LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت انٹرنل ریونیو سروس کیخلاف مقدمے میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنیوالے وکلا کو سزائیں سنادی گئیں امریکا کو آبنائے ہرمز پر ٹیکس یا فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں: مارک ویلر ایران، امریکا کے درمیان جنگ بندی ختم ، مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے: میڈیا رپورٹ امریکی فوج کے ایران پر تیسرے روز بھی فضائی حملے، کئی شہروں میں دھماکے خواجہ محمد آصف نے فضل الرحمان کے بیان کو اخلاقی بے حسی قرار دیدیا امریکی بحری جہاز کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا: ایران امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی تصدیق کر دی محمود احمدی نژاد اسرائیل کے رجیم چینج کے منصوبے کا حصہ تھے: امریکی اخبار کا دعویٰ عون چودھری کا فضل الرحمان سے شہدا کے لواحقین اور پوری قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ قومی اتحاد، یکجہتی، اداروں کا احترام ملکی استحکام کیلئے ناگزیر ہے: سپیکر پنجاب اسمبلی نیویارک والدین کے لیے پہلی بار مفت “پیرنٹس نائٹ آؤٹ” پروگرام کا آغاز، بچے تفریحی مراکز میں چھوڑنے کی سہولت واشنگٹن: وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایف بی آئی ہیڈکوارٹرز میں ڈائریکٹر کاش پٹیل سے اہم ملاقات، سیکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق ایبٹ آباد: بیکری میں آگ لگنے سے جھلسنے والے 3 مزدور دم توڑ گئے یو اے ای میں امریکی سفارتخانے نے سکیورٹی صورتحال کے باعث قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دیں

بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی نے محسن نقوی سے ملاقات خاندان کو اعتماد میں لیے بغیر کی:علیمہ خان 

Web Desk

24 May 2026

علیمہ خان نے الزام عائد کیا ہے کہ بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی نے محسن نقوی سے ملاقات خاندان کو اعتماد میں لیے بغیر کی۔

علیمہ خان کے مطابق مذکورہ ملاقات کے بارے میں نہ تو خاندان کو آگاہ کیا گیا اور نہ ہی اس میں خاندان کا کوئی فرد موجود تھا، جو ان کے بقول ایک غیر معمولی صورتحال ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی یا خاندان کے اہم معاملات میں شفافیت ضروری ہے اور اس نوعیت کی ملاقاتوں سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔

دوسری جانب مرکزی سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم نے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ملاقات 14 مئی کو ہوئی تھی جس میں امن و امان سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات حکومتی اور سیکیورٹی معاملات کے تناظر میں تھی اور اس کا مقصد صورتحال پر بات چیت تھا۔