LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پارٹی میں دھڑے بندی نہیں لیکن کچھ لوگوں کے اختلافات ہیں,علی امین گنڈاپور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف بی آر کا نیا “فیس لیس آڈٹ سسٹم” اور ٹیکس چوری کے ہولناک انکشافات محسن نقوی سے برطانوی نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، انسداد دہشتگردی تعاون پر اتفاق پاکستان ریلوے کی 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، 5 کے ٹھیکے دیے جا سکے سندھ کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی منظوری دے دی پاکستان کا 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کا اعلان حکومت نے معیشت کو بحران سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا، عطا تارڑ بلوچستان گرینڈ الائنس کا مطالبات کے حق میں اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان امریکا کا اسرائیل کو ایران معاہدے کی تفصیلات دینے سے انکار صارفین کیلئے بُری خبر! بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست جمع ایران اور امریکا کے درمیان تاریخی معاہدے پر دستخط کا مقام تبدیل ایران نے امریکہ کو اپنی شرائط پر مذاکرات کی ٹیبل پر آنے پر مجبور کیا، ابراہیم عزیزی سندھ اور بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا معاہدے کے تحت ایران کو فوری طور پر تیل فروخت کی اجازت دی جائے گی، امریکی اخبار برطانوی پارلیمنٹ کا جنگ بندی کیلئے سفارتی کامیابی پر پاکستان کو زبردست خراج تحسین

ہانیہ احمد قتل کیس: عدالت کی سی سی ڈی کیخلاف درخواست لگانے کی ہدایت

Web Desk

17 June 2026

لاہور ہائیکورٹ نے چکوال میں پیش آنے والے افسوسناک 9 سالہ ہانیہ احمد قتل کیس کی شفاف تحقیقات کے لیے دائر متفرق درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی/سی سی ڈی) کی قانونی حیثیت کے خلاف دائر مرکزی درخواست کے ساتھ یکجا کر کے پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس شہرام سرور چوہدری نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے دائر متفرق درخواست پر اہم سماعت کی۔ دورانِ سماعت جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے سربراہ اور نامور قانون دان ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے عدالت کے سامنے مضبوط موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی اندھا دھند فائرنگ سے نہ صرف معصوم بچی ہانیہ احمد جاں بحق ہوئی بلکہ اس کے والد اور کمسن بھائی بھی شدید زخمی ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ محض کوئی اتفاقی غلطی نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزی ہے، اور کسی بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے کو شہریوں پر یوں گولیاں چلانے کا “لائسنس ٹو کل” (قتل کا لائسنس) ہرگز نہیں دیا جا سکتا۔

ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے استدعا کی کہ واقعے کے فوری بعد جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی (CCTV) فوٹیج، وائرلیس کی گفتگو کا ڈیٹا اور اہلکاروں کا اسلحہ ریکارڈ فوری طور پر قبضے میں لے کر محفوظ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ ہانیہ احمد کیس بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے انسانی حقوق کے وعدوں کا ایک بڑا امتحان ہے، لہذا متعلقہ فورس کے قواعد و ضوابط، تربیت اور نگرانی کے موجودہ نظام میں فوری اور بنیادی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اس ہولناک سانحے کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قتل کا باقاعدہ مقدمہ درج کیا جائے اور چکوال سانحہ پر اعلیٰ عدلیہ کی براہِ راست نگرانی میں شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔

سماعت کے دوران معزز جج جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ جغرافیائی طور پر لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بنچ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، تو یہ درخواست یہاں مین پرنسپل سیٹ پر کس طرح قابلِ سماعت ہے؟ اس پر وکیل اظہر صدیق نے وضاحت پیش کی کہ وہ یہاں مخصوص واقعے کے ساتھ ساتھ مذکورہ فورس کی مجموعی قانونی حیثیت اور دائرہ اختیار کے تعین کے چیلنج کے لیے آئے ہیں، جو کہ صوبائی سطح کا معاملہ ہے۔ وکیل کے اس موقف پر معزز عدالت نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ ٹھیک ہے، آپ کی اس متفرق درخواست کو اس محکمے کے خلاف پہلے سے زیرِ سماعت مرکزی درخواست کے ساتھ نتھی کر کے ایک ساتھ ہی سنا جائے گا۔