LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کو عوامی ہال میں چینی ہم منصب کا پرتپاک استقبالیہ، گارڈ آف آنر پیش پاکستانی نژاد برطانوی باکسر حمزہ شیراز عالمی چیمپئن بن گئے سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار پوائنٹس کی حد پر بحال عوامی ٹرانسپورٹ میں اوورچارجنگ، اوورلوڈنگ کیخلاف سخت کارروائی کا حکم امریکا،ایران معاہدے کو حتمی شکل دینے میں چند دن لگ سکتے ہیں: امریکی میڈیا سوات ایکسپریس وے پر وین کی بس کو ٹکر، 11 افراد جاں بحق، 7 زخمی امریکہ ایران معاہدے پر غیر یقینی صورتحال، عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ایرانی و عمانی سفارتکاروں کا رابطہ، سفارتی رابطوں کی اہمیت کا اعادہ امریکی صدر اور انکی انتظامیہ کو ایران کی پالیسی بارے شدید تنقید کا سامنا بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی نے محسن نقوی سے ملاقات خاندان کو اعتماد میں لیے بغیر کی:علیمہ خان  شکیرا کے فیفا ورلڈ کپ 2026 گانے کی ویڈیو جاری، میسی اور امباپے سمیت عالمی ستارے شامل پاکستان اور چینی کمپنیوں کے درمیان 7 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں پر دستخط ایران کی کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ تعاون پر زور 8ذوالحج: مناسک حج کا آغاز، 20 لاکھ سے زائد عازمین منیٰ پہنچنے لگے بلوچستان حملہ پوری قوم کے دل پر وار ہے: نواز شریف

کراچی: مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم کا خود کیس لڑنے کا اعلان

Web Desk

25 May 2026

کراچی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) / جیل کمپلیکس میں مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے خلاف صحافی پر حملے کے مقدمے کی سماعت کے دوران اس وقت شدید ڈرامائی صورتحال پیدا ہو گئی جب ملزم کمرہ عدالت میں آپے سے باہر ہو کر اپنی ہی والدہ اور قانونی وکیل پر برس پڑا۔

سماعت کے دوران ملزم ارمغان نے عدالت میں شدید شور شرابہ کیا اور جج کے سامنے اپنے ہی خاندان اور وکیل کے خلاف سنگین الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔

ملزم ارمغان نے کٹہرے میں کھڑے ہو کر بلند آواز میں جج سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا”میری والدہ اور میرے وکیل ملی بھگت کر کے مجھے عدالت کے سامنے ’پاگل‘ (دماغی طور پر مفلوج) قرار دلوانا چاہتے ہیں تاکہ یہ مجھے کیس سے بچانے کا بہانہ بنا کر دراصل میرے پیسوں کے پیچھے پڑ سکیں اور میری دولت ہڑپ کر سکیں۔“

ملزم نے اپنے وکیل کی خدمات لینے سے صاف انکار کرتے ہوئے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا”میں دماغی طور پر بالکل ٹھیک اور تندرست ہوں، مجھے کسی وکیل کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں اپنا یہ کیس کسی کے سہارے کے بغیر خود چلانا چاہتا ہوں اور اپنے دلائل خود پیش کروں گا۔“

ملزم کی جانب سے کمرہ عدالت میں شدید ہنگامہ آرائی اور شور شرابے کے بعد عدالت نے کیس کی کارروائی کو آگے بڑھانے کے بجائے سماعت یکم جون تک کے لیے ملتوی کر دی۔عدالت نے مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے درج ذیل احکامات جاری کیے ہیں عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ (Prosecution) کے تمام اہم گواہان کو بیانات قلمبند کروانے کے لیے باقاعدہ طلب کر لیا ہے۔ یکم جون کو ہونے والی اگلی سماعت پر ملزم کے خلاف دائر اس مقدمے سے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (ATA) کی سخت دفعات کو خارج کرنے یا برقرار رکھنے سے متعلق دونوں اطراف کے وکلاء تفصیلی دلائل دیں گے۔