LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران سے معاہدہ کل دستخط کے لیے تیار ہے، آبنائے ہرمز سب کے لیے کھول دی جائے گی: ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے ساتھ معاہدے پر اتوار کو دستخط نہیں ہوں گے، ایران دھمکیوں، دباؤ اور منفی پروپیگنڈے سے نہیں ڈریں گے، مومنہ اقبال بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات، متعدد روزمرہ اشیاء مہنگی ہونے کا امکان صورتحال اچھی نہیں، امتحان سے گزر رہے ہیں: وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور صرف اپنے لیے کھیلنے والوں کی قومی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں، محسن نقوی کا دوٹوک مؤقف سپریم کورٹ آف پاکستان کے لیے نئے وفاقی بجٹ میں ساڑھے 7 ارب روپے کے قریب رقم مختص برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں، وزیر خزانہ وزیراعظم بتائیں عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں ہورہی؟ خدا کے لیے فوج کے نام پر سیاست بند کریں؛بیرسٹر گوہر بھارتی ایئرفورس کا ایک اور جنگی طیارہ حادثے کا شکار معاشی وسائل صوبوں کا حق، این ایف سی میں بلوچستان کا حصہ سو فیصد بڑھا دیا: وزیراعظم سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے ضابطہ اخلاق میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی البینزم سے متاثرہ افراد کے لیے محبت اور احترام کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا،مریم نواز سکیورٹی فورسز کی میران شاہ میں کارروائیاں، مزید 21 دہشت گرد ہلاک قیام امن اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فیڈرل کانسٹیبلری کا کردار اہم ہے، محسن نقوی

پارلیمنٹ پر فارم 47 کا سایہ، 17 سیٹوں والوں نے بجٹ پیش کیا، بانی پی ٹی آئی پر ظلم بند کریں؛ علی محمد خان

Web Desk

13 June 2026

اسلام آباد: قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس اس وقت ایک منفرد رخ اختیار کر گیا جب ایک ہی دن ایوان میں اپوزیشن کی جانب سے حکومت کی قانونی حیثیت پر کڑی تنقید کی گئی، جبکہ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی و علاقائی سفارتکاری کے محاذ پر پاکستان کی ایک بہت بڑی اور تاریخی کامیابی کا اعلان کیا۔ جہاں پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان نے بجٹ اور موجودہ جمہوری نظام کو آڑے ہاتھوں لیا، وہاں حکومت نے خطے میں دیرپا امن اور مجوزہ امن معاہدے کے حوالے سے قوم کو بڑی نوید سنائی۔قومی اسمبلی کے اس اہم ترین سیشن کی تفصیلی رپورٹ درج ذیل ہے:علی محمد خان کا خطاب؛ “یہ عوام کا نہیں، 17 سیٹوں والوں کا بجٹ ہے”پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کے سینئر رہنما علی محمد خان نے بجٹ دستاویزات اور حکومتی اتحاد پر سخت سیاسی حملے کیے:عوامی مینڈیٹ پر سوال: علی محمد خان نے ایوان کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا: “کہا جاتا ہے کہ بجٹ عوام کے لیے ہوتا ہے، لیکن اس بار تو صرف 17 سیٹوں والوں کو (فارم 47 کے ذریعے) لا کر بجٹ بنوا کر پیش کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کو تو خود ان کے گھر والوں اور بچوں نے ووٹ نہیں دیا، یہ کس جمہوریت کی بات کرتے ہیں؟”لیڈران پر ظلم اور تاریخی حوالے: انہوں نے موجودہ دور کو جمہوریت کے نام پر دھبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے مقبول ترین لیڈر عمران خان کو جیل میں ڈال کر ظلم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ماضی کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ جب ایک ڈکٹیٹر نے میاں نواز شریف کو ہتھکڑی لگوائی تھی، تو اس وقت بھی میں نے آواز اٹھائی تھی۔ بے نظیر بھٹو جب وزیراعظم بنیں تو کہا گیا کہ عورت حکمران نہیں بن سکتی، اور اب سرداروں کو ہرا کر آنے والی ہماری شیر دل خاتون زرتاج گل کو زبردستی گھر بھیج دیا گیا۔آئین اور مسلح افواج کا کردار: انہوں نے فیلڈ مارشل ایوب خان کے پوتے (عمر ایوب خان) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل وہ ہوتا ہے جسے عوام کہے۔ آج فیلڈ مارشل کے پوتے کو بھی 50 سال کی سزا سنا دی گئی ہے۔ انہوں نے قائدِ اعظم محمد علی جناح کا قول دہراتے ہوئے واضح کیا کہ بانیِ پاکستان کے مطابق ہماری مسلح افواج (Armed Forces) پبلک سرونٹس ہیں، انہیں سیاست سے دور رہنا چاہیے۔وزیراعظم شہباز شریف کا اعلان: “تاریخی امن معاہدہ اگلے 24 گھنٹوں میں متوقع”قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے احتجاج کے درمیان وزیراعظم شہباز شریف نے خطے (بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی) کے حوالے سے پاکستان کی کامیاب ترین سفارتکاری کی تفصیلات پیش کیں:معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کی تیاریاں:”وزیراعظم نے ملک اور ایوان کو خوشخبری سناتے ہوئے بتایا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے تاریخی امن معاہدہ اب پہلے سے کہیں زیادہ قریب آچکا ہے اور آئندہ 24 گھنٹوں میں اسے حتمی شکل دیے جانے کا قوی امکان ہے”۔عالمی شراکت داروں کا شکریہ: وزیراعظم نے امن کے قیام میں عالمی طاقتوں اور برادر ممالک کے کلیدی کردار کو سراہا:امریکا کا کردار: شہباز شریف نے امن عمل میں امریکا کی مسلسل معاونت، تعاون اور سفارتی کوششوں کو دل کھول کر سراہا اور واشنگٹن کا شکریہ ادا کیا۔ایران کی کوششیں: انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی تعمیری، مثبت اور مخلصانہ سفارتی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے خطے کے لیے قابلِ قدر قرار دیا۔امن معاہدے کے بعد کا لائحہ عمل (Technical Talks)وزارتِ خارجہ اور وزیراعظم کے بیان کے مطابق، معاہدے کی حتمی منظوری کے فوراً بعد اس پر باقاعدہ دستخط کر دیے جائیں گے۔اقتصادی اور سفارتی فوائد کی تفصیل درج ذیل میز میں دیکھی جا سکتی ہے:مرحلہ / اقداممتوقع اثرات اور تفصیلاتاگلے 24 گھنٹےمعاہدے کی حتمی منظوری اور الیکٹرانک دستخط (E-Signatures)۔اگلا ہفتہدونوں فریقین کے درمیان تکنیکی سطح (Technical Level) کے مذاکرات کا آغاز۔علاقائی پوزیشنپاکستان دونوں فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔مستقبل کا وژنخطے میں طویل مدتی کشیدگی کا خاتمہ، ٹریڈ روٹس کی بحالی اور پائیدار استحکام۔