LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کی اسلام آباد ٹیکنالوجی پارک کی تعمیر جلد مکمل کرنے کی ہدایت بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے: سہیل آفریدی ٹرمپ نے عمان کو آبنائے ہرمز میں مداخلت پر حملے کی دھمکی دیدی چیف جسٹس سے انگلینڈ اینڈ ویلز ہائی کورٹ کے جج جسٹس کی ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملے گی: رانا ثناء اللہ وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت پولیس حملہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کر دیا پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل پشاور ہائیکورٹ کے 4 مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات

امریکی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ؛ کمشنر فائزہ علی کی اتحادی تنظیموں کے ہمراہ شرکت اور خیرمقدم

Web Desk

1 July 2026

نیویارک: میئرز آفس آف امیگرنٹ افیئرز (MOIA) کی کمشنر فائزہ این علی نے نیویارک امیگریشن کوالیشن (NYIC) اور ‘میک دی روڈ نیویارک’ کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک اہم پریس کانفرنس میں شرکت کی، جو امریکی سپریم کورٹ (SCOTUS) کی جانب سے پیدائشی شہریت (Birthright Citizenship) کو برقرار رکھنے کے تاریخی فیصلے کے ردِعمل میں بلائی گئی تھی۔ پریس کانفرنس کے دوران کمشنر فائزہ علی نے مکسٹیکا آرگنائزیشن، منکوان سینٹر، مسلم کمیونٹی نیٹ ورک، عرب امریکن ایسوسی ایشن نیویارک، لاس ڈونیاس، کبرینی امیگرنٹ سروسز NYC، نیویارک سول لبرٹیز یونین، اور متعدد منتخب عہدیداروں کے ہمراہ اس تاریخی فیصلے کا جشن منایا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکہ میں پیدا ہونے والے تمام بچے امریکی شہری ہیں، قطع نظر اس کے کہ ان کے والدین کا امیگریشن اسٹیٹس کیا ہے۔

کمشنر فائزہ علی اور دیگر مقررین نے واضح کیا کہ اگرچہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے تارکینِ وطن کی برادریوں کو بڑی راحت ملی ہے، تاہم ان کا مصلحانہ مشن ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے شراکت داروں اور مقامی کمیونٹیز کے ساتھ مل کر تزویراتی بنیادوں پر کام جاری رکھیں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام نیویارکرز، اپنے امیگریشن اسٹیٹس سے بالاتر ہو کر، خود کو محفوظ اور معاون محسوس کریں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام شہریوں کو اپنے حقوق جاننے (Know Your Rights) سے متعلق معلوماتی مواد سمیت شہر اور کمیونٹی کے تمام مروجہ وسائل تک بلا روک ٹوک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔