LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مراکش نے 650 میل طویل ساحلی شاہراہ کو ٹرمپ کے نام سے منسوب کردیا تیل تنصیبات پر حملے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا حق رکھتے ہیں: سعودی عرب حملے عارضی طور پر روکے، مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی ہوگی: ٹرمپ دوبارہ اقتدار میں آیا تو قطر کو دشمن ریاست قرار دوں گا: نفتالی بینیٹ حوثیوں کا سعودی خام تیل کے ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ٹرمپ سے ملاقات کے ایجنڈے میں ایران سرفہرست ہوگا، نیتن یاہو غزہ پر تشویش کے باوجود جرمنی کی اسرائیل کو اسلحہ برآمدات میں اضافہ یوکرین نے ایران کی دھمکیاں مسترد کر دیں، روسی جارحیت میں براہِ راست شمولیت کا الزام ایران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی، اندرونی معاملات میں مداخلت پر شدید احتجاج سیئٹل فوڈ فیسٹیول میں فائرنگ، ہلاکتیں 3 ہو گئیں، 4 افراد زخمی روس کو ہتھیار دے کر ایران پہلے ہی جنگ میں شامل ہو چکا ہے: زیلنسکی یوکرین بالآخر اپنے مغربی علاقے کھو دے گا: صدر پوتن کا دعویٰ اپر سوات میں غیر معیاری کشتیوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ بدخشان میں طالبان مخالف کارروائیاں تیز، مختلف اضلاع میں جھڑپیں، سییورٹی صورتحال کشیدہ امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے غزہ کی صورتحال کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیدیا

تحفظِ صحافی و میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021 کے تحت آزاد کمیشن کا باضابطہ اجرا

Web Desk

14 November 2025

وفاقی حکومت نے صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ’تحفظِ صحافی و میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021‘ کے تحت آزاد کمیشن کا باضابطہ اجرا کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں کمیشن کے قیام کا نوٹیفکیشن 14 نومبر 2025 کو جاری کر دیا گیا۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق نئے کمیشن میں وزارتِ اطلاعات، وزارتِ انسانی حقوق کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ قومی و صوبائی صحافتی تنظیموں کے نامزد ارکان شامل ہوں گے۔ کمیشن کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ صحافیوں کے خلاف ہونے والے واقعات—جیسے تشدد، دھمکیاں، ہراسگی، جبری گمشدگی، اظہارِ رائے پر قدغن اور پیشہ ورانہ امور میں رکاوٹ—کی نگرانی، انکوائری اور فوری حل کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
کمیشن متاثرہ صحافیوں کو قانونی معاونت کی فراہمی، رپورٹنگ کے دوران درپیش خطرات کے تدارک اور ذمہ دار عناصر کے خلاف عملی سفارشات تیار کرنے کا بھی مجاز ہوگا۔
صحافتی حلقوں نے کمیشن کے قیام کو آزادیٔ اظہار اور محفوظ صحافت کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس اقدام سے صحافیوں کے خلاف جرائم کی روک تھام میں بہتری اور ان کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنیاد فراہم ہوگی۔