LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
نجران میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، سعودی اتحادی فوج کے 2 ارکان جاں بحق مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضہ گیروں کا یورپی سفارت کاروں پر حملہ نومبر تک کیلیے توانائی ضروریات کا انتظام کر لیا، وزیرخزانہ اسرائیل; عرب دنیا کے صحافیوں کی جاسوسی کا سب سے خطرناک اسکینڈل سامنے آ گیا سان فرانسسکو؛ مغربی ساحل پر پاک-امریکا ٹیک کنیکٹ 2026 کا کامیاب انعقاد مصری صدر کا 2030 میں اقتدار چھوڑنے کا اعلان، آئین میں ترمیم کی افواہیں مسترد امریکا: خریدے گئے پرانے سامان سے دوسری جنگِ عظیم کے بم برآمد مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں نے فرانسیسی میئر کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جدہ ائیرپورٹ کو 45 منٹ کی بندش کے بعد پروازوں کیلئے کھول دیا گیا بھارتی شہر کولکتہ میں مذہبی تہوار کے دوران بھگدڑ مچنے سے 17 افراد ہلاک تقریباً 15لاکھ پاکستانی بچوں نے ایک سال کے دوران انٹرنیٹ پر جنسی ہراسانی کاسامنا کیا، یونیسیف سعودی عرب میں دہشتگردی میں ملوث 5 سعودی شہریوں کو سزائے موت دیدی گئی امریکا اور ایران کی جنگ سے عالمی تیل کی ترسیل شدید متاثر پاسداران انقلاب کی امریکی طاقتور ترین غیر جوہری بم ’’مدر آف آل بمز‘‘ کے نام پر شدید تنقید مشی گن میں سینٹ نشست پر انتخابات: غزہ جنگ کے باعث یہودی، مسلم برادری میں شدید اختلافات

ایپسٹین اسکینڈل میں نیا دھماکا، امریکی کانگریس نے مزید تصاویر جاری کر دیں

Web Desk

19 December 2025

امریکا میں ایوانِ نمائندگان (ہاؤس) کے ڈیموکریٹ اراکین نے بدنام زمانہ فنانسر اور سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق مزید درجنوں تصاویر جاری کر دی ہیں۔یہ تصاویر اس وقت سامنے آئی ہیں جب امریکی محکمۂ انصاف کو ایپسٹین کیس سے متعلق مزید فائلیں جاری کرنے کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ایپسٹین، جو 2019 میں نیویارک کی جیل میں زیرِ سماعت مقدمے کے دوران ہلاک ہو گیا تھا، پر انسانی اسمگلنگ اور جنسی جرائم کے سنگین الزامات تھے۔

ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کے ڈیموکریٹ اراکین کا کہنا ہے کہ وہ عوام کو حقائق سے آگاہ رکھنے کے لیے تصاویر اور دستاویزات جاری کرتے رہیں گے۔جاری کی گئی نئی تصاویر میں ایپسٹین کو معروف دانشور نوم چومسکی، ارب پتی بل گیٹس، فلم ساز ووڈی ایلن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر اسٹیو بینن کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔بعض تصاویر میں خواتین کے پاسپورٹس، مشتبہ پیغامات اور دیگر حساس مواد بھی شامل ہے، تاہم ان کے ساتھ کوئی تفصیلی وضاحت فراہم نہیں کی گئی۔

ڈیموکریٹ اراکین نے محکمۂ انصاف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایپسٹین کیس سے متعلق تمام فائلیں فوری طور پر منظر عام پر لائے۔ دوسری جانب محکمۂ انصاف کی جانب سے تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا مقررہ ڈیڈ لائن تک مکمل ریکارڈ جاری کیا جائے گا یا نہیں۔