LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاسداران انقلاب کا امریکی بحری جہازوں اور 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو شہیدوں کے شہر لاڑکانہ آمد پر خوش آمدید، بلاول بھٹو 6 ستمبر کا دن یاد دلاتا ہے کہ قوم متحد ہو تو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی: صدر زرداری ایران کا برکس ممالک سے ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کا مطالبہ شادی کی تقریب پر حملے میں استعمال ہتھیار امریکی ساختہ تھے، ایرانی عدلیہ ٹرمپ کے نمائندہ وفد کی روسی صدر سے ملاقات، 3 گھنٹے سے زائد مذاکرات جاری رہے ایران کا خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کیلئے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان ایران جنگ سے متعلق معلومات لیک ہونے کی امریکی تحقیقات، ذمے دار کی شناخت نہ ہو سکی یوم دفاع و شہدائے پاکستان کے موقع پر مسلح افواج کا شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت ملک بھر میں یوم دفاع و شہدا آج بھرپور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے یوم دفاع و شہدا ہمیں مسلح افواج اور قوم کی عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، وزیراعظم عوام نے ثابت کردیا، میر پور خاص عمران خان کا قلعہ ہے: سہیل آفریدی آئی پی یو یوتھ کانفرنس کی سربراہی پاکستان کو مل گئی، سینیٹر آغا شاہ زیب صدر منتخب حکومت سے مذاکرات نہ ہوئے تو منگل کو پہیہ جام ہڑتال ہو گی:حافظ نعیم الرحمان بلوچستان کے عوام کا امن، خوشحالی اور فلاح ریاستی کوششوں کا مرکز ہے: فیلڈ مارشل

یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کا ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ، سفارتی حل کی حمایت

Web Desk

19 March 2026

برسلز/تہران: یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں خطے کی کشیدہ صورتحال اور بحری تجارتی گزرگاہوں کی سکیورٹی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

رائٹرز کے مطابق، گفتگو کے دوران کاجا کالاس نے آبنائے ہرمز میں جاری جنگ کے اثرات اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل کی آزادی کی اہمیت پر زور دیا۔ یورپی اہلکار نے بتایا کہ خارجہ امور کی سربراہ نے واضح کیا کہ محفوظ گزرگاہیں یورپ کی اولین ترجیح ہیں، اور انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں بنیادی انفراسٹرکچر پر حملے بند کیے جائیں۔

کاجا کالاس نے مزید کہا کہ یورپی یونین مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر ممکن سفارتی حل کی حمایت کرتی ہے۔ دوسری جانب، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ اس گفتگو کو خطے میں جاری فوجی تناؤ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔