LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ، نوٹیفکیشن جاری ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر میڈیا رپورٹنگ کو غلط قرار دے دیا ازبکستان کی سینٹرم ایئر کا پاکستان کیلئے فضائی آپریشن شروع، پہلی پرواز کراچی پہنچ گئی اسحاق ڈار کا نومنتخب او آئی سی سیکریٹری جنرل سے رابطہ، عہدے سنبھالنے پر مبارکباد سندھ اسمبلی نے سندھ کی تقسیم کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی سندھ کی تقسیم کی بات بھی نہیں کی جاسکتی: مراد شاہ نے قومی اسمبلی کو خبردار کردیا شہباز شریف کا نیپالی سفارتخانے کا دورہ، سیلاب سے ہلاکتوں پر اظہار تعزیت مہمند ڈیم پاکستان کی واٹر، فوڈ اور انرجی سکیورٹی کیلئے اہم قومی منصوبہ ہے: چیئرمین واپڈا یومِ دفاع پر سائبر حملوں کا خدشہ، نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کی اہم ہدایات ٹرمپ اور اماراتی صدر کا ٹیلی فونک رابطہ، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو امریکی حملوں میں شہید شہریوں کے خون کا حساب لیا جائے گا: پاسداران انقلاب نیتن یاہو کا ایرانی حکومت گرانے کیلئے کام جاری رکھنے کا اعلان پاکستان کی روسی مشرق بعید کے ساتھ تخلیقی معیشت میں تعاون بڑھانے کی تجویز مکہ معاہدہ پاکستان کی سفارتی تاریخ میں اہم سنگ میل ہے: ملک احمد خان سرکاری ہسپتالوں کی سہولیات پر اپوزیشن کی تحریک التوائے کار کثرت رائے سے مسترد

تحریکِ تحفظِ آئین نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف ملک گیر تحریک کا اعلان کر دیا

Web Desk

8 November 2025

تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف ملک گیر تحریک شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ یہ اقدام آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے اور ملک کو ایک نازک موڑ پر پہنچنے کے تناظر میں عوام کو منظم آواز بننے کی دعوت دی ہے۔

علامہ ناصر عباس نے کہا کہ 1971 کی المناک تاریخ سے سبق نہیں سیکھا گیا اور اب ملک ایک بار پھر تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندر جمہوری ادارے مفلوج کر دیے گئے ہیں اور آئین سے مسلسل کھلواڑ ہو رہا ہے۔ علامہ ناصر عباس نے عوام کو متحرک ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم سیاہ اور تاریک 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف اٹھ کھڑی ہو انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو پاکستان اور دستور کا نعرہ لگانا چاہیے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئین ریاست اور وہاں کے باسیوں کے درمیان ایک عمرانی معاہدہ ہے جس سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین کے تحفظ کا حلف اُنہوں نے پانچ بار لیا ہے اور اب پارلیمنٹ کو ڈبیٹنگ سوسائٹی کی طرح کام کرنے سے بچانے کی ضرورت ہے۔ اچکزئی نے اعلان کیا کہ کل رات سے ہماری ملک گیر تحریک شروع ہو جائے گی۔اور ان کا کہنا تھا کہ تحریک کا واحد نعرہ ہوگا: جمہوریت زندہ باد، آمریت مردہ باد

رہنماؤں نے مزید کہا کہ ان کی تیسری ترجیح قیدیوں کی رہائی ہوگی اور ہر شب و روز عوام کے ساتھ نئے نعرے لے کر آگے بڑھا جائے گا۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ طاقتوروں کو مزید قوت دینے کے لیے آئینی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جو کہ عوام اور جمہوری اداروں کے مفاد کے خلاف ہیں۔

تحریک کے قائدین نے زور دے کر کہا کہ اُن کا مقصد تکبر میں مبتلا حکمرانوں کو خبردار کرنا اور یہ باور کرانا ہے کہ پاکستان کی قسمت عوام کے فیصلے سے وابستہ ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آئین بالادست ہوگا اور پارلیمنٹ ہی طاقت کا سرچشمہ رہے گی۔ اسی حوالے سے انہوں نے خطے کے ساتھ ‘جیو اور جینے دو’ کی پالیسی کے تحت باہمی تعلقات کے اصول بھی واضح کرنے کی بات کی۔

تحریکِ تحفظِ آئین نے عوامی شرکت، پرامن احتجاج اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے پر زور دیا ہے۔ عہدیداران نے حکومت سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ آئینی معاملات اور 27ویں ترمیم کے حوالے سے شفاف اور کھلی بات چیت کا راستہ اپنائے تاکہ صورتِ حال مشتعل ہونے سے بچ سکے۔