LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی برطانیہ نے امریکا ایران جنگ میں پاکستان کا کردار سراہا: اسحاق ڈار فیلڈ مارشل سے سعودی وزیر ماحولیات کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال سپریم کورٹ نے کے پی ملازمین کی سینیارٹی کیس کا فیصلہ سنا دیا مسلم لیگ (ن) کے بیرسٹر افتخار گیلانی آزاد کشمیر کے 17 ویں وزیراعظم منتخب اسحاق ڈار کی سعودی اور ترک وزرائے خارجہ سے گفتگو، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال مکہ معاہدے میں شمولیت کی دعوت ملی تو ضرور غور کریں گے: بنگلہ دیش قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سانحہ پمز پر خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنانے کی قرارداد منظور امریکی قونصل خانہ کراچی کا لنکن کارنر میں “روڈ ٹو لبرٹی” بانیانِ امریکہ میوزیم نمائش کا باقاعدہ آغاز ایشین گیمز 2026ء: شرکاء کی تعداد 17 ہزار تک پہنچ گئی، منتظمین کو رہائش کے بحران کا سامنا وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس کی صدارت سانحہ پمز: راجہ پرویز اشرف کا قومی اسمبلی میں شدید احتجاج، پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ سینیٹ اجلاس: سانحہ پمز پر اپوزیشن و حکومت کے درمیان شدید نوک جھونک، پالیسی اصلاحات کا مطالبہ سپریم کورٹ کا ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست وصول کرنے سے انکار اشرافیہ کے پرائیویٹ علاج پر پابندی سے سرکاری ہسپتال بہتر ہوں گے: سینیٹر پرویز رشید

نیلم جہلم منصوبہ، نیسپاک کی ناقص نگرانی سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان

Web Desk

21 May 2026

نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے میں نیسپاک کی جانب سے کنسلٹنسی اور نگرانی کے فرائض میں سنگین خامیوں کے باعث قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق منصوبے کی مختلف تکنیکی غلطیوں اور ناقص نگرانی کے نتیجے میں مجموعی طور پر قومی خزانے کو 42 ارب 93 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

یہ انکشاف سید نوید قمر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا گیا، جہاں آڈیٹر جنرل حکام نے تفصیلی بریفنگ دی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ نیسپاک جوائنٹ وینچر کی صورت میں منصوبے کے ڈیزائن سے لے کر تعمیراتی نگرانی تک ہر مرحلے میں شامل رہی، تاہم منصوبے میں مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث سنگین تکنیکی خامیاں پیدا ہوئیں۔

آڈٹ حکام کے مطابق نیلم جہلم پاور پلانٹ کی سرنگ زمین کھسکنے کے باعث جولائی 2022 میں بند ہوئی، جبکہ مئی 2024 میں دوبارہ اسی سرنگ میں حادثہ پیش آیا جس سے منصوبے کی بحالی مزید متاثر ہوئی۔

منصوبے کی بندش کے دوران بجلی کی پیداوار نہ ہونے سے بھی اربوں روپے کا اضافی نقصان ہوا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے اس معاملے کی انکوائری جاری ہے، جس کی سربراہی سابق سیکرٹری داخلہ شاہد علی کر رہے ہیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں رکن کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ نیسپاک کے ہر معاملے کی انکوائری تو شروع ہوتی ہے مگر مکمل کیوں نہیں ہوتی۔

کمیٹی نے حتمی انکوائری رپورٹ آنے تک معاملہ مؤخر کر دیا۔