LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کارِ سرکار میں مداخلت کیس: ندیم نانی والا کو عدالت سے ریلیف، مقدمے سے بری تیزاب گردی کا شکار لیڈی ڈاکٹر کو بچانے والے وارڈ بوائے کیلئے سول ایوارڈ کا اعلان اداکارہ ماہرہ خان کا تیزاب حملے پر شدید ردعمل، مردوں سے بھی آواز بلند کرنے کا مطالبہ کوئٹہ میں تیزاب گردی کا شکار لیڈی ڈاکٹر کی حالت میں بہتری، حالت خطرے سے باہر ایران جنگ کے 100 دن مکمل، عالمی معیشت، تجارت اور سیاست شدید دباؤ کا شکار مہاجرین کی نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں، آزاد کشمیر سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر رائے گلگت بلتستان میں انتخابی میدان گرم، 24 نشستوں پر پولنگ جاری کراچی میں گرمی کا پارہ چڑھنے لگا، ہیٹ ویو کا الرٹ پاکستان میں 377روپے فی لیٹر پیٹرول میں 142 روپے سے زائد ٹیکس اور مارجنز شامل اسلام آباد: امریکا کے 250 ویں یومِ آزادی کا جشن، سفارتخانے میں رنگا رنگ تقریب کا انعقاد نیویارک: اوورسیز کشمیریوں کا عوامی ایکشن کمیٹی سے یکجہتی کا اظہار آزاد کشمیر: 9 جون کی ہڑتال کی کال، انٹرنیٹ معطل، معمولات زندگی متاثر آزاد جموں و کشمیر: کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 کارکن گرفتار یلو لائن منصوبے میں 6ارب روپے کی مبینہ کرپشن، سندھ حکومت نے تحقیقات شروع کر دیں پنجاب اسمبلی میں ترقی، جدید کاری کیلئے 7 ارب 41 کروڑ کے ترقیاتی پیکیج کی تجویز

تحریکِ تحفظِ آئین نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف ملک گیر تحریک کا اعلان کر دیا

Web Desk

8 November 2025

تحریکِ تحفظِ آئین پاکستان نے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف ملک گیر تحریک شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ محمود اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ یہ اقدام آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے ضروری ہے اور ملک کو ایک نازک موڑ پر پہنچنے کے تناظر میں عوام کو منظم آواز بننے کی دعوت دی ہے۔

علامہ ناصر عباس نے کہا کہ 1971 کی المناک تاریخ سے سبق نہیں سیکھا گیا اور اب ملک ایک بار پھر تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندر جمہوری ادارے مفلوج کر دیے گئے ہیں اور آئین سے مسلسل کھلواڑ ہو رہا ہے۔ علامہ ناصر عباس نے عوام کو متحرک ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم سیاہ اور تاریک 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف اٹھ کھڑی ہو انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو پاکستان اور دستور کا نعرہ لگانا چاہیے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آئین ریاست اور وہاں کے باسیوں کے درمیان ایک عمرانی معاہدہ ہے جس سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین کے تحفظ کا حلف اُنہوں نے پانچ بار لیا ہے اور اب پارلیمنٹ کو ڈبیٹنگ سوسائٹی کی طرح کام کرنے سے بچانے کی ضرورت ہے۔ اچکزئی نے اعلان کیا کہ کل رات سے ہماری ملک گیر تحریک شروع ہو جائے گی۔اور ان کا کہنا تھا کہ تحریک کا واحد نعرہ ہوگا: جمہوریت زندہ باد، آمریت مردہ باد

رہنماؤں نے مزید کہا کہ ان کی تیسری ترجیح قیدیوں کی رہائی ہوگی اور ہر شب و روز عوام کے ساتھ نئے نعرے لے کر آگے بڑھا جائے گا۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ طاقتوروں کو مزید قوت دینے کے لیے آئینی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جو کہ عوام اور جمہوری اداروں کے مفاد کے خلاف ہیں۔

تحریک کے قائدین نے زور دے کر کہا کہ اُن کا مقصد تکبر میں مبتلا حکمرانوں کو خبردار کرنا اور یہ باور کرانا ہے کہ پاکستان کی قسمت عوام کے فیصلے سے وابستہ ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ آئین بالادست ہوگا اور پارلیمنٹ ہی طاقت کا سرچشمہ رہے گی۔ اسی حوالے سے انہوں نے خطے کے ساتھ ‘جیو اور جینے دو’ کی پالیسی کے تحت باہمی تعلقات کے اصول بھی واضح کرنے کی بات کی۔

تحریکِ تحفظِ آئین نے عوامی شرکت، پرامن احتجاج اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے پر زور دیا ہے۔ عہدیداران نے حکومت سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ آئینی معاملات اور 27ویں ترمیم کے حوالے سے شفاف اور کھلی بات چیت کا راستہ اپنائے تاکہ صورتِ حال مشتعل ہونے سے بچ سکے۔