LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کا 75 ممالک پر عائد ویزا پابندی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا امریکا کی معاشی جنگ میں مدد کرنے والے ممالک کے مفادات کو نشانہ بنائیں گے، محسن رضائی روس کے یوکرین پر جوابی حملے زیادہ تکلیف دہ اور تباہ کن ہیں، صدر پوتن تجارتی مذاکرات ناکام، کینیڈا کا بھی امریکا پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا حکم، اسلام آباد انتظامیہ نے نظرثانی اپیل کی جلد سماعت کی درخواست دائر کر دی جنگ کے دوران ایران کی دفاعی پیداوار میں دوگنا اضافہ ہوا، ایرانی وزارت دفاع ایرانی بسیج کمانڈر حسین طائب کا امریکا کی ایران مخالف پالیسی میں تبدیلی کا دعویٰ دمشق کے جنوب میں اسرائیلی ڈرون حملہ، شامی حکومت کی شدید مذمت یوکرین کے ڈرون حملے، روس کے زیر انتظام علاقوں میں 10 افراد ہلاک وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستان ریلویز کا مزید دو ٹرینیں بحال کرنے کا اعلان خطے میں امن کیلئے مقامی اور آزاد علاقائی سکیورٹی نظام ناگزیر ہے: ایرانی سپیکر پوتن کا آئندہ پارلیمانی انتخابات پر اعتماد، ملک کے استحکام اور سیاسی نظام کی پختگی کا اظہار مغرب یوکرینیوں کی لاشیں استعمال کرکے روس کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے: سرگئی لاوروف پیپلز پارٹی کو انتخابات میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں دی گئی: وزیراعظم آزاد کشمیر کابینہ کمیٹی اجلاس: ڈسکوز فیسکو، گیپکو اور آئیسکو کی تنظیم نو کے منصوبے کی منظوری

پاور سیکٹر کی جانب سے درآمدی ایل این جی نہ اٹھانے سے 1100 ارب روپے کے نقصانات کا انکشاف

Web Desk

7 January 2026

پاور سیکٹر کی جانب سے درآمدی ایل این جی بروقت نہ اٹھانے سے ملک کو 1100 ارب روپے تک کے بھاری مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ انکشاف وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے پٹرولیم سیکٹر کی مجموعی کارکردگی پر بیٹ رپورٹرز کو دی گئی بریفنگ کے دوران کیا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ماضی میں پاور سیکٹر کی کم طلب اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث درآمد کی گئی مہنگی ایل این جی بروقت استعمال نہ ہو سکی، جبکہ اسی گیس کو گھریلو صارفین کو کم نرخوں پر فراہم کیا جاتا رہا، جس سے قومی خزانے کو مسلسل اور بھاری نقصان پہنچتا رہا۔ ان کے مطابق اس غلط پالیسی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 1100 ارب روپے تک کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔

علی پرویز ملک نے بتایا کہ حکومت نے اس صورتحال سے نکلنے کے لیے قطر کے ساتھ ایل این جی معاہدے پر نظرثانی کی، جس کے نتیجے میں فی کارگو تقریباً ایک ڈالر فی یونٹ زرمبادلہ کی بچت ممکن ہوئی۔ نظرثانی شدہ معاہدے کے تحت 2026 میں قطر سے ماہانہ 10 کے بجائے 7 ایل این جی کارگوز درآمد کیے جائیں گے، یوں سالانہ درآمدات 120 کارگوز سے کم ہو کر 84 کارگوز رہ جائیں گی۔

وفاقی وزیر کے مطابق اسی معاہدے کی بدولت حکومت رواں سال گیس کی قیمتوں میں اضافہ روکنے میں کامیاب رہی، حالانکہ اوگرا کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی سفارش موجود تھی۔ انہوں نے بتایا کہ 18 نومبر کو قطر کے ساتھ سرپلس ایل این جی کارگوز کو عالمی مارکیٹ منتقل کرنے کا معاہدہ طے پایا، جس سے اضافی کارگوز کو نقصان کے بجائے منافع یا کم از کم نقصان سے بچانے میں مدد ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے تحت 242 ارب روپے مالیت کی درآمدی ایل این جی کو گھریلو سیکٹر میں منتقل ہونے سے روکا گیا، جو ماضی میں خسارے کی بڑی وجہ بنتی رہی۔ بہتر منصوبہ بندی، کارگوز کی ڈائیورشن اور اصلاحات کے ذریعے گیس سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کے فلو کو زیرو کر دیا گیا ہے۔

اس موقع پر ایڈیشنل سیکریٹری پٹرولیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کے لیے آف شور 40 بلاکس میں سے 30 کی نیلامی مکمل کر لی گئی ہے، جن میں تین بلاکس میں غیر ملکی سرمایہ کاری بھی حاصل ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ 14 آن شور بلاکس کی نیلامی پر بھی عملی کام کا آغاز ہو چکا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت مستقبل میں ایک انٹیگریٹڈ انرجی پلان پر کام کر رہی ہے، جبکہ ورلڈ بینک کے تعاون سے گردشی قرض کے مسئلے کے حل کے لیے ایک خصوصی ٹول بھی تیار کیا گیا ہے۔ ریفائنریز کی اپ گریڈیشن سے متعلق صنعتوں کے ساتھ مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ ملکی ریفائنریز کو جلد از جلد یورو فائیو معیار پر منتقل کیا جائے۔

حکام کے مطابق یہ اقدامات توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات، مالی خسارے میں کمی اور مستقبل میں توانائی کے بہتر اور شفاف انتظام کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوں گے