LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی فوج کے کویت میں دو امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملے، اسلحہ ڈپو، ریڈارز تباہ امریکا کے مسلسل آٹھویں رات ایران پر حملے، آبنائے ہرمز کے قریبی شہروں میں دھماکے فٹ بال کے عالمی میلے کا آج رات فیصلہ کن معرکہ، تاج کس کے سر سجے گا؟ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور خوشحالی مسئلہ کشمیر کے حل سے وابستہ ہے: صدر، وزیراعظم طبی تعلیم اور تحقیق میں پاک-امریکہ تعاون کا بڑا معاہدہ؛ نیویارک میں ایم او یو پر دستخط، ٹرمپ کی دعوت پر لبنانی صدر اہلیہ کے ہمراہ واشنگٹن پہنچ گئے متحدہ عرب امارات کا کشیدگی میں فوری کمی اور مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ سعودی اور کویتی وزرائے خارجہ کی خطے میں ایرانی حملوں کی مذمت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، امریکا کا اپنے شہریوں کو دنیا بھر میں محتاط رہنے کا مشورہ امریکی افواج کو ایران کے جوابی اقدامات سے بچنے کیلئے فوری نکل جانا چاہیے، ابراہیم عزیزی ایران نے شمالی عراق کے کرد علاقے سے ملحق دو سرحدی گزر گاہیں بند کر دیں ایران کے شمالی عراق میں کرد اپوزیشن گروپ کے ٹھکانوں پر حملے اربیل میں ڈرون حملوں کے بعد امریکی قونصل خانے کا فضائی دفاعی نظام فعال کردیا گیا ایران کے جنوبی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، ایرانی میڈیا امریکا نے دنیا بھر میں اپنے شہریوں کیلئے سفری الرٹ جاری کردیا

یورپی یونین کی اعلیٰ سفارتکار کا ایرانی وزیر خارجہ سے رابطہ، سفارتی حل کی حمایت

Web Desk

19 March 2026

برسلز/تہران: یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں خطے کی کشیدہ صورتحال اور بحری تجارتی گزرگاہوں کی سکیورٹی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

رائٹرز کے مطابق، گفتگو کے دوران کاجا کالاس نے آبنائے ہرمز میں جاری جنگ کے اثرات اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل کی آزادی کی اہمیت پر زور دیا۔ یورپی اہلکار نے بتایا کہ خارجہ امور کی سربراہ نے واضح کیا کہ محفوظ گزرگاہیں یورپ کی اولین ترجیح ہیں، اور انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں بنیادی انفراسٹرکچر پر حملے بند کیے جائیں۔

کاجا کالاس نے مزید کہا کہ یورپی یونین مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ہر ممکن سفارتی حل کی حمایت کرتی ہے۔ دوسری جانب، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ اس گفتگو کو خطے میں جاری فوجی تناؤ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ایک اہم کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔