاری اداروں کی مالی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق اس عرصے میں خسارے میں جانے والے ملکیتی اداروں کا مجموعی خسارہ 342 ارب 80 کروڑ روپے ریکارڈ کیا گیا، جبکہ منافع بخش سرکاری اداروں نے 423 ارب 30 کروڑ روپے کا منافع کمایا۔ اس طرح تمام سرکاری اداروں نے مجموعی طور پر حکومت کو 35 ارب روپے کا خالص مالی منافع فراہم کیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت نے اس عرصے کے دوران ایس او ایز کو 804 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کی، جبکہ ان اداروں کی جانب سے خزانے کو 839 ارب روپے موصول ہوئے۔ کابینہ کمیٹی نے پاور اور انفراسٹرکچر سیکٹرز کی آپریشنل کمزوریوں، گردشی قرضے (سرکلر ڈیٹ) اور درپیش مالی خطرات کا جائزہ لیتے ہوئے مسلسل خسارے میں چلنے والے اداروں میں اصلاحات تیز کرنے، مالی نظم و ضبط قائم کرنے اور سرکاری وسائل پر انحصار کم کرنے کی ہدایت کی۔ علاوہ ازیں اجلاس میں پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کے بورڈ میں آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کی منظوری بھی دی گئی