LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا-ایران کشیدگی، امارات میں تمام امریکی قونصلرز کی تقرری منسوخ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار پاکستان اور امریکا کا انسدادِ دہشتگردی، سائبر سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں مریم نواز سنٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا، ٹرمپ ٹول بہت زیادہ ہے: عباس عراقچی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی پاکستان اور جنوبی افریقہ ویمنز انڈر 19 کا پہلا ٹی 20 میچ آج ہوگا شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہےخواجہ آصف ایران کے بحرین میں ففتھ فلیٹ، اماراتی ٹینکروں، امریکی بحری جہاز پر حملے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمہ کیلئے ایران سے معاہدہ اب بھی ممکن ہے: ٹرمپ پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت انٹرنل ریونیو سروس کیخلاف مقدمے میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنیوالے وکلا کو سزائیں سنادی گئیں امریکا کو آبنائے ہرمز پر ٹیکس یا فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں: مارک ویلر

نیلم جہلم منصوبہ، نیسپاک کی ناقص نگرانی سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان

Web Desk

21 May 2026

نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے میں نیسپاک کی جانب سے کنسلٹنسی اور نگرانی کے فرائض میں سنگین خامیوں کے باعث قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق منصوبے کی مختلف تکنیکی غلطیوں اور ناقص نگرانی کے نتیجے میں مجموعی طور پر قومی خزانے کو 42 ارب 93 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

یہ انکشاف سید نوید قمر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا گیا، جہاں آڈیٹر جنرل حکام نے تفصیلی بریفنگ دی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیسپاک جوائنٹ وینچر کی صورت میں منصوبے کے ڈیزائن سے لے کر تعمیراتی نگرانی تک ہر مرحلے میں شامل رہی، تاہم منصوبے میں مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث سنگین تکنیکی خامیاں پیدا ہوئیں۔

آڈٹ حکام کے مطابق نیلم جہلم پاور پلانٹ کی سرنگ زمین کھسکنے کے باعث جولائی 2022 میں بند ہوئی، جبکہ مئی 2024 میں دوبارہ اسی سرنگ میں حادثہ پیش آیا جس سے منصوبے کی بحالی مزید متاثر ہوئی۔

منصوبے کی بندش کے دوران بجلی کی پیداوار نہ ہونے سے بھی اربوں روپے کا اضافی نقصان ہوا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے اس معاملے کی انکوائری جاری ہے، جس کی سربراہی سابق سیکرٹری داخلہ شاہد علی کر رہے ہیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں رکن کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ نیسپاک کے ہر معاملے کی انکوائری تو شروع ہوتی ہے مگر مکمل کیوں نہیں ہوتی۔

کمیٹی نے حتمی انکوائری رپورٹ آنے تک معاملہ مؤخر کر دیا۔