پاور سیکٹر کی جانب سے درآمدی ایل این جی نہ اٹھانے سے 1100 ارب روپے کے نقصانات کا انکشاف
Web Desk
7 January 2026
پاور سیکٹر کی جانب سے درآمدی ایل این جی بروقت نہ اٹھانے سے ملک کو 1100 ارب روپے تک کے بھاری مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ انکشاف وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے پٹرولیم سیکٹر کی مجموعی کارکردگی پر بیٹ رپورٹرز کو دی گئی بریفنگ کے دوران کیا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ ماضی میں پاور سیکٹر کی کم طلب اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث درآمد کی گئی مہنگی ایل این جی بروقت استعمال نہ ہو سکی، جبکہ اسی گیس کو گھریلو صارفین کو کم نرخوں پر فراہم کیا جاتا رہا، جس سے قومی خزانے کو مسلسل اور بھاری نقصان پہنچتا رہا۔ ان کے مطابق اس غلط پالیسی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 1100 ارب روپے تک کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔
علی پرویز ملک نے بتایا کہ حکومت نے اس صورتحال سے نکلنے کے لیے قطر کے ساتھ ایل این جی معاہدے پر نظرثانی کی، جس کے نتیجے میں فی کارگو تقریباً ایک ڈالر فی یونٹ زرمبادلہ کی بچت ممکن ہوئی۔ نظرثانی شدہ معاہدے کے تحت 2026 میں قطر سے ماہانہ 10 کے بجائے 7 ایل این جی کارگوز درآمد کیے جائیں گے، یوں سالانہ درآمدات 120 کارگوز سے کم ہو کر 84 کارگوز رہ جائیں گی۔
وفاقی وزیر کے مطابق اسی معاہدے کی بدولت حکومت رواں سال گیس کی قیمتوں میں اضافہ روکنے میں کامیاب رہی، حالانکہ اوگرا کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی سفارش موجود تھی۔ انہوں نے بتایا کہ 18 نومبر کو قطر کے ساتھ سرپلس ایل این جی کارگوز کو عالمی مارکیٹ منتقل کرنے کا معاہدہ طے پایا، جس سے اضافی کارگوز کو نقصان کے بجائے منافع یا کم از کم نقصان سے بچانے میں مدد ملی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے تحت 242 ارب روپے مالیت کی درآمدی ایل این جی کو گھریلو سیکٹر میں منتقل ہونے سے روکا گیا، جو ماضی میں خسارے کی بڑی وجہ بنتی رہی۔ بہتر منصوبہ بندی، کارگوز کی ڈائیورشن اور اصلاحات کے ذریعے گیس سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کے فلو کو زیرو کر دیا گیا ہے۔
اس موقع پر ایڈیشنل سیکریٹری پٹرولیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کے لیے آف شور 40 بلاکس میں سے 30 کی نیلامی مکمل کر لی گئی ہے، جن میں تین بلاکس میں غیر ملکی سرمایہ کاری بھی حاصل ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ 14 آن شور بلاکس کی نیلامی پر بھی عملی کام کا آغاز ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت مستقبل میں ایک انٹیگریٹڈ انرجی پلان پر کام کر رہی ہے، جبکہ ورلڈ بینک کے تعاون سے گردشی قرض کے مسئلے کے حل کے لیے ایک خصوصی ٹول بھی تیار کیا گیا ہے۔ ریفائنریز کی اپ گریڈیشن سے متعلق صنعتوں کے ساتھ مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ ملکی ریفائنریز کو جلد از جلد یورو فائیو معیار پر منتقل کیا جائے۔
حکام کے مطابق یہ اقدامات توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات، مالی خسارے میں کمی اور مستقبل میں توانائی کے بہتر اور شفاف انتظام کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوں گے
متعلقہ عنوانات
ورلڈ الٹیمیٹ ایتھلیٹکس چیمپئن شپ، ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر
13 September 2026
20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا: حافظ نعیم الرحمٰن
13 September 2026
ایران کے ساتھ جنگ مڈٹرم انتخابات کے بعد ختم ہوجائے گی: ٹرمپ کا دعویٰ
13 September 2026
عراق کا ایران کے ساتھ 3 سرحدی گزرگاہوں پر آمدورفت بحال کرنے کا اعلان
13 September 2026
سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ، عراقی فورسز نے لانچنگ سائٹ کا سراغ لگا لیا
13 September 2026
وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کا ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال
13 September 2026
28 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے: سلمان اکرم راجہ
13 September 2026
ہرنائی میں پاک فوج کا بروقت ریسکیو آپریشن، 5 کان کن زندہ نکال لیے
13 September 2026