LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی طالبان رجیم کیخلاف 68 کارروائیاں،102 اہلکار ہلاک یوکرین کا حملوں کی صورت روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے کا عمل مزید تیز کرنے کا اعلان سعودی و یمنی افواج نے حوثیوں کیخلاف فوجی کارروائی کا منصوبہ بنا لیا مقبوضہ مغربی کنارے کا پورا علاقہ اسرائیل کا ہے، اتمار بن گویر ایرانی بیلسٹک میزائلوں کا خوف، امریکی افواج آبنائے ہرمز سے 500 کلومیٹر دور چلی گئیں: ایرانی کمانڈر ڈیڈ لاک برقرار، حکومت اور اپوزیشن میں جاری مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا آج سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان حکومت اپوزیشن مذاکرات کا نتیجہ جلد سامنے آئے گا: شوکت یوسف زئی وائٹ سی ایگل راستہ بھٹک کر سندھ آپہنچا، نایاب پرندے کی آنکھیں سی کر پر کاٹ دیے گئے حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان مذاکرات ناکام، پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان مذاکرات شروع ہونا بڑی کامیابی، سلسلہ ٹوٹنا نہیں چاہیے: فواد چودھری ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ سے سبق سیکھ کر شرائط قبول کریں: ایرانی پاسداران انقلاب اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک ہفتے میں دو بڑی کارروائیاں، 47 کلوگرام مشتبہ منشیات برآمد اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی میں 15 اکتوبر تک توسیع گورنر راج یا ایمرجنسی سے پہلے سیاسی جماعتوں کو راستہ تلاش کرنا چاہیے: بلاول بھٹو

پاور سیکٹر کی جانب سے درآمدی ایل این جی نہ اٹھانے سے 1100 ارب روپے کے نقصانات کا انکشاف

Web Desk

7 January 2026

پاور سیکٹر کی جانب سے درآمدی ایل این جی بروقت نہ اٹھانے سے ملک کو 1100 ارب روپے تک کے بھاری مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ انکشاف وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے پٹرولیم سیکٹر کی مجموعی کارکردگی پر بیٹ رپورٹرز کو دی گئی بریفنگ کے دوران کیا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ ماضی میں پاور سیکٹر کی کم طلب اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث درآمد کی گئی مہنگی ایل این جی بروقت استعمال نہ ہو سکی، جبکہ اسی گیس کو گھریلو صارفین کو کم نرخوں پر فراہم کیا جاتا رہا، جس سے قومی خزانے کو مسلسل اور بھاری نقصان پہنچتا رہا۔ ان کے مطابق اس غلط پالیسی کے نتیجے میں مجموعی طور پر 1100 ارب روپے تک کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔

علی پرویز ملک نے بتایا کہ حکومت نے اس صورتحال سے نکلنے کے لیے قطر کے ساتھ ایل این جی معاہدے پر نظرثانی کی، جس کے نتیجے میں فی کارگو تقریباً ایک ڈالر فی یونٹ زرمبادلہ کی بچت ممکن ہوئی۔ نظرثانی شدہ معاہدے کے تحت 2026 میں قطر سے ماہانہ 10 کے بجائے 7 ایل این جی کارگوز درآمد کیے جائیں گے، یوں سالانہ درآمدات 120 کارگوز سے کم ہو کر 84 کارگوز رہ جائیں گی۔

وفاقی وزیر کے مطابق اسی معاہدے کی بدولت حکومت رواں سال گیس کی قیمتوں میں اضافہ روکنے میں کامیاب رہی، حالانکہ اوگرا کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی سفارش موجود تھی۔ انہوں نے بتایا کہ 18 نومبر کو قطر کے ساتھ سرپلس ایل این جی کارگوز کو عالمی مارکیٹ منتقل کرنے کا معاہدہ طے پایا، جس سے اضافی کارگوز کو نقصان کے بجائے منافع یا کم از کم نقصان سے بچانے میں مدد ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے تحت 242 ارب روپے مالیت کی درآمدی ایل این جی کو گھریلو سیکٹر میں منتقل ہونے سے روکا گیا، جو ماضی میں خسارے کی بڑی وجہ بنتی رہی۔ بہتر منصوبہ بندی، کارگوز کی ڈائیورشن اور اصلاحات کے ذریعے گیس سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کے فلو کو زیرو کر دیا گیا ہے۔

اس موقع پر ایڈیشنل سیکریٹری پٹرولیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کے لیے آف شور 40 بلاکس میں سے 30 کی نیلامی مکمل کر لی گئی ہے، جن میں تین بلاکس میں غیر ملکی سرمایہ کاری بھی حاصل ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ 14 آن شور بلاکس کی نیلامی پر بھی عملی کام کا آغاز ہو چکا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت مستقبل میں ایک انٹیگریٹڈ انرجی پلان پر کام کر رہی ہے، جبکہ ورلڈ بینک کے تعاون سے گردشی قرض کے مسئلے کے حل کے لیے ایک خصوصی ٹول بھی تیار کیا گیا ہے۔ ریفائنریز کی اپ گریڈیشن سے متعلق صنعتوں کے ساتھ مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ ملکی ریفائنریز کو جلد از جلد یورو فائیو معیار پر منتقل کیا جائے۔

حکام کے مطابق یہ اقدامات توانائی کے شعبے میں پائیدار اصلاحات، مالی خسارے میں کمی اور مستقبل میں توانائی کے بہتر اور شفاف انتظام کی جانب ایک اہم پیش رفت ثابت ہوں گے